چین کا سائنس وٹیکنالوجی کے میدان میں ایک اور اہم معرکہ/ پہلا اسٹیلتھ طیارہ

خبر کا کوڈ: 1251639 خدمت: دنیا
جے-20 چین

معاشی ترقی کے میدان میں بلندیوں کو چھونے والے ملک چین نے اپنی عسکری طاقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے سائنس وٹیکنالوجی کے میدان میں ایک اور اہم معرکہ سر کر کے پہلا اسٹیلتھ طیارہ بنا لیا ہے۔

خبررساں ادارے تسنیم کے مطابق، معاشی ترقی کے میدان میں دھاک بٹھانے والے چینیوں نے سائنس وٹیکنالوجی کے میدان میں ایک اور اہم معرکہ سر کر لیا ہے۔

ایکسپریس نیوز نے رپورٹ دی ہے کہ اس وسیع و عریض میدان میں بنے اسٹینڈ ملکی و غیر ملکی معززین سے بھرے ہوئے تھے۔

چینی شہر، ژوہوئی (zhuhai) میں واقع اس میدان میں چین کا سب سے بڑا ایئرشو، ایئر شو چائنا منعقد ہورہا تھا۔

اس میں پاکستان و چین کا تیار کردہ لڑاکا طیارہ جے۔17 بھی شریک تھا۔ اچانک فضا زبردست گڑگڑاہٹ سے گونج اٹھی۔ یہ اتنی زوردار تھی کہ میدان کے باہر کھڑی کاروں کے الارم بج اٹھے۔ یوں چین کے پہلے اسٹیلتھ لڑاکا طیارے، J-20 کی آمد کا اعلان خوب زور و شور سے ہوا۔ یہ طیارہ بھی چینی کمپنی، چنگدو ایئروسپیس کارپوریشن کا تیار کردہ ہے جس کے اشتراک سے پاکستان نے جے۔17 تخلیق کیا۔

جے۔20 جدید ترین آلات اور ٹیکنالوجی کا حامل جنگی طیارہ ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ چینی سائنس و ٹیکنالوجی میں بھی مہارت تامہ حاصل کرچکے ہیں۔ ماضی میں افیونی کہلائے جانے والے چینیوں نے پہلے معاشی ترقی پر دھیان دیا اور آج وہ دنیا کی دوسری بڑی معیشت کے مالک ہیں۔ جب معاشی ترقی کا پہیہ چل پڑا، تو وہ اربوں روپے اپنے شعبہ سائنس و ٹیکنالوجی پر لگانے لگے۔ چناں چہ آج سرگرم و متحرک چینی اس شعبے میں اتنی زیادہ ترقی کرچکے کہ نت نئے ہتھیاروں کے علاوہ انسان دوست اور مفید ایجادات بھی بنا رہے ہیں۔

اسلحہ سازی میں چینیوں کی بڑھتی جدت پسندی اور تخلیق کاری پاکستان کے لیے اچھی خبر ہے۔ پاکستانی طویل عرصہ امریکی ہتھیاروں پر انحصار کرتے رہے، مگر اب امریکا بھارت سے بڑھتی قربت کے باعث ہمیں جدید اسلحہ فروخت کرنے کے موڈ میں نہیں۔ لہٰذا ہوا کا بدلتا رخ دیکھ کر پاکستان بھی جدید اسلحہ خریدنے کے لیے چین، روس، ترکی، سویڈن وغیرہ کی جانب متوجہ ہے۔ پچھلے چند برس کے دوران خصوصاً چین وطن عزیز کو اسلحہ فروخت کرنے والا سب سے بڑا ملک بن چکا ہے۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری