مذہب کے نام پر شراب کا کاروبار کرنا توہینِ مذہب ہے، ڈاکٹر رمیش کمار ونکوانی

خبر کا کوڈ: 1237557 خدمت: پاکستان
ڈاکٹر رمیش کمار

اسلام آباد میں پاکستان ہندو کونسل کے سرپرست اعلیٰ اور ممبر قومی اسمبلی نے سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ شراب نوشی دنیا کے ہر مذہب میں منع ہے اور ہندو دھرم کے نام پر شراب کی فروخت کے پرمٹ جاری کرنا توہینِ مذہب ہے۔

خبررساں ادارے تسنیم کے مطابق، اسلام آباد میں پاکستان ہندو کونسل کے سرپرست اعلیٰ اور ممبر قومی اسمبلی ڈاکٹر رمیش کمار وانکوانی نے سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اپنے اِس موقف کو دہرایا ہے کہ شراب نوشی دنیا کے ہر مذہب میں منع ہے اور ہندو دھرم کے نام پر شراب کی فروخت کے پرمٹ جاری کرنا توہینِ مذہب ہے۔

ڈاکٹر رمیش کمار ونکوانی نے انتہائی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے دو بڑے وکلا سندھ ہائی کورٹ کے شراب کی فروخت کے خلاف فیصلے کو عدالتِ عظمیٰ میں چیلنج کرنے جا رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ آج میڈیا کے توسط سے میں ان سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ سندھ ہائی کورٹ کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج نہ کریں بصورت دیگر میں خود ہائی کورٹ کے فیصلے کا دفاع کرونگا۔

ڈاکٹر رمیش کمار ونکوانی کا کہنا تھا کہ سندھ میں 99 فیصد غیر ملکی شراب کی فروخت ہندو برادری کے لوگ کرتے ہیں، جس کی وجہ ان کی پاس بے پناہ دولت کا ہونا ہے لیکن یہاں یہ بات قابل توجہ ہے کہ ہندو برادری شراب فروخت کرتی ہے لیکن اس کا استعمال اکثریتی آبادی کرتی ہے جس کی وجہ سے پاکستان ہندو کونسل ایک بار پھر شراب کی خریدوفروخت کے لائسنس کو ہندو برادری سے منسوب کرنے کی مخالفت کرتی ہے۔

ڈاکٹر رمیش کمار ونکوانی نے آئی جی سندھ اور آئی جی بلوچستان سے درخواست کی کہ وہ بلوچستان سے سمگل ہو کر آنے والی شراب کے معاملے کا ازخود نوٹس لیں اور اس سلسلے کی روک تھام کریں۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری