نواز لیگی سینیٹر نہال ہاشمی کے سابق گورنر کے خلاف بیان نے سندھ کی سیاست میں ہلچل مچادی

خبر کا کوڈ: 1237784 خدمت: پاکستان
نہال ہاشمی

سینیٹر نہال ہاشمی نے سابق گورنر ڈاکٹر عشرت العباد کے بارے میں صحافیوں سے بات چیت کے دوران کہا ہے کہ 14 سال بعد گورنر ہاؤس سے دہشت گردی کی آخری علامت بھی مٹا دی ہے جس کے باعث سندھ سمیت ملک بھر میں حکومت اور مخالف جماعتوں کے رہنما رد عمل ظاہر کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔

کراچی سے خبر رساں ادارے تسنیم کے نمائندے نے خبر دی ہے کہ سابق گورنر سندھ کے خلاف پاکستان کی حکمران جماعت مسلم لیگ نواز کے کراچی سے تعلق رکھنے والے سینیٹر نہال ہاشمی کے بیان نے صوبہ سندھ ہی نہیں بلکہ پاکستان بھر میں حکومت اور مخالف جماعتوں کو رد عمل پر مجبور کردیا ہے۔

وزیر مملکت برائے اطلاعات مریم اورنگزیب نے بھی نہال ہاشمی کے بیان کو ان کا ذاتی بیان قرار دے کر لاتعلقی کا اعلان کردیا ہے۔

سینیٹر نہال ہاشمی نے سابق گورنر ڈاکٹر عشرت العباد کے بارے میں جمعہ کو گورنر ہاؤس میں سعید الزمان صدیقی کی تقریب حلف برداری کے موقعے پر صحافیوں سے بات چیت کے دوران کہا کہ 14 سال بعد گورنر ہاؤس سے دہشت گردی کی آخری علامت بھی مٹا دی ہے۔

عشرت العباد کو ایم کیوایم کے کوٹہ پر سابق صدر جنرل پرویز مشرف کے دورحکومت میں گورنر سندھ مقرر کیا گیا تھا۔

پاکستان پیپلزپارٹی کے معروف رہنما اور وزیر اعلیٰ سندھ کے مشیر برائے اطلاعات مولا بخش چانڈیو نے نہال ہاشمی کے بیان پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان مسلم لیگ نواز کی حکومت کے سربراہ وزیر اعظم نواز شریف نے اسی گورنر کے ساتھ امن و امان پر اجلاس منعقد کئے تھے۔

دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کے رکن سندھ اسمبلی خرم شیر زمان نے کہا ہے کہ سینیٹر نہال ہاشمی کا بیان گورنر کے خلاف چارج شیٹ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ سابق  گورنر سندھ کو  ایم کیوایم سے علیحدہ ہونے والے گروہ پاک سرزمین پارٹی کی طرف سے شدید تنقید کا سامنا تھا۔ ان پر ایم کیوایم کے قائد اور پرویز مشرف سے روابط کا الزام بھی لگایا گیا تھا۔

واضح رہے کہ ڈاکٹر عشرت العباد سن 2002 سے گورنر سندھ کے عہدے پر فائز تھے اور اس عرصے میں وہ سابق آرمی چیف پرویز مشرف، پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی حکومت کے دوران وفاق کی نمائندگی کرچکے ہیں۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری