موصل جنگ میں ایرانی فوج شامل نہیں ہے/ داعش کو ختم کرنے کے لئے عراقی فوج اور مجاہدین کافی ہیں

خبر کا کوڈ: 1249223 خدمت: ایران
مراسم اختتامیه نمایشگاه کتاب دفاع مقدس با حضور سرلشکر جعفری فرمانده کل سپاه پاسداران انقلاب اسلامی

سپاہ پاسداران فورس کے کمانڈر کا کہنا ہے کہ موصل کی آزادی میں ایرانی فوج حصہ نہیں لے رہی، خود عراقی فورسز اس شہر کی آزادی کی صلاحیت رکھتی ہے۔

تسنیم خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق، سپاہ پاسداران کے کمانڈر محمد علی جعفری نے ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا: عراق میں دہشت گردوں کے خلاف لڑنے کے لئے عراقی مجاہدین اور فوج  ہی کافی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ عراقی فوج، مجادہدین حشد الشعبی اور دوسرے عوامی رضا کار فورسز میں اتنی طاقت ہے کہ وہ دہشت گرد ٹولہ داعش سے نمٹ سکیں۔

انہوں نے تاکید کرتے ہوئے کہا کہ عراق میں ایرانی فوج کی شمولیت مشاورت کی حد تک ممکن ہے جبکہ میدان جنگ میں کوئی بھی ایرانی فوجی شامل نہیں ہے۔

جعفری کا کہنا تھا کہ موصل میں خود عراقی داعش کے خلاف جہاد کر رہے ہیں ہمیں اس میں ملوث ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے البتہ عالم اسلام کو اس وقت مختلف قسم کے چیلنجز کا سامنا ہے اور مدد کی ضرورت ہے، داعش اب عراق کے بعد شام جانے کی کوشش کرے گی لہٰذا ہمیں اس بارے میں ہوشیار رہنا چاہئے۔

محمدعلی جعفری نے ایک سوال کے جواب میں کہ امام خامنہ ای کے حالیہ ایٹمی معاہدے کے بارے میں دیے گئے بیان کہ امریکہ نے جوہری معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے، کے بارے میں سپاہ پاسداران کا کیا رد عمل ہوگا، کہا: سپاہ پاسداران، انقلاب اسلامی اور اسلامی نظام کا ایک حصہ ہے جو رہبر معظم، پارلیمنٹ اور ملک کے اعلیٰ حکام مناسب سمجھیں گے، سپاہ بغیر کسی چون و چرا کے حمایت کرے گی۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری