پیدائشی ریکارڈ کے مطابق،

روسی نہ پاکستانی؛ ڈونلڈ ٹرمپ امریکی ہیں

خبر کا کوڈ: 1243233 خدمت: دنیا
ٹرمپ

امریکی نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قومیت سے متعلق تمام افواہیں دم توڑ گئی ہیں اور یہ ثابت ہو گیا ہے کہ ٹرمپ امریکی ہیں۔

خبررساں ادارے تسنیم کے مطابق، چند روز سے امریکی صدارتی انتخابات میں کامیاب ہونے والے ڈونلڈ ٹرمپ کی قومیت سے متعلق مختلف افواہیں گردش کر رہی ہیں۔

کوئی ان کو روسی بنانے پر تلا ہے تو کوئی ان کو پاکستانی بناتا ہے۔

ایک دلچسپ افواہ کے مطابق، ڈونلڈ ٹرمپ پاکستانی ہیں جن کا اصل نام داؤد ابراہیم خان ہے اور وہ 14 جون 1946 کو شمالی وزیرستان میں ایک مسلمان گھرانے میں پیدا ہوئے اور ایک مقامی مدرسے سے تعلیم حاصل کی۔

1954 میں ایک حادثے کے نتیجے میں ان کے والدین کے چل بسنے کے بعد 1955 میں برٹش انڈین آرمی کے ایک ریٹائرڈ کیپٹن اسٹاک ڈیل ان کو برطانیہ لے گئے۔

بعد ازیں برطانیہ سے کوئینز، نیویارک سے تعلق رکھنے والے ایک جوڑے فریڈ ٹرمپ اور ماری ٹرمپ نے داؤد کو گود لے لیا اور وہ ان کے ساتھ امریکہ چلےگئے۔

اس طرح وہ بچہ داؤد خان سے ڈونلڈ ٹرمپ بن گیا۔

مندرجہ بالا کہانی کے علاوہ چند روز قبل ایک اور افواہ سامنے آئی جس میں دعویٰ کیا گیا کہ ڈونلڈ ٹرمپ روسی ہیں۔

برطانوی روزنامے ٹائمز نے ایک مقالے ''ٹرمپ روسی حاکمیت کا سلسلہ'' میں انکشاف کیا تھا کہ امریکی نومنتخب صدر ٹرمپ امریکی نہیں بلکہ ان کا اصل تعلق روس کے بانی خاندان سے ہے۔

روزنامہ نے دعویٰ کیا ہے کہ ٹرمپ روس کے بانی ''روریک'' کی اولاد میں سے ہے۔

مارک بینیٹنز نے اپنے مقالے میں مزید لکھا ہے کہ ٹرمپ کی شجرہ نسب کی چھان بین سے معلوم ہوا ہے کہ ٹرمپ کی والدہ کا تعلق روس کے بانی ''روریک'' کی اولاد سے ہے۔

مقالہ نگار کا دعویٰ تھا کہ  ٹرمپ کی والدہ ''ماری آن ٹرمپ'' 1912ء کو اسکاٹ لینڈ میں پیدا ہوئیں اور 17 سال کی عمر میں امریکہ منتقل ہوگئی تھیں۔

روزنامہ ٹائمز کے مطابق، ٹرمپ روریک کی 36ویں نسل سے ہیں۔

تاہم  ڈونلڈ ٹرمپ کے پیدایشی ریکارڈ (برتھ سرٹیفیکیٹ) کے منظر عام پر آنے سے یہ تمام افواہیں دم توڑ گئی ہیں۔

پیش خدمت دستاویز سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ پاکستانی یا روسی نہیں بلکہ امریکی ہیں اور ان کا نام داؤد ابراہیم خان یا کچھ اور نہیں بلکہ ہمیشہ سے ڈونلڈ جون ٹرمپ تھا اور وہ کوئینز، نیویارک امریکہ میں پیدا ہوئے تھے۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری