خصوصی رپورٹ/

بیت المقدس میں حالیہ اسرائیلی اقدامات کے اثرات اور پس پردہ محرکات

خبر کا کوڈ: 1242583 خدمت: دنیا
مسجدالاقصی

اسلامی مزاحمتی تحریک کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ غاصب اسرائیلی حکام مقامات مقدسہ میں یہودیوں کے علاوہ ہر انسان کی آواز کو دبا کر بیت القدس سے مسلمانوں کو بے دخل کرنا چاہتے ہیں۔

تسنیم خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق، اسرائیلی غاصب اور نسل پرست حکام نے بیت القدس کی مساجد میں اذان پر پابندی لگا کر اپنے نسل پرست ہونے کا ایک بار پھر ثبوت دیا ہے۔

واضح رہے کہ اسرائیلی بلدیہ نےمسجد اقصیٰ سمیت بیت المقدس کی تمام مساجد میں اذان پر پابندی کے لیے تجاویز حکومت کے سامنے پیش کئے تھے جس کی اسرائیلی کابینہ نے باقاعدہ منظوری دے دی ہے۔

اسرائیلی جیل سے رہائی پانے والے فلسطینی رہنما ''فواد الرازم'' نے تسنیم نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا: اس قسم کے  اسرائیلی متعصبانہ اور نسل پرستانہ اقدامات میں کئی پس پردہ محرکات پوشیدہ ہیں۔

فواد کا کہنا تھا کہ اسرائیلی حکام کا اصل مقصد فلسطین بالخصوص بیت المقدس کی سرزمین سے مسلمانوں کو کلی طور پر بے دخل کرنا ہے۔

انہوں نے مزید کہاکہ  اسرائیل ان اقدامات کے ذریعے مسلمانوں کے املاک اور مکانات پر ناجائز قبضہ جمانا چاہتا ہے۔

اسرائیل فلسطین کو ایک یہودی ریاست بنانے پر تلا ہوا ہے اسی وجہ سے مسلمانوں کے خلاف مختلف قسم کے اقدامات کرتا رہتا ہے ۔

فلسطینی وزیر ثقافت''محمد المدہون'' کا تسنیم نیوز کو انٹریو دیتے ہوئے کہنا تھا کہ اذان پر پابندی  مسلمانوں کے لئے نہایت خطرناک ہے کیونکہ ایسے اقدامات میں پس پردہ مختلف قسم کے محرکات پوشیدہ ہیں اسرائیلی حکام اس طرح کی حرکتوں سے مسلمانوں کو ان کے آبائی سرزمین سے بے دخل کرنا چاہتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا ہم کسی بھی صورت اذان پر پابندی کو قبول نہیں کریں گے۔

محمد المدہون کا مزید کہنا تھا کہ اذان دین مبین اسلام کے شعائر میں سے ایک ہے لہٰذا کسی بھی صورت، اذان پر پابندی قابل قبول نہیں ہے۔

اسلامی مزاحمتی تحریک کے راہنما ''سمیر زہوت'' کا اسرائیلی حکام کے حالیہ اقدامات اور اذان پر پابندی کے خلاف اظہار خیال کرتے ہوئے کہنا تھا: بیت المقدس میں اذان پر پابندی در اصل عرب دنیا کے مسلمانوں کے منہ پر ایک زور دار طمانچہ ہے۔

انہوں نے کہا اعراب کو چلو بھر پانی میں ڈوب مرجانا چاہئے۔ ایک ایران کے علاوہ کسی نے بھی اسرائیل کے حالیہ اقدامات کے خلاف زبان تک نہیں کھولی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل کا اصل مقصد اسلامی مزاحمتی تحریک کو کچلنا ہے اور اس کے علاوہ اسلامی تحریک کو سپورٹ کرنے والے افراد خاص کر شیخ رائد کو راستے سے ہٹانا ہے۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری