یمن کے خلاف حملے جاری رہے تو سعودی سرحدوں کو نشانہ بنائیں گے، انصاراللہ

خبر کا کوڈ: 1250767 خدمت: دنیا
محمد عبدالسلام

انصاراللہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ سعودی عرب مسقط معادہدے پر صرف دیکھاوے کے حد تک عمل کرنے کی کوشش کرتا ہے اور یمن کے خلاف جارحیت جاری رکھا ہوا ہے۔

تسنیم خبررساں ادارے نے المیادین کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ انصاراللہ کے ترجمان محمد عبدالسلام کا کہنا ہے کہ یمن، مسقط معاہدے پر بدستور عمل پیرا ہے، اس وقت مسقط معاہدے کے بارے میں فیصلہ کرنا سعودی عرب اور  امریکہ کے ہاتھ میں ہے۔

عبدالسلام نے المیسرہ نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ سعودی اتحاد کی طرف سے ان کو اطلاع دی گئی ہے کہ مسقط معاہدے کو سابق یمنی مفرور صدر منصور ہادی کو بیھج دیا جائے گا، ان کے دستخط کے بعد دونوں فریق معاہدے کے پابند ہوں گے۔

انصاراللہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ سعودی عرب صرف دکھاوے کے حد تک مسقط معاہدے پر عمل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

عبدالسلام کا کہنا ہے کہ حالیہ معاہدہ سعودی عرب کے لئے خوشایند نہیں ہے، دوسری طرف امریکہ آل سعود کو ورغلا رہا ہے۔

یمنی سرکاری فوج کے ترجمان نے تاکید کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب تک مسقط معاہدے پر صحیح معنوں میں عمل نہیں ہوگا تب تک یمن کسی بھی مشاورتی عمل میں شامل نہیں ہوگا۔

انہوں نے یمن جنگ بندی کی تاکید کرتے ہوئے کہا: اگر یمن کے خلاف جارحیت جاری رہی تو یمنی فوج سعودی سرحدوں کو بہ آسانی نشانہ بنائے گی۔

انہوں نے کہا کہ منصور ہادی کو کسی بھی صورت میں جانا ہی پڑے گا، قوم اس کو قبول نہیں کرتی ہے۔

عبدالسلام کا کہنا تھا کہ یمن کے خلاف جنگ سعودی عرب اور امریکہ نے مل کر شروع کیا ہے اور شکست سے دوچار ہوئے ہیں۔

تازہ ترین خبریں
خبرنگار افتخاری