عالمی شہریت یافتہ پاکستانی کوہ پیما حسن سدپارہ اپنے خالق حقیقی سے جا ملے

خبر کا کوڈ: 1246212 خدمت: پاکستان
حسن سدپارا

8 ہزار میٹر بلند 8 چوٹیاں سر کر کے پاکستان کا نام روشن کرنے والے حسن سدپارا جو عرصے سے راولپنڈی کے ایک ہسپتال میں حکومتی امداد کے منتظر تھے، اپنے خالق حقیقی سے جا ملے ہیں۔

خبررساں ادارے تسنیم کے مطابق، دنیا بھر کی بلند چوٹیوں اور پہاڑوں پر پاکستان کا پرچم سربلند کرنے والے عالمی شہرت یافتہ کوہ پیما حسن سدپارہ راولپنڈی میں 53 برس کی عمر میں انتقال کرگئے ہیں۔

حسن سدپارہ وہ پہلے پاکستانی کوہ پیما تھے جنہوں نے 8 ہزار میٹر بلند 8 چوٹیوں کو سر کرکے تاریخ رقم کی ہے۔

پاکستان کا وہی شیردل بیٹا ایک موذی مرض کا شکار ہو کر راولپنڈی کے ایک ہسپتال میں زندگی اور موت کے درمیان جھول رہے تھے۔

حسن سد پارا کا تعلق اسکردو کے نواحی گاؤں سدپارا سے تھا اور وہ ماونٹ ایورسٹ، کے ٹو، نانگاپربت اور براڈپیک کو بغیر مصنوعی آکسیجن سر کرنے کا منفرد اعزاز رکھتے تھے۔

پاکستان کی جانب سے 3 عالمی ریکارڈ بنانے والے خون کے سرطان جیسے موذی مرض میں مبتلا تھے۔

اس مہلک اور جان لیوا مرض کا علاج بہت مہنگا تھا اور حسن سد پارا خود اس کے اخراجات برداشت نہیں کر سکتے تھے لہٰذا ان کے بیٹے نے حکومت  پاکستان سے مالی امداد کی اپیل کی تھی۔ وفاقی اور صوبائی حکومت نے انکے علاج کے لئے زبانی دعویٰ تو کیا تھا لیکن بدقسمتی سے عملی طور پر کوئی پیش رفت نہیں ہوسکی جس کی وجہ سے وہ اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔

خود حسن سد پارا کا کہنا تھا کہ وہ قومی ہیرو ہیں، سخت سرد موسم میں دنیا کی بلند ترین چوٹی کو سر کیا اور اس پر قومی پرچم لہرایا۔

وہ کہا کرتے تھے کہ میرے علیل ہونے پر کسی حکومتی نمائندے نے ان سے رابطہ نہیں کیا۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری