پاکستان سے نمائندہ تسنیم کی خصوصی رپورٹ/

پاکستان کے خلاف تکفیریوں کا اتحاد

خبر کا کوڈ: 1240917 خدمت: اسلامی بیداری
داعش

پاکستا ن کے خلاف تکفیری اتحاد قائم لیکن حکومت زبانی جمع خرچ میں مصروف ہے. یہ گروہ افغانستان سے بیٹھ کر پاکستان میں منظم دہشت گردی کریں گے۔

خبررساں ادارے تسنیم کی رپورٹ کے مطابق، پاکستان میں غیر قانونی قرار دیئے گئے ہزاروں تکفیری دہشت گرد گروہوں نے پاکستان کی تباہی کے ایجنڈا پر اتفاق و اتحاد کرلیا ہے، یہ گروہ افغانستان سے بیٹھ کر پاکستان میں منظم دہشت گردی کریں گے۔

تسنیم خبررساں ادارے کے نمائندے نے ایک نجی ٹی وی چینل کے انکشاف کی بنیاد پر رپورٹ دی ہے کہ جن آٹھ تکفیری دہشت گرد گروہوں نے پاکستان میں منظم دہشت گردی پر اتفاق کرلیا ہے ان میں سرفہرست لشکر جھنگوی العالمی کے ساتھ دیگر قاری حسین گروپ، خلیفہ عمر منصور گروپ، تحریک طالبان پاکستان کے فضل اللہ گروہ، سجنا گروپ، شہریار گروپ، جنداللہ (جو در حقیقت جندالشیطان گروپ ہے) اور جماعت الاحرار نے اتحاد کرلیا ہے۔

تسنیم خبررساں ادارے کے نمائندے کی ایک اور رپورٹ کے مطابق، بلوچستان کے وزیر داخلہ میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ علی کرد سفیان نامی دہشت گرد افغانستان سے بیٹھ کر دہشت گردوں کو ہدایات جاری کرتا ہے۔

باوجود اس حقیقت کے کہ سارے تکفیری گروہ القاعدہ اور داعش کا نیٹ ورک بھی چلا رہے ہیں لیکن سرفراز بگٹی نے دعویٰ کیا ہے کہ لشکر جھنگوی کا داعش سے تعلق نہیں ہے حالانکہ اس گروہ کا ملک اسحاق داعش سے روابط کی وجہ سے پکڑا گیا تھا اور اس وقت ماراگیا جب اس کے ساتھیوں نے اسے چھڑانے کی کوشش میں پولیس سے مقابلہ کیا تھا۔

سرفراز بگٹی فراموش کرگئے ہیں کہ انٹیلی جنس بیورو کے سربراہ آفتاب سلطان نے اسی سال فروری میں قومی اسمبلی کی اسٹینڈنگ کمیٹی برائے داخلہ کو ایک ان کیمرا بریفنگ میں بتایا تھا کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان داعش کے ساتھ تعاون کررہی ہے۔

یہ حقیقت سبھی کو معلوم ہے کہ لشکر جھنگوی تو بنی ہی طالبان دور حکومت کے تحت افغانستان میں تھی۔ لہٰذا یہ کہہ دینا کہ چونکہ لشکر جھنگوی پاکستان کی ہے اور داعش باہر کی یہ منطقی دلیل نہیں کیونکہ القاعدہ کے عرب بھی طالبان دور کے دوران افغانستان میں تھے اور پاکستان نے انہیں مارا یا پکڑ کر امریکا کے حوالے کیا تھا۔

عرب گروہوں سے پاکستانی اور ازبک گروہوں کا اتحاد بھی کوئی نیا عمل نہیں ہے۔ انٹیلی جنس بیورو کے سربراہ نے دعویٰ کیا تھا کہ داعش کا نیٹ ورک پکڑا جاچکا ہے اور اس کی کمر توڑ دی گئی ہے لیکن حالیہ دنوں میں صوبہ پنجاب اور خیبرپختونخواہ میں داعش کے دہشت گرد ممنوعہ لٹریچر اور بارودی مواد و اسلحہ سمیت پکڑے جاچکے ہیں۔

پیر کی شب گوجرانوالہ سے تین داعشی دہشت گرد پکڑے گئے ہیں۔ میاں چنوں ریلوے اسٹیشن سے بھی ایک دہشت گرد گرفتار کیا گیا ہے۔ درگاہ شاہ نورانی پر خود کش حملے کی ذمے داری بھی داعش نے قبول کی ہے اور اس سے قبل جب کوئٹہ میں دہشت گردی پر تین تکفیری گروہوں نے الگ الگ ذمے داری قبول کی تھی تو سیکیورٹی اداروں کے افسران نے اسی حقیقت کی سمت اشارہ کیا تھا کہ یہ تنظیمیںآپس میں مل کر دہشت گردی کرتی ہیں، اس لیے سرفراز بگٹی کو سوچ سمجھ کر بات کرنا چاہیے۔

سوال یہ ہے کہ تکفیریوں کا اتحاد تو روز اول سے ہی محسوس کیا جارہا ہے لیکن ان زیر زمین گروہوں کے منظر عام پر جو اتحادی و سرپرست چہرے ہیں، ان کو کیوں سرکاری پروٹوکول دیا جاتا رہا ہے؟ انہیں کیوں جلسوں اور ریلیوں کی اجازت دی جاتی رہی ہے جیسا کہ اسلام آباد میں لدھیانوی گروپ کا اجتماع اور اسی گروہ کے اورنگزیب فاروقی کی کراچی میں ریلیاں! انہیں کیوں پکڑ کر سزا نہیں دی جاتی؟ حکام کی پالیسی سے تو یہ لگتا ہے کہ صرف زبانی جمع خرچ پر ہی اکتفا کرلیا گیا ہے اور مختلف اداروں کے حکام کا متضاد موقف یہ ثابت کرتا ہے کہ ان گروہوں کے اصل سرپرستوں کے خلاف کوئی ٹھوس عملی قدم نہیں اٹھایا جاسکے۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری