ٹرمپ کے خلاف احتجاج کا سلسلہ شدت اختیار کر گیا/ 60 سے زائد امریکی گرفتار/ تصویری رپورٹ

امریکہ کے مختلف شہروں سے نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف نعرہ بازی، احتجاج، توڑ پھوڑ اور ہائی وے بلاک کرنے والے 60 سے زائد مظاہرین کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔

امریکی احتجاج

خبررساں ادارے تسنیم کے مطابق، امریکی عوام کی جانب سے نو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ تیسرے روز بھی جاری ہے۔

احتجاجی ریلیاں نکالنے والوں نے مختلف نعروں والے بینرز اٹھا رکھے ہیں جس میں ٹرمپ سے نفرت اور خواتین، مسلمان اور تارکین وطن سے اظہار یکجہتی کے لئے نعرے درج ہیں۔

احتجاج کے دوران سینکڑوں لوگوں نے تارکین وطن سے اظہار یکجہتی کے لیے گانے گائے جن کے بول تھے ہمیں تارکین وطن سے کوئی ڈر، کوئی خوف نہیں ہے، ہم تمام تارکین وطن کو دل سے خوش آمدید کہتے ہیں۔

احتجاج کے دوران پرتشدد واقعات بھی سامنے آئے جب مشتعل مظاہرین نے مارچ کے دوران مختلف اسٹور کے شیشے توڑ دیئے، بجلی کے کھمبے، بس اسٹاپ اور دیگر املاک کو بھی نقصان پہنچایا، درختوں اور کوڑا دانوں میں آگ لگادی۔

مشتعل شہریوں نے ایک گاڑی کو بھی نذر آتش کیا اور ٹائر جلا کر  ہائی وے کو بلاک کر دیا۔

مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے پولیس کی جانب سے مرچوں کے اسپرے اور ربڑ کی گیندوں کا استعمال کیا جا رہا ہے جبکہ اس دوران پولیس نے 60 سے زائد شہریوں کو دنگا فساد کرنے کے الزامات پر گرفتار کر لیا ہے۔

امریکہ کے ساتھ ساتھ کچھ حلقوں نے ٹرمپ کے امریکی صدر بننے پر خوف اور احتجاج کے اظہار کے لئے ایک آن لائن مہم شروع کی ہے جس میں  لوگ سیفٹی پن اپنے کپڑوں میں لگا کر یہ واضح کرتے ہیں کہ وہ ڈونلڈ ٹرمپ کے مخالف گروپ کے اتحادی ہیں اور جو بھی نئے منتخب صدر سے خوفزدہ ہیں اس کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہیں۔

امریکہ سمیت دنیا کے مختلف ممالک میں یہ سیفٹی پن مہم چل رہی ہے۔

اسے مہم کو چلانے والوں کا کہنا ہے کہ یہ ننھی سی پن بلند آواز میں بول کر لوگوں کو یقین دہانی کراتی ہے کہ وہ تنہا نہیں ہیں۔

اب یہ تحریک تیزی سے پھیل رہی ہے اور سماجی رابطے کی سائٹس پر اس کی تصاویر بھی پوسٹ ہورہی ہیں۔

ان لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ خواتین، سیاہ فام، مسلمان، تارکین وطن اور دیگر مظلوم گروہوں کے ساتھ حمایت کا اظہار کررہے ہیں جو امریکا میں مقیم ہیں۔

دوسری جانب ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ میڈیا پیشہ ور مظاہرین کو بھڑکا رہا ہے جو ان کے خلاف مظاہرے کررہے ہیں اور یہ انتہائی غیر منصفانہ ہے۔

ٹرمپ نے اپنے خلاف امریکہ بھر میں ہونے والے مظاہروں پر سوشل ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنا رد عمل دیتے ہوئے کہا کہ ان کی کامیابی شفاف صدارتی انتخابات کے ذریعے ہوئی ہے، میڈیا کے اکسائے جانے پر شروع کیے گئے مظاہرے کھلی ناانصافی ہے۔

واضح رہے کہ مبصرین کے مطابق امریکہ کی تاریخ میں یہ پہلی بار ہوا ہے کہ اس قدر لوگ نو منتخب امریکی صدر کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔

مربوط خبریں
اہم ترین دنیا خبریں
اہم ترین خبریں
خبرنگار افتخاری