امریکہ میں مساجد کو دھمکی آمیز خطوط موصول؛

ٹرمپ مسلمانوں کے ساتھ وہ کریگا جو ہٹلر نے یہودیوں کے ساتھ کیا تھا

خبر کا کوڈ: 1252062 خدمت: دنیا
مسجد مسلمانان در آمریکا

امریکی ریاست کیلیفورنیا میں قائم تین مساجد کو دھمکی آمیز خط موصول ہوئے ہیں جن میں امریکی مسلمانوں کو کہا گیا ہے کہ نو منتخب امریکی ڈانالڈ ٹرمپ مسلمانوں کے ساتھ وہ کریگا جو ہٹلر نے یہودیوں کے ساتھ کیا تھا۔

خبررساں ادارے تسنیم کے مطابق، کیلیفورنیا کی کئی مسجدوں کو ہاتھ سے لکھے ہوئے خط موصول ہوئے ہیں جن میں نو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تعریف جبکہ مسلمانوں کو نسل کشی کی دھمکی دی گئی ہے۔

ڈاون نیوز نے روزنامہ لاس اینجلس ٹائمز کے حوالے سے بتایا ہے کہ کونسل برائے امریکن اسلامک ریلیشنز (سی اے آئی آر)کا کہنا ہے کہ ہاتھ سے لکھے ہوئے فوٹو کاپی شدہ خطوط گزشتہ ہفتے اسلامک سینٹر آف لانگ بیچ، اسلامک سینٹر آف کلیرمونٹ اور ایور گرین اسلامک سینٹر سینٹ جوز میں بھیجے گئے۔

خط میں "شیطان کی اولادوں" کو مخاطب کیا گیا تھا اور اس پر "امریکن فار اے بیٹر وے" درج تھا۔

سی اے آئی آر کا کہنا ہے کہ خط میں لکھا ہے "علاقے میں نیا پولیس والا آگیا ہے جس کا نام ڈونلڈ ٹرمپ ہے، وہ امریکا کو صاف کردے گا اور اسے دوبارہ شاندار بنائے گا اور وہ اس کی شروعات تم مسلمانوں سے کرے گا"۔

خط میں یہ بھی لکھا ہے کہ "اور وہ تم مسلمانوں کے ساتھ وہ کرے گا جو ہٹلر نے یہودیوں کے ساتھ کیا تھا"۔

سی اے آئی آر لاس اینجلس کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر حصام ایلوش نے کہا ہے کہ ان نفرت انگیز خطوط کی وجہ سے لاس اینجلس کاؤنٹی میں لوگ بہت دلبرداشتہ ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی غیر ذمہ دارانہ اور نفرت انگیز انتخابی مہم نے ان کے خود ساختہ حامیوں میں عدم برداشت، نفرت اور اوچھے پن کو ہوا دی ہے۔

انہوں نے کہا کہ "میں یہ نہیں کہہ رہا کہ (ڈونلڈ ٹرمپ) نے نسل پرست افراد کو جنم دیا لیکن انہوں نے اسے معمول کا حصہ ضرور بنایا"۔

ان کا کہنا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کہتے ہیں کہ وہ اس کے ذمہ دار نہیں اور میں ان کا احترام کرتا ہوں لیکن میں انہیں یاد دہانی کراتا ہوں کہ بطور صدر ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ ہر امریکی کے ساتھ برابری کا سلوک کریں۔

سین جوز پولیس ڈپارٹمنٹ کے ترجمان سارجنٹ اینرک گارشیا نے کہا کہ پولیس نے تحقیقات شروع کردی ہیں اور اس معاملے کو نفرت پر مبنی عمل قرار دیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن (ایف بی آئی) نے اعداد و شمار جاری کیے تھے جس کے مطابق، 2001 میں رونما ہونے والے نائن الیون کے واقعے کے بعد سے سال 2015 میں مسلمانوں کے خلاف نفرت پر مبنی جرائم کی تعداد سب سے زیادہ رہی۔

قانون نافذ کرنے والے اداروں کو رپورٹ کیے جانے والے واقعات کے اعداد ظاہر کرتے ہیں کہ 2014 کے مقابلے میں 2015 میں نفرت پر مبنی جرائم میں 6.7 فیصد اضافہ ہوا اور واقعات کی تعداد 5479 سے 5850 تک تجاوز کرگئی۔

واضح رہے کہ یہ تعداد 2000ء کے آغاز میں سامنے آنے والے واقعات سے کافی کم ہے تاہم ایف بی آئی کی یہ رپورٹ اس وقت سامنے آئی ہے جب صدارتی انتخاب کے بعد امریکا میں قومیت اور مذہب کے نام پر حملوں کے کئی واقعات سامنے آچکے ہیں۔

8 نومبر کو ہونے والے امریکی صدارتی انتخاب کے بعد سے امریکا بھر سے نسلی امتیاز اور مذہب مخالف واقعات کی خبریں سامنے آرہی ہیں۔

یارک کاؤنٹی، پنسلوانیا کے ووکیشنل اسکول میں دو طلبا نے ڈونلڈ ٹرمپ کا نشان شیئر کیا جس پر کسی نے "وائٹ پاور" کا نعرہ لگایا، اور اس واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر پھیل گئی۔

سلور سپرنگ، میری لینڈ میں بھی ہسپانوی زبان سکھانے والے کسی ادارے کے بینر کو پھاڑ کر اس پر "ٹرمپ نیشن، وائٹس اونلی" کے الفاظ لکھ دیئے گئے تھے۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری