تسنیم کے ساتھ ریٹائرڈ ترک ریئر ایڈمرل اور وطن پارٹی کے نائب سربراہ کا مکالمہ;

سعودی عرب کے بارے میں ترکی کی پالیسی غلط ہے/ خطے میں ترکی کا اہم ترین شریک ایران ہی ہوسکتا ہے

خبر کا کوڈ: 1241983 خدمت: انٹرویو
سونر پولات

ریٹائرڈ ترک ریئر ایڈمرل اور وطن پارٹی کے نائب سربراہ کا کہنا ہے کہ خطے میں ترکی کا اہم ترین شریک ایران ہی ہوسکتا ہے۔ مجھے اگر ترکی میں کوئی ذمہ داری سونپی گئی ہوتی تو میں تمام تر معاملات کو چھوڑ دیتا اور سب سے پہلا کام جو میرا مطمع نظر ہوتا یہ ہوتا کہ ایران ـ ترکی کے تعلقات کی بنیاد نئے سرے سے دو طرفہ اعتماد کی بنیاد پر رکھ لیتا۔

خبررساں ادارہ تسنیم: ترکی کی جماعت "وطن پارٹی" کے نائب سربراہ کا کہنا تھا کہ چونکہ ایران کے مغرب کے ساتھ اختلافات ہیں، اسی وجہ سے شنگھائی تنظیم نے اس کو رکنیت نہیں دی اور اس کو صرف مبصر کے عنوان سے قبول کیا اور اب بھی یہ تنظیم نازنخرے کر رہی ہے۔

ترک بحریہ کے ریٹائرڈ ریئر ایڈمرل اور اس ملک کی سیاسی جماعت "وطن پارٹی" کے نائب سربراہ سونر پولات [Soner Polat] نے استنبول میں خبررساں ادارے تسنیم کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے ایران ـ ترکی تعلقات کے فروغ اور اس کے علاقائی اور بین الاقوامی اثرات پر روشنی ڈالی۔

تسنیم: آپ نے متعدد بار ایران اور ترکی کے درمیان تعلقات کے فروغ پر زور دیا ہے؛ کیا آپ اپنے موقف کے دلائل پیش کرنا چاہیں گے؟

پولات: میں نے ایک کتاب بعنوان "سیاسی جغرافیائی راستہ برائے ترکی" (Geopolitical Route for Turkey) میں، ایران کے کردار پر، ترکی کو مکمل کردینے والے اہم ترین ملک کے طور پر زورد یا ہے۔ میں جمہوریہ آذربائیجان کی بات نہیں کرتا جس کے تعلقات ترکی کے ساتھ "ایک قوم اور دو ریاستوں" کے عنوان سے جانے جاتے ہیں، حتی کہ شام اور عراق کی بات بھی نہیں کرتا، کیونکہ صرف ایران ہی یہ طاقت رکھتا ہے۔

ترکی اور ایران دو علاقائی حریف کے طور پر پہچانے جاتے ہیں۔ حریف ہونے کی یہ کیفیت کسی حد تک قابل قبول ہوسکتی ہے، لیکن علاقائی حالات دونوں کو مشترکہ تعاون پر مجبور کرتے ہیں، کیونکہ عالمی استعماری نظام ان دو ملکوں کو کبھی بھی چین سے بیٹھنے نہیں دیتا ہے۔ اس نکتے پر بھی تاکید کرتا چلوں کہ یوروایشیا ایسوسی ایشن ایران اور ترکی کے تعاون کے بغیر ان میں سے کسی کے لئے ایک پسندیدہ انتخاب نہیں ہوگی۔

میں چونکہ مسلح افواج کے جنرل اسٹاف کے انٹیلیجنس کے شعبے کا سربراہ تھا، اسی لئے اچھی طرح جانتا ہوں کہ شنگھائی تعاون تنظیم نے ایران کو صرف اس وجہ سے مستقل رکنیت نہیں دی کہ ایران کے مغرب کے ساتھ کچھ مسائل ہیں، لہذا اس تنظیم نے ایران کو صرف مبصر کی حیثیت سے ہی برقرار رکھا، اور ابھی تک اس سلسلے میں ناز نخرے کررہی ہے۔ چنانچہ اگر ایران اور ترکی متحد ہوجائیں تو مغرب کیے مد مقابل بھی اور یوروایشیا کے مدمقابل بھی زیادہ طاقتور اور زیادہ محفوظ ہونگے۔

ہم چاہیں یا نہ چاہیں، ایران اور ترکی اتحاد ایسے حالات فراہم کرے گا کہ لبنان، اردن اور حتی عراق، شام اور آذربائیجان ایک واحد جغرافئے کا حصہ بن جائیں گے۔ اس صورت میں اگر ترکی مغرب کے ساتھ اپنے محاذ میں کوئی کامیابی حاصل کرے، تو ان کے حملوں کی صورت میں ایران کی پناہ حاصل کرے گا اور دوسری طرف سے ایران بھی ترکی کے ذریعے بڑی کامیابیاں حاصل کرسکتا ہے۔ ایران ترکی کے ذریعے یورپ سے اور ترکی ایران کے ذریعے ایشیا سے متصل ہوتا ہے۔

بدقسمتی سے یہ موضوع ترکی میں بھی اور ایران میں، اچھی طرح نہیں سمجھا جاسکا ہے۔ گوکہ یہ عمل یکبارگی سے اور یکایک انجام تک نہیں پہنچے گا بلکہ اس کے لئے آہستہ آہستہ اور اطمینان بخش قدم اٹھانے کی ضرورت ہے۔ اس طرح کے موضوعات پر ہونے والے بحثوں کی اشاعت کو وسعت دینا چاہئے۔ ترکی اور ایران میں ان مفکرین کو کانفرنسوں اور اجلاسوں کے انعقاد کے ذریعے موقع فراہم کرنا چاہئے جو ان موضوعات پر کام کرتے ہیں۔ ان مفکرین کو ایران اور ترکی کی دو طرفہ دعوتوں سے بارہا و بارہا دونوں ملکوں کے دورے کرنا چاہئیں تاکہ وہ ایران اور ترکی کے درمیان اتحاد قائم کرنے کے لئے اہم اقدامات عمل میں لائیں۔

ایران اور ترکی کے درمیان مشترکہ تعاون صرف ایک سیاسی حکمت عملی نہیں ہے بلکہ یہ ایک سیاسی جغرافیائی [Geopolitical] مجبوری ہے۔ دو ملکوں کے تمام تر اداروں کی ذمہ داری ہے کہ اس مسئلے کو غائرانہ انداز سے واضح کریں۔ میں نے ترکی کے تمام تر علاقوں کے دورے کئے ہیں اور ہر مقام پر کانفرنسیں منعقد کی ہیں۔ میں نے مختلف یورپی ممالک کے دورے کئے ہیں اور وہاں صرف ایک مسئلے کو بیان کرتا رہا ہوں اور وہ یہ ہے کہ خطے میں ترکی کا اہم ترین شریک ایران ہی ہوسکتا ہے۔ مجھے اگر ترکی میں کوئی ذمہ داری سونپی گئی ہوتی تو میں تمام تر معاملات کو چھوڑ دیتا اور سب سے پہلا کام جو میرا مطمع نظر ہوتا یہ ہوتا کہ ایران ـ ترکی کے تعلقات کی بنیاد نئے سرے سے دو طرفہ اعتماد کی بنیاد پر رکھ لیتا۔ 

ترکی ایران کی مختلف النوع ضروریات پوری کرسکتا ہے، نیز ایران توانائی کے شعبے میں ترکی کی ضروریات کو پورا کرسکتا ہے اور دو ملکوں کا اتحاد نہ صرف ان دو ملکوں کو مستحکم اور طاقتور بناتا ہے بلکہ پورے علاقے کے امن و استحکام کے اسباب بھی فراہم کرتا ہے۔ یہ اتحاد سعودی عرب، قطر اور کویت جیسے ممالک کے حکومتوں کے زوال کے اسباب فراہم کرتا ہے جو کہ امریکہ سے وابستہ ہیں۔ ایران اور ترکی کے درمیان اتحاد شیعہ اور سنی اتحاد کو نمایاں کرتا ہے جس کے نتیجےمیں سعودی عرب، قطر اور کویت کی حکومتیں برسر اقتدار رہنے کی قوت کھو جائیں گی اور ان ملکوں میں استعمار مخالف اور قوم پرست حکومتیں برسر اقتدار آئیں گی۔

تسنیم:ترکی میں 15 جولائی کی ناکام فوجی بغاوت کے بعد نئے دور کا آغاز ہوا ہے۔ اس نئے دور کے آغاز میں ترکی کی پالیسیوں میں نمایاں تبدیلی آئی۔ اس وقت ایران میں ترکی کی پالیسیوں کی تبدیلیوں میں دو قسم کی رائیں پائی جاتی ہیں؛ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی کی علاقائی پالیسیوں میں ـ بالخصوص عراق اور شام کے سلسلے میں ـ تبدیلی آئی ہے، لیکن بعض دوسروں کا خیال ہے کہ ترک حکومت نے اپنی تزویری حکمت عملی کو تبدیل نہیں کیا بلکہ اس کا طریقہ کار بدل گیا ہے اور مذکورہ جماعت پھر بھی عراق اور شام کے اندرونی معاملات میں مداخلت کررہا ہے اور اس کا ظاہری بھیس البتہ بدلا جا چکا ہے۔ آپ اس بارے میں کیا کہیں گے؟

پولات: موجودہ حالات میں ہمیں حقیقت پسند ہونا چاہئے۔ امریکہ کہتا ہے کہ کردستان ورکرز پارٹی (PKK) کی شامی شاخ ڈیموکریٹک اتحاد پارٹی (PYD) شام کے شمال میں امریکی فوج کے عنوان سے تعینات ہے۔ ترک حکومت نے 24 جولائی 2015 کو امریکہ کے زیر قبضہ شمالی عراق میں پی کے کے کو شدید فضائی حملوں کا نشانہ بنایا اور بعدازاں ترکی کے اندر بھی اس تنظیم کے خلاف زمینی جنگ جاری رکھی، حالانکہ امریکہ ڈیموکریٹک اتحاد پارٹی (PYD) اور پیپلز پروٹیکشن یونٹس (YPG) کو اپنی زمینی فوج سمجھتا تھا اور مغربی ممالک بھی اس امریکی موقف کی حمایت کررہے تھے۔ ترکی نے شام کے شمال میں فرات شیلڈ آپریشن کا اہتمام کیا اور پی وائی ڈی پر حملے کئے، ترکی کے یہ تمام حملے امریکہ کے خلاف ہیں اور استعمار مخالف ہیں۔

حقائق کو دیکھنا چاہئے۔ ترکی کی فرات شیلڈ نامی کاروائی امریکیوں کے لئے ناقابل قبول تھی اور امریکہ سرے سے اس کاروائی کے خلاف تھا اور اس کی جزئیات کی بھی مخالفت کرتا رہا لیکن بظاہر اس مخالفت کا اظہار و اعلان نہیں کرسکتا تھا کیونکہ اس کو اندیشہ تھا کہ ترکی کہیں یوروایشیا اتحاد میں شامل نہ ہو اور اگر ایسا ہوتا تو نہ صرف امریکہ کے علاقائی مفادات کو خطرہ لاحق ہوتا بلکہ اس کے بین الاقوامی مفادات بھی خطرے میں پڑ جاتے۔

اس وقت ایران، روس اور شام کو چاہئے کہ اس مسئلے کا صحیح تجزیہ کریں اور ترکی کے ساتھ مشترکہ تعاون کے راستوں کا جائزہ لیں اور روٹھ جانے کے بجائے اتحاد اور یکجہتی کے ساتھ شام کے مسئلے کے حل کا اہتمام کریں۔ ایران، شام اور ترکی کو شام کے مستقبل کے سلسلے میں مذاکرات کا سلسلہ شروع کرنا چاہئے اور فرات شیلڈ نامی کاروائی کے اہداف و مقاصد کا صحیح انداز سے تجزیہ کریں اور ترکی سچائی کے ساتھ وضاحت کرے کہ اس کاروائی کا مقصد شام کے شمال میں کرد دہشت گرد کوریڈور کے قیام کا سد باب کرنا ہے۔

اس کاروائی کا اصل نشانہ داعش نہیں ہے، داعش امریکہ کے ہاتھ میں ایک بازیچہ ہے جس کو امریکہ نے خود ہی تشکیل دیا ہے۔ میں نے کبھی بھی داعش کو ایک سنجیدہ شیئے تصور نہیں کیا۔ فرات شیلڈ کا مقصد ترکی کے جنوب میں کرد دہشت گرد کوریڈور کی تشکیل کا انسداد تھا اور کوئی بھی ملک پسند نہیں کرتا کہ ایک دہشت گرد ٹولہ اس کی سرحدوں کے پاس حکومت قائم کرے۔

اس وقت ترکی اپنے اہداف و مقاصد کی تشریح کے لئے صحیح پالیسی اختیار نہیں کرسکتا کیونکہ یہ ملک 1952 سے نیٹو کا رکن ہے اور مغربی نظام اس کے ڈھانچے میں جڑ پکڑ چکا ہے اور اس نظام میں ایک روز ضرور دراڑ  پڑے گی اور جس وقت معقول سفارتکاری ترکی کے نظام حکومت میں داخل ہوگی یہ دراڑ مزید گہری ہوجائے گی۔

جاری ہے ۔۔۔۔۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری