روحانی کے بعد باری اردگان کی ہے!!!

مختلف ممالک کے صدور کے پاکستان دوروں کے دوران اندرونی مسائل کا حساب چکانے کا سلسلہ جاری

خبر کا کوڈ: 1241794 خدمت: پاکستان
عمران خان

ماہرین کا کہنا ہے کہ عمران خان ترک صدر کے پاکستان دورے کے دوران نواز شریف سے انتقام لینے پر تلے ہوئے ہیں اس لئے اعلان کیا ہے کہ جب تک سپریم کورٹ میں پاناما کیس چل رہا ہے ہم پارلیمنٹ نہیں جائیں گے۔

خبررساں ادارے تسنیم کے مطابق، بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کے بلوچستان سے گرفتار ہونے پر ایک جھوٹے اور بےبنیاد پروپگنڈے کا سہارا لے کر پاکستان ترقی دشمنوں نے ایرانی صدر حسن روحانی کے دورہ پاکستان میں رکاوٹیں پیدا کی تھیں تاہم تحقیقات کے بعد ثابت ہوگیا تھا کہ اس سے ایران کا کوئی تعلق نہیں تھا۔

آج تاریخ اپنے آپ کو دہرا رہی ہے جب ترک صدر کے دورہ پاکستان کے دوران پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کا تحریک انصاف نے بائیکاٹ کر دیا ہے۔

بنی گالہ میں تحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ پوری قوم نے پاناما معاملے پر دیکھا ہے کہ حکومت جھوٹ پر جھوٹ  بول رہی ہے۔

عمران خان نے نکتہ اٹھایا کہ نواز شریف کرپشن کے الزامات کے باعث وزیراعظم کے عہدے پر نہیں رہ سکتے۔ ان کا مؤقف تھا کہ نواز شریف کو پہلے خود کو تلاشی کے لیے پیش کر دینا چاہیے تھا۔

انہوں نے ماضی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ نواز شریف نے پیپلز پارٹی کے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی سے مطالبہ کیا تھا کہ ان کے خلاف مقدمے کے فیصلے تک مستعفی ہوجائیں ۔ اب وہ بھی نواز شریف سے وہی مطالبہ کررہے ہیں۔

پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں شرکت سے متعلق عمران خان کا کہنا تھا کہ ترکی کے سفیر نے ان سے اپیل کی تھی کہ وہ ترک صدر کی آمد کے موقع پر پارلیمنٹ کے اجلاس کا بائیکاٹ ختم کردیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ ہم ترک سفیر کی درخواست کو قدر کی نگاہ سےدیکھتےہیں اور ہم ترک صدر کو خوش آمدید کہتے ہیں لیکن ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ تحریک انصاف پارلیمنٹ کے بائیکاٹ پر قائم رہے گی اور اس کی واحد وجہ نواز شریف ہیں۔

چئیرمین تحریک انصاف نے دو حرفی بیان دے کر اپنا مؤقف واضح کر دیا ہے کہ جب تک سپریم کورٹ میں پاناما کیس چل رہا ہے ہم پارلیمنٹ نہیں جائیں گے۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری