تحریر : محمد سلیم

اردگان کا دورہ پاکستان : بڑا بھائی ترکی کیا چاہتا ہے؟

خبر کا کوڈ: 1241733 خدمت: پاکستان
ترک صدر

پاکستان کے سرکاری ذرائع کے مطابق ترکی کے صدر رجب طیب اردگان بدھ 16نومبر 2016 کو پاکستان کے دو روزہ دورے پر سینیئر حکومتی عہدیداران اور تاجر برادری کے اعلی سطحی وفد سمیت اسلام آباد پہنچ رہے ہیں۔

ترک صدر وزیر اعظم اور صدر سے الگ الگ تنہائی میں ملاقاتیں بھی کریں گے۔ دوطرفہ تعلقات کے علاوہ علاقائی اور عالمی مسائل پر بھی تبادلہ خیال کریں گے۔

قبل اس کے کہ اس دورے کے بارے میں لب کشائی کریں، یہ اہم نکتہ یاد رہے کہ عملی طور پر حقیقت یہ ہے کہ دنیا میں بہت کم ممالک ایسے ہیں جنہیں ریاست پاکستان کے ذمے داراپنا سگا بھائی اور بڑا بھائی تسلیم کرتے ہیں اور مسلمان ممالک میں سے سعودی عرب اور ترکی ایسے ہی دو بڑے اور سگے بھائی بن چکے ہیں۔

مسیحی سرمایہ دار ممالک میں سرفہرست امریکا اور اس کے برطانیہ جبکہ ہمالیہ سے زیادہ اونچے، سمندر سے زیادہ گہرے اور شہد سے زیادہ میٹھے بڑے بھائی چین سوشلزم و کمیونزم و ماؤ ازم کا ملغوبہ ہیں۔ ان پانچ ممالک کا پاکستان پر اثر و رسوخ ایک ناقابل تردید تاریخی حقیقت ہے۔

یہ الگ بات کہ بظاہر امریکا اور چین دو مخالف کیمپ تصور کیے جاتے ہیں لیکن ہیلری کلنٹن جب وزیر خارجہ تھیں اور پاکستان کے ساتھ افغانستان کے حوالے سے کشیدگی پائی جاتی تھی تب انہوں نے کہا تھا کہ پاکستان کے لیے چین سے بات کریں گی۔ امریکی وفد اس مسئلے پر چین گیا تھا اور وہاں پاکستان کی ہدایت کرنے کی تلقین کی تھی۔

اس واقعہ کا تذکرہ امریکی اسکالر ڈینیئل مارکی کی تصنیف ’’ نو ایگرٹ فرام پاکستان‘‘ میں بھی موجود ہے لیکن دیگر بڑے بھائیوں کی بجائے ترکی کے صدر کے تازہ ترین دورہ آج ہمارا موضوع ہے۔

ترکی کے صدر دو مرتبہ پہلے بھی پاکستان کی پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرچکے ہیں اور 17نومبر بروز جمعرات وہ اپنا یہ ریکارڈ خود ہی توڑکر نیا ریکارڈ قائم کریں گے کہ یہ شرف کسی اور غیر ملکی حکمران کو تاحال نہیں بخشا گیا۔
بلکہ صدر روحانی کو تو یہ اعزاز حاصل ہے کہ انہیں ایک طاقتور ادارے کے سربراہ نے شرف ملاقات بخشتے ہوئے بین الاقوامی سفارتکاری میں ایک نیا رجحان متعارف کروایا کہ کسی سربراہ حکومت سے اس نوعیت کی ملاقات اور اس کے بعد اس قسم کا بیان جاری کردیا گیا کہ جس کی نظیر مل کر نہیں دیتی۔ (ایک اور مرتبہ بات موضوع سے ہٹ رہی ہے، معذرت )

رجب طیب اردگان کے دورے کے بارے میں یہ کہا جانا مناسب ہوگا کہ ان کے پاس خطے کے حالات بہتر بنانے کا سنہری موقع ہے بشرطیکہ وہ عالم اسلام کا درد محسوس کریں۔ ابھی یہ زیادہ پرانی بات نہیں کہ انہوں نے بھارت کے زیر تسلط کشمیر میں حقائق تلاش کرنے کے لئے مشن بھیجنے کا اعلان کیا تھا۔

دو مہینے ہوگئے ، لیکن وہ بیان کاغذی ثابت ہورہا ہے جبکہ شام اور عراق جیسے مسلمان ممالک میں منتخب جمہوری حکومتوں کے ہوتے ہوئے بھی ان حکومتوں کی مرضی کے برخلاف ان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کرتے ہوئے انہیں ایک طویل عرصہ گزر چکا ہے اور وہ اپنی اس پالیسی سے باز نہیں آرہے۔

یہ شرف بھی ان کی حکومت کو حاصل ہے کہ افغانستان میں طالبان کی آڑ میں مسلمانوں کے قتل عام کے لئے بنائی گئی امریکی و نیٹو فورسز میں ترک افواج بھی ان کے شانہ بشانہ مسلمانوں کا قتل عام کرتی رہی۔ دہشت گردی تو آج بھی افغانستان میں ہورہی ہے لیکن جس طالبان حکومت کے خاتمے کی بات کی گئی انہیں ترکی میں دفتر کھول کر دینے کی اجازت بھی رجب طیب اردگان کی حکومت نے ہی دی۔ پھر افغانستان پر جنگ کیوں کی تھی اور وہاں فوجی کیوں بھیجے تھے؟

مرسی کی حکومت ور اخوان المسلمون کی حمایت کے کاغذی بیانات بھی ترک صدر نے صادر کئے لیکن مرسی بے چارے جیل میں ہیں اور مرسی حکومت کے خلاف جنرل سیسی کی پیٹھ تھپکانے والے سعودی عرب کے بادشاہ سے اردگان کے تعلقات ماضی کی نسبت بہت زیادہ اچھے ہوچکے ہیں۔

اسی طرح چین کے ترکستانی مسلمانوں کی حمایت میں بھی ان کے بیانات موجود ہیں لیکن اب چین سے 100بلین ڈالر کی تجارت پر اتفاق کرچکے ہیں۔ ان کے اپنے ملک ترکی میں ان کے بقول کرد مسلمان باغی ہیں یعنی وہ ترک ریاست کو نہیں مانتے۔

کردوں کی ترک باغی تنظیم ہی نہیں بلکہ وہ شام کی کرد تنظیم کے خلاف بھی حملہ آور ہیں۔ کیا کرد مسلمان نہیں؟ کیا ان کی نظر میں مظلوم اور مسلمان صرف وہی ہیں جن کا ایجنڈا صہیونی اسرائیل اور عالمی سامراج امریکا کے اہداف کی تکمیل ہے جیسا کہ شام اور عراق میں دہشت گردی کرنے والے تکفیری دہشت گرد گروہ! عالم اسلام میں تو ان کی اس پالیسی کو منافقت پر مبنی قرار دیا جارہا ہے۔
اس دورے کی ٹائمنگ بھی دیکھیں کہ ترک صدر پاکستان کے دورے پر جبکہ جعلی ریاست اسرائیل کے صہیونی صدر بھارت کے دورے پر ہیں۔ ترکی اور صہیونی ریاست آپس میں دوست ہیں۔ کیا صہیونی صدر کے دورہ بھارت کا اردگانی دورے سے کوئی ربط ہے؟

اس پر غور کیا جانا چاہیے کیونکہ پاکستان کی مشرف حکومت کے دور میں ترکی کی سرزمین پر جعلی ریاست کے ساتھ دوستی کے لیے مکالمے کا آغاز کروایا گیا اور وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری نے یہ تفصیلات اپنی یادداشتوں پر مشتمل کتاب میں بیان کی ہیں۔ یعنی ترکی جعلی ریاست اسرائیل کے سہولت کار کا کردار بھی ادا کرتا آیا ہے۔ ترک صدر کی حکومت نے صہیونیوں کی خوشنودی کے لیے فریڈم فلوٹیلا کے شہداء کے ورثاء کو معاوضہ لینے پر مجبور بھی کیا۔

ایک ایسا ملک اس دوغلی پالیسی کے ساتھ پاکستان سے علاقائی اور عالمی مسائل میں کس نوعیت کا کردار چاہتا ہے؟ کیا پاکستان شام میں اسرائیل کے ایجنٹوں کی مسلط کردہ جنگ میں اپنے فوجی جھونک دے؟

پاکستان کی پارلیمنٹ نے تو سعودی عرب کی مسلط کردہ یمن جنگ میں بھی غیرجانبدار رہنے کی سفارش کی جبکہ شام وہ ملک ہے جس کے دفاع کے لئے 1973 میں پاکستان کے پائلٹ ستار علوی نے بہادری کی لازوال تاریخ رقم مرتب کی۔ ہم کیوں شام کے خلاف صہیونی جنگ کا ایندھن بنیں؟ پاکستان نے بڑی مشکل سے روس کے ساتھ تعلقات اچھے کئے ہیں اور اب اگر شام جنگ میں ترکی کی طرف جھکاؤ ہوا تو روس کے ساتھ تعلقات کی قربانی علیحدہ سے کرنا ہوگی، ایران تو ویسے ہی سوتیلا بھائی بنادیا گیا ہے۔

ترک صدر کو چاہیے کہ اپنی اسلام دشمن اور صہیونیت دوست خارجہ پالیسی کو تبدیل کرے۔ کشمیریوں کو جھوٹے آسرے نہ دے۔ کشمیریوں کی مدد نہیں کرسکتا تو کھوکھلے اعلانات بھی نہ کرے۔

شام اور عراق کے اندرونی معاملات میں مداخلت کی بجائے ان ممالک کی منتخب جمہوری حکومتوں کی حیثیت کو تسلیم کرتے ہوئے ان سے تعلقات اچھے کرے۔

بہت زیادہ جنگجوئی کا شوق ہے تو مرسی کو مصر کی جیل سے آزاد کروانے اور برسر اقتدار لانے کے لئے جنرل سیسی کی حکومت پر حملہ کرے۔ بہت شوق ہے تو غزہ کا محاصرہ ختم کرکے دکھائے اور حماس کی حکومت بحال کر نے کے لئے تل ابیب پر حملہ کرے۔ کشمیریوں کو آزادی دلانی ہے تو بھارت پر حملہ کرے۔ شام اور عراق میں صہیونی جنگ کا ایندھن بن کر اردگان نے عالم اسلام کو مایوس کیا ہے۔

اب پاکستان میں فتح اللہ گولن کے نیٹ ورک کے تحت چلنے والے ترک اسکولوں کے خلاف کریک ڈاؤن بھی اس سگے بڑے بھائی کے کہنے پر کیا جارہا ہے۔ پہلے مرحلے میں ایسے اسکولوں کے پرنسپل کو تبدیل کرنے کا فیصلہ ہوا تھا اور اب اطلاعات یہ ہیں کہ پورا اسٹاف ہی تبدیل کیا جارہا ہے اور انہیں ملک بدر کیا جارہا ہے۔

فتح اللہ گولن اور ترک صدر کے جھگڑے کی جنگ میں پاکستان کی سرزمین کیوں استعمال کی جارہی ہے؟ اگر گولن کےاسکولوں نے پاکستان کے قوانین کی خلاف ورزی نہیں کی تو پھر یہ کارروائی کس خوشی میں؟

پاکستان اور ترکی کے حکمران خطے میں ترقی و کامیابیوں کے نئے دور کی بنیاد رکھ سکتے ہیں بشرطیکہ وہ علاقائی تنظیم ای سی او کو صحیح معنوں میں فعال کردیں ۔ پاکستان ایران ترکی کا سہ طرفہ اتحاد تین ملکی اقتصادی خوشحالی کی راہیں کھول سکتا ہے۔

پاکستان کی مصنوعات ایران کے راستے ترکی اور ترکی سے یورپ تک جاسکتی ہیں، یہ سب سے مختصر اور سستا حل ہے یورپ کی منڈیوں تک پہنچنے کے لیے۔

پاکستان اور ترکی کو چاہیے کہ سعودی عرب سمیت خلیجی عرب ریاستوں کو اسلام دشمن عرب دشمن پالیسیوں سے باز رہنے کی تاکید کریں تاکہ یمن جنگ جلد ختم ہوجائے۔ پاکستان کے حکمران اردگان کو سمجھائیں کہ شام و عراق کے بارے میں بھی اپنی پالیسی تبدیل کرے تاکہ عالم اسلام کی مشکلات کا ازالہ ہوسکے۔

نوٹ:تسنیم نیوز ایجنسی کا مقالے میں دئے گئے مواد اور خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری