بھارت کے پاس پاکستان سے مکالمے کے علاوہ کوئی دوسرا آپشن نہیں، سیکریٹری خارجہ

خبر کا کوڈ: 1252524 خدمت: پاکستان
اعزاز احمد چوهدری

سیکریٹری خارجہ اعزاز چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان سے مکالمے کے علاوہ بھارت کے پاس کوئی دوسرا آپشن نہیں، مودی حکومت طاقت کے استعمال سے مسئلہ کشمیر نہیں دباسکتی جبکہ پاکستان کی تسدیدی قوت بھارتی عزائم کے مقابلے میں سد راہ ہے۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق، پاکستان کے سیکریٹری خارجہ اعزاز چوہدری نے بھارتی حکومت پر زور دیا ہے کہ یہ نادر موقع ہے کہ پاکستانی قیادت کے ساتھ مہذب ممالک کی تقلید کرتے ہوئے باوقار انداز میں براہ راست مکالمے کا آغاز کرے اور دو طرفہ بات چیت کے ذریعے مسائل حل کرے۔

اتوار کی شب گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بھارت اور پاکستان کے سفارتی تعلقات موجود ہیں اس لئے کسی بیک چینل کی ضرورت نہیں اور پاکستانی قیادت نے عالمی برادری اور خاص طور پر اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کے پانچ مستقل اراکین کو لائن آف کنٹرول اور مقبوضہ کشمیر میں بھارتی اشتعال انگیزی و جارحانہ کارروائیوں کے بارے میں آگاہ کررکھا ہے اور عالمی برادری بھی نئی دہلی سے مسلسل رابطے میں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ممکن ہے کہ عالمی برادری کی کوششوں سے ہی بھارت کی مودی سرکار مسئلہ حل کرنے پر آماد ہوجائے۔

انہوں نے مزید کہا کہ بدقسمتی سے بھارت کا جواب مثبت نہیں ہے بلکہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جب سے نریندرا مودی حکومت میں آئے ہیں وہ خطے میں بھارت کی بالادستی کے لئے دانستہ طور پر لائن آف کنٹرول پر اشتعال انگیزی کررہے ہیں جبکہ الفاظ کی جنگ میں بھی شدت لاچکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سویلین و عسکری قیادت نے بھارت کو دو پیغام دیے ہیں کہ ایک تو یہ کہ بھارت کی جارحیت کے خلاف ہم سب متحد و یکجا ہیں اور اس میں کوئی دو رائے نہیں دوسرا یہ کہ مکالمے کے علاوہ اس کے پاس کوئی آپشن نہیں، انسانیت کے خلاف جرائم کا ارتکاب کرکے بھارت مسئلہ کشمیر سے توجہ نہیں ہٹاسکتا نہ ہی اس مسئلے کو دبا سکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ دونوں ملکوں کے مفاد میں ہے کہ معاملہ طول نہ پکڑے۔ لائن آف کنٹرول پر اور مقبوضہ کشمیر میں نسل کشی سے، شہریوں کو نشانہ بنانے سے، اشتعال انگیزی سے معاملات بگڑ بھی سکتے ہیں، پاکستان کسی صورت جنگ نہیں چاہتا لیکن بھارت بھی ایڈونچر سے باز رہے۔

انہوں نے وضاحت کی کہ پاکستان کی تسدیدی قوت ہی بھارت کے جارحانہ عزائم کی راہ میں ناقابل تسخیر سد راہ ہے۔

انہوں نے سی پیک میں دیگر ممالک بشمول روس کی شمولیت پر کہا کہ اس کا فیصلہ چین اور پاکستان نے مل بیٹھ کر کرنا ہے کہ کوئی اور ملک کس فریم ورک میں اس منصوبے میں شامل ہوسکتا ہے۔ البتہ امپورٹ ایکسپورٹ کی حد تک دیگر ممالک تو ابھی بھی اس منصوبے سے فائدہ اٹھاسکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ روس اب پاکستان کو اہمیت دیتا ہے اور اس نے شنگھائی تنظیم میں پاکستان کی شمولیت کے حق میں رائے دی ہے۔

    تازہ ترین خبریں