بھارتی وزیر اعظم کی دھمکیاں کھوکھلے بیانات ہیں، پاکستانی پارلیمینٹیرین

خبر کا کوڈ: 1250730 خدمت: پاکستان
پارلمان پاکستان

پاکستان کی مختلف سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے سیاستدانوں نے بھارتی وزیر اعظم نریندرا مودی کی سندھ طاس معاہدے کو منسوخ کرکے پاکستان کے دریائے راوی، ستلج اور بیاس کا پانی بند کرنے سے متعلق دھمکیوں کو کھوکھلا بیان قرار دے کر مسترد کردیا ہے۔

تسنیم خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق، پاکستان کی پارلیمنٹ کے نامور اراکین آفتاب شیرپاؤ، حکمران جماعت کے ریٹائرڈ فوجی جرنیل عبدالقیوم اور مشاہداللہ خان، متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی سمیت سبھی نے مودی کے بیان کو غیرسنجیدہ سیاسی بڑھک قرار دیا ہے۔

پاکستانی سیاستدانوں نے کہا ہے کہ بھارت میں انتخابات کا موسم ہے اس لئے مودی پاکستان کے خلاف بیانات دے کر بھارتی عوام کی توجہ اصل مسائل سے ہٹانے کی کوشش کررہے ہیں۔

انکا کہنا تھا کہ بھارت میں کرنسی کا بحران اس وقت سنگین داخلی مسئلہ ہے جس کی وجہ سے وہاں کی حزب اختلاف بھی شدید احتجاج کررہی ہے۔

پاکستان کے مذکورہ سیاستدانوں نے کہا ہے کہ دنیا مسئلہ کشمیر کی طرف متوجہ ہے اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر بھارت پر عالمی رائے عامہ کی تنقید کی وجہ سے بھی نریندرا مودی اور ان کی حکومت پریشان ہے۔

پاکستان کے ان سیاستدانوں نے کہا کہ بھارت میں اتنا دم خم نہیں کہ پاکستان کی جوابی کارروائی کی تاب لاسکے۔ پاکستان امن پسند ملک ہے اور امن کو ترجیح دیتا ہے لیکن اگر کوئی جنگ مسلط کرنے کی غلطی کرے گا تو اس کی نسلیں بھی پاکستان کے جواب کو یاد رکھیں گی۔

یاد رہے کہ پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا تھا کہ بھارت اگر ہمارا ایک آدمی مارتا ہے تو جواب میں اس کے تین فوجی مارے جاتے ہیں کیونکہ پاکستان شہری آبادی پر جوابی حملہ نہیں کرتا۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بھی مودی سرکار کو متنبہ کیا ہے کہ جنگی جنون کی پالیسی سے باز رہے ورنہ پاکستان کی پوری قوم جو کہ دشمن کے مقابلے میں سیسہ پلائی دیوار کی طرح جم کر کھڑی ہے، اس کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا تو بھارت کو کہیں چھپنے کی جگہ بھی نہیں ملے گی۔

    تازہ ترین خبریں