پاکستان اور ایران گہرے مذہبی، تاریخی، تہذیبی اور علمی رشتوں میں جڑے ہیں، عرفان صدیقی

خبر کا کوڈ: 1237366 خدمت: ایران
عرفان صدیقی

وزیراعظم کے مشیر برائے قومی تاریخ و ادبی ورثہ عرفان صدیقی نے کہا ہے کہ پاکستان اور ایران گہرے مذہبی، تاریخی، تہذیبی اور علمی رشتوں میں جڑے ہیں، ان رشتوں کا تقاضا ہے علمی و ادب کے شعبوں میں باہمی تعاون کو فروغ دیا جائے۔

خبررساں ادارے تسنیم کے مطابق, وزیراعظم کے مشیر برائے قومی تاریخ و ادبی ورثہ عرفان صدیقی نے اسلام آباد میں موجود ایران کے سفیر مہدی ہنردوست سے ملاقات کے دوران مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا۔

ملاقات میں وزیراعظم کے مشیر برائے قومی تاریخ و ادبی ورثہ نے کہا کہ پاکستان اور ایران گہرے مذہبی، تاریخی، تہذیبی اور علمی رشتوں میں جڑے ہیں، ان رشتوں کا تقاضا ہے کہ علمی و ادب کے شعبوں میں باہمی تعاون کو فروغ دیا جائے۔

ملاقات کے دوران مشیر وزیراعظم عرفان صدیقی نے ایرانی سفیر کو بتایا کہ ان کی وزارت کے تحت ادارہ اکادمی ادبیات میں دارالترجمہ قائم کیا گیا ہے جس کا مقصد مختلف زبانوں کی معیاری کتب اور ادبی اصناف اردو میں ترجمہ کر کے پاکستانی عوام تک پہنچانا ہے تاکہ مختلف اقوام کے ادبی ورثہ کو روشناس کرایا جائے۔

ایرانی سفیر مہدی ہنردوست نے دارالترجمہ کے قیام کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ ہماری خواہش ہے کہ اردو ادب کو فارسی میں ترجمہ کر کے فارسی قارئین تک پہنچایا جائے تاکہ دونوں ممالک کے عوام کو ایک دوسرے کے مزید قریب لانے میں مدد ملے۔

عرفان صدیقی نے کہا کہ ان کی وزارت تہران یونیورسٹی میں قائم کردہ شعبہ اردو اور مشہد میں قائم علامہ اقبال سینٹر کے لئے 22 جلدوں پر مشتمل اردو لغت کے نسخے تحفتاً بھجوائے گی۔

ایرانی سفیر نے ان کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اس سے دونوں ممالک کے درمیان ادب دوستی کا ایک نیا باب کھلے گا۔

ملاقات میں ایران اور پاکستان کے درمیان آرکیالوجی اور میوزیم کے شعبے میں تعاون کے علاوہ کلچرل ایکسچینج پروگرام کو وسعت دینے پر بھی اتفاق کیا گیا تاکہ آرکیالوجی ماہرین کا تبادلہ ہو سکے۔ ادارہ فروغ قومی زبان اور ادارہ فرہنگستان فارسی کی مفاہمت کی یادداشت کے مندرجات پر موثر عملدرآمد کے حوالے سے بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

ایرانی سفیر نے مشیر وزیراعظم عرفان صدیقی کو دورہ ایران کی دعوت دی جو انہوں نے شکریہ کے ساتھ قبول کر لی۔ اس موقع پر قومی تاریخ و ادبی ورثہ ڈویڑن کے جائنٹ سیکرٹریز محمد جنید اخلاق، مشہود احمد مرزا اور سفارت خانہ ایران کے حکام بھی موجود تھے۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری