پاک بھارت تناؤ میں اضافہ؛

نواز شریف: بھارتی خلاف ورزیوں کا آخری حد تک صبر کر لیا

خبر کا کوڈ: 1249379 خدمت: پاکستان
نواز شریف

وزیراعظم نوازشریف نے پاک بھارت کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر منعقدہ اعلیٰ سطحی اجلاس کے دوران کہا ہے کہ پاکستان ایل اوسی پر مسلسل خلاف ورزی کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کر رہا ہے لیکن ہم خواتین اور بچوں سمیت شہریوں پر دانستہ حملے برداشت نہیں کرسکتے ہیں۔

خبررساں ادارے تسنیم کے مطابق، ھارتی فورسز کی جانب سے جہاں مقبوضہ کشمیرمیں معصوم انسانوں کا قتل عام اور دیگر جرائم کا سلسلہ جاری ہے وہیں پاکستان کے سرحدی علاقوں پر گولہ باری اور شہریوں پر فائرنگ بھی تھمنے کا نام نہیں لے رہی۔

بھارت کی جانب سے گزشتہ روز سے مسلسل فائرنگ اور گولہ باری کہ جس کے نتیجے میں درجنوں شہری اور فوجی شہید اور زخمی ہوئے ہیں، کے خلاف پاکستانی حکام کے بیانات شدت اختیار کر چکے ہیں۔

وزیراعظم پاکستان نوازشریف نے گزشتہ روز بھارتی جارحیت پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان ایل اوسی پر مسلسل خلاف ورزی کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کررہا ہے لیکن ہم خواتین اوربچوں سمیت شہریوں پردانستہ حملے برداشت نہیں کرسکتے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق، اسلام آباد میں وزیراعظم نواز شریف کی زیر صدارت اجلاس ہوا، اجلاس میں مشیرخارجہ سرتاج عزیز، مشیر قومی سلامتی ناصرخان جنجوعہ اور آئی ایس آئی چیف لیفٹیننٹ جنرل رضوان اختر نے بھی شرکت کی۔

اجلاس میں وزیراعظم کو سرتاج عزیز، طارق فاطمی، ناصرجنجوعہ اورڈی جی آئی ایس آئی رضوان اختر نے وادی نیلم میں بس پر حملے کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔

اجلاس میں کنٹرول لائن پر سیز فائر کی خلاف ورزیوں پر بھی غور کیا گیا جب کہ اجلاس میں وادی نیلم میں بس اور ایمبولینس پر حملے کی مذمت کی گئی اور کشمیریوں کی حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔

اجلاس میں سرحدوں کی حفاظت کیلیے جان دینے والوں کو خراج عقیدت بھی پیش کیا گیا۔

اجلاس میں مطالبہ کیا گیا کہ بھارت مقبوضہ کشمیر کی صورتحال سے توجہ ہٹانے کی کوشش کررہا ہے اس لیے عالمی برادری کنٹرول لائن پر بڑھتی ہوئی کشیدگی میں کمی کیلئے کردار ادا کرے۔

اجلاس میں یہ اعلان بھی کیا گیا کہ بھارت جان لے پاکستان کشمیریوں کی حمایت سے پیچھے نہیں ہٹے گا جب کہ شرکاء کی جانب سے کشمیریوں کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھنے کا عزم کا اظہار کیا گیا۔

وزیراعظم نوازشریف کا اجلاس کے دوران کہنا تھا کہ پاکستان ایل اوسی پرمسلسل خلاف ورزی کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کررہا ہے اور ہم خواتین اوربچوں سمیت شہریوں پردانستہ حملے برداشت نہیں کرسکتے ہیں۔

اجلاس کے شرکاء نے کشمیریوں کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی فورسز مقبوضہ کشمیرمیں معصوم انسانوں کے قتل عام اور دیگر جرائم میں ملوث ہے، بھارت مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے توجہ ہٹانا چاہتا ہے، مسافربس اور ایمبولینسز پر حملہ عالمی انسانی قوانین کی خلاف ورزی ہے، عالمی برادری بھارت کے انسانی آبادی کو جان بوجھ کر نشانہ بنانے کا نوٹس لے اور  ایل اوسی پر کشیدگی کم کرنے میں کردار ادا کرے۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری