سمیحہ راحیل قاضی:

خواتین کو جو عزت، وقار اور حقوق اسلام نے دیئے ہیں، کسی اور سیاسی نظام یا مذہب نے نہیں دیے

خبر کا کوڈ: 1252517 خدمت: پاکستان

پاکستان کی اسلامی نظریاتی کونسل کی رکن و سابق رکن قومی اسمبلی نے کراچی میں جماعت اسلامی کے دو روزہ کنونشن کے دوران خواتین کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسلام نے خواتین کو جو عزت، وقار اور حقوق دیے ہیں وہ کسی اور دین یا سیاسی نظام نے نہیں دیے۔

تسنیم خبر رساں ادارے کے نمائندے کی خبر کے مطابق، پاکستان کی اسلامی نظریاتی کونسل کی رکن و سابق رکن قومی اسمبلی سمیحہ راحیل قاضی نے کراچی میں جماعت اسلامی کے دو روزہ کنونشن کے دوران خواتین کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسلام نے خواتین کو جو عزت، وقار اور حقوق دیے ہیں وہ کسی اور دین یا سیاسی نظام نے نہیں دیے۔

انہوں نے کہا کہ اسلام کی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے سے خواتین کو توقیر بھی ملے گی اور حقوق بھی۔ موجودہ حالات میں خواتین کو بہت سے چیلنجز درپیش ہیں ان کا مقابلہ کرنے کے لیے منظم و متحد ہونے اور حوصلے اور ہمت کی ضرورت ہے۔ حالات سے گھبرانے کے بجائے ان کے مقابلے کی تیاری کرنے کی ضرورت ہے۔ غربت، مہنگائی اور بے روزگاری سے خواتین براہ راست متاثر ہوتی ہیں۔

ان کا کنا تھا کہ جماعت اسلامی کا حلقہ خواتین عورتوں کی فلاح و بہبود اور خواتین کو ان کا حق دلانے کے لیے کوشاں ہے۔

اس کانفرنس سے صدر انٹرنیشنل ویمن یونین سابق سینیٹر ڈاکٹر کوثر فردوس، سابق رکن قومی اسمبلی عائشہ منور اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔

عائشہ منور نے کہا کہ آج عورت کو معاشی ترقی اور معاش کی ذمہ داری میں بنیادی اہمیت دے دی گئی ہے جس سے معاشرے میں مرد کے خلاف ایک فضا اور ماحول بنادیا گیا ہے اور خاندانی نظام میں تباہی اور خرابیاں پیدا ہونے لگی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ ان خرابیوں سے بچا جائے ہم قومی اسمبلی اور سینٹ میں یہی کوشش کرتے رہے ہیں کہ خواتین کی فطری ذمہ داری کے برخلاف اور دین سے متصادم کوئی قانون سازی نہ ہوسکے۔

عائشہ منور نے مزید کہا کہ ہم پہلے سے موجود خواتین سے متعلق قوانین کا جائزہ لیتے رہتے ہیں کہ ان کو اسلامی تعلیمات سے ہم آہنگ بنایا جائے۔

کوثر فردوس کا اس موقع پر کہنا تھا کہ طلاق کی شرح میں اضافہ خاندانی نظام میں کمزوری کی طرف واضح اشارہ ہے، اس پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ پہلے یہ دیکھتے تھے کہ لڑکے ملازمت پیشہ ہیں کہ نہیں لیکن اب یہ دیکھا جاتا ہے کہ لڑکی کی ملازمت کیسی ہے۔ پہلے مناسب عمروں میں شادیاں ہوجاتی تھیں لیکن اب عمریں زیادہ جاتی ہیں۔

ان کہا کہنا تھا کہ میڈیا کے ذریعے ہمارے خاندانی نظام، تہذیب و ثقافت اور تمدن پر حملہ کیا جارہا ہے۔ ان امور کو دیکھنے اور انہیں درست کرنے کی اشد ضرورت ہے۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری