پاک ترک اسکول کے عملے نے ملک بدری کے حکم کو عدالت میں چیلنج کر دیا

خبر کا کوڈ: 1242475 خدمت: پاکستان
پاک ترک اسکولز

پاک ترک اسکولز کے اساتذہ کو 3 دن میں ملک چھوڑنے اور وجہ بتائے بغیر ویزوں میں توسیع نہ دینے کے احکامات اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیئے گئے ہیں۔

خبررساں ادارے تسنیم کے مطابق، پاک ترک اسکولوں کے چیئرمین عالمگیر خان سمیت 3 اساتذہ نے تین دن میں ملک چھوڑنے اور وجہ بتائے بغیر ویزوں میں توسیع نہ دینے کا حکم اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کردیا ہے۔

درخواست گزاروں کی جانب سے دائر درخواست میں مؤقف اپنایا گیا کہ 22 جون کو ویزہ میں توسیع کی درخواست دی گئی تھی جسے وزارت داخلہ کی جانب سے وجہ بتائے بغیر 11 نومبر کو مسترد کر دیا گیا ہے۔

درخواست گزاروں نے اپنے مؤقف میں مزید بتایا ہے کہ 14 نومبر کو وزارت داخلہ نے تین دنوں میں ملک چھوڑنے کا حکم بھی جاری کر دیا ہے۔

درخواست میں نکتہ اٹھایا گیا ہے کہ اگر ترک اساتذہ 3 دنوں میں ملک چھوڑتے ہیں تو ملک بھر میں 26 پاک ترک اسکولوں میں 11 ہزار طالب علموں کا تعلیمی سال بری طرح متاثر ہو گا اور 108 ترک اساتذہ کی واپسی سے ان کے خاندانوں کے 400 افراد بھی متاثر ہوں گے۔

درخواست گزاروں کا مؤقف ہے کہ ان کے اپنے بچے بھی پاک ترک اسکولوں میں زیرِ تعلیم ہیں جن کا سیشن مارچ 2017 میں اختتام پذیر ہو گا۔

لہٰذا درخواست گزاروں نے عدالت سے استدعا کی کہ 3 دنوں میں وزارت داخلہ کی جانب سے ملک چھوڑنے کے حکم کو کالعدم قرار دیا جائے اور تعلیمی سیشن کے اختتام تک ترک اساتذہ کے ویزوں میں توسیع اور ملک میں قیام کی اجازت دی جائے۔

یاد رہے کہ ترک صدر رجب طیب اردوگان کے دورہ پاکستان کے موقع پر وفاقی حکومت نے فتح اللہ گولن کی تنظیم پاک ترک آرگنائزیشن کے ملازمین کو آئندہ 3 روز میں پاکستان چھوڑنے کا حکم دیا تھا جبکہ وزارت داخلہ نے 400 ملازمین کے ویزے بھی منسوخ کردیئے ہیں۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری