روس کی گوادر تک رسائی؛ ماضی کے حریف آج حلیف بن جائیں گے

خبر کا کوڈ: 1252662 خدمت: پاکستان
گوادر

پاکستان کی جانب سے روس کو گوادر پورٹ کے استعمال کی اجازت نہ صرف تجارتی و معاشی طور پر اہم ترین نوعیت کا معاملہ ہے بلکہ اس سے خارجہ پالیسی میں تبدیلی اور خطے میں نئے تعلقات کے ایسے دور کا آغاز ہوگا کہ ماضی کے حریف آج حلیف بن جائیں گے۔

خبر رساں ادارے تسنیم نے روزنامہ مشرق کے حوالے سے بتایا ہے کہ پاکستان کی جانب سے روس کو گوادر پورٹ کے استعمال کی اجازت نہ صرف تجارتی و معاشی طور پر اہم ترین نوعیت کا معاملہ ہے بلکہ اس سے خارجہ پالیسی میں تبدیلی اور خطے میں نئے تعلقات کے ایسے دور کا آغاز ہوگا کہ ماضی کے حریف آج حلیف بن جائیں گے۔

ماضی کے حلیفوں کو شاید یہ پسند نہ ہو لیکن بہر حال اب یہ ایک حقیقت کے طور پر سامنے آچکا ہے۔ اس معاہدے سے روس کی گرم پانیوں تک رسائی کا دیرینہ خواب پورا ہوگا تو دوسری جانب پاکستان اور روس کے درمیان دفاعی اور فوجی نوعیت کے تعاون میں بھی اضافہ فطری امر ہوگا۔

روس اور پاکستان کے درمیان اسٹریٹجک و معاشی تعلقات میں 14 سال بعد اہم پیش رفت ہوئی ہے اور روسی انٹیلی جنس فیڈرل سیکورٹی سروسز (ایف ایس بی)کے سربراہ الیگزینڈر بورٹنی کوو نے گزشتہ ماہ کے آخر میں پاکستان کا اہم دورہ کیاتھا۔

ذرائع کے مطابق، پاکستانی حکام سے مذاکرات کے بعد روس کو پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا گیا، اس طرح روس کو گوادر پورٹ کے ذریعے گرم پانی تک رسائی مل جائے گی۔

روس کے ساتھ اقتصادی راہدای منصوبے کو تجارتی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کے لیے دونوں ملکوں کی حکومتوں کے مابین مستقبل میں باضابطہ معاہدے بھی کیے جائیں گے۔ گزشتہ دنوں گوادر سے کنٹینرز کے قافلے کے بحفاظت مشرق وسطیٰ اور افریقی ممالک پہنچنے کے بعد دنیا کے خدشات دور ہوچکے ہیں جس کے بعد دنیا کے ممالک کی اس منصوبے میں شمولیت کے لئے دلچسپی بڑھ گئی ہے۔

واضح رہے کہ 100 سے زائد مال بردار ٹرکس کا قافلہ 29 اکتوبر کو چین کے شہر کاشغر سے پاکستان میں داخل ہوا اور سوست ڈرائی پورٹ سے ہو کر یہ گوادر پہنچا، جہاں سے پھر یہ اپنی منزل مقصود کی جانب روانہ ہواتھا۔

صرف یہی نہیں بلکہ وزیر اعظم محمد نواز شریف کا ترکمانستان کے صدر سے ملاقات کو بھی اس تناظر میں اہم نوعیت کا قرار دیا جا رہا ہے۔ پاکستان، ترکمانستان، افغانستان اور بھارت کے درمیان پہلے سے گیس پائپ لائن معاہدہ بھی موجود ہے تاہم خطے کے حالات اس معاہدے پر عملدرآمد میں ہنوز مانع ہیں۔

وزیر اعظم نواز شریف نے ترکمانستان میں کہا ہے کہ کئی ملک سی پیک میں شمولیت کے خواہشمند ہیں جس سے آدھی دنیا مستفید ہوگی۔ وزیر اعظم نے جنوبی وسطی ایشیاء کو سڑک اور ریل کے ذریعے ملانے کے منصوبے کا بھی عندیہ دیا۔ سی پیک اور جنوبی وسطی ایشیاء کے سڑک اور ریل کے ذریعے ملانے کے منصوبوں کی تکمیل کے بعد دنیا کا یہ حصہ کس قدر باہم مربوط ہوگا اس کا تو صرف تصور ہی کیا جاسکتا ہے۔

ہم سمجھتے ہیں کہ سی پیک میں روس اور برطانیہ کی شمولیت سے اور ترکی کی دلچسپی کے بعد نہ صرف یہ خطہ بلکہ یورپ تک اس کے اثرات ہوں گے۔ یہ بات خاص طور پر اہم ہے کہ حال ہی میں پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے برطانوی وزیر خارجہ بورِس جانسن نے پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک)کو شاندار پراجیکٹ قرار دیتے ہوئے برطانوی کمپنیوں کا اس کی تعمیری سرگرمیوں میں حصہ لینے کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔

انہوں نے کہا تھا کہ اس منصوبے کو اس سے بھی کئی زیادہ پرعزم وژن کا حصہ ہونا چاہیے جس کے ذریعے قدیم شاہراہ ریشم بحال ہو اور مشرق کو مغرب سے ملانے والے تجارتی قافلوں کا نیا جنم ہو۔

لاہور کے دورے کے موقع پر ان کا کہنا تھا کہ کراچی لاہور سے کئی گنا بڑا شہر ہے، جس کی آبادی 2 کروڑ 30 لاکھ ہے اور جو آبادی کے لحاظ سے دنیا کا چھٹا بڑا شہر ہے۔

تاریخ اور محل وقوع بتاتے ہیں کہ کراچی کو سنگاپور یا شنگھائی کی طرح ایشیا کے بڑے تجارتی مراکز میں سے ایک ہونا چاہیے، جبکہ یہ مقصد حاصل کرنے کا واحد راستہ مضبوط اقتصادی روابط کا قیام ہے۔

برطانیہ کے یورپی یونین سے نکلنے کے فیصلے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ میری اس حوالے سے حمایت کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ میں چاہتا تھا کہ برطانیہ اپنی خارجہ پالیسی کو وسعت دے اور پاکستان سمیت دنیا کے دیگر ممالک سے اپنے تعلقات کو مزید مضبوط بنائے۔

ہم سمجھتے ہیں کہ ترکمانستان کے ساتھ زمینی و ہوائی روابط قائم کرنے کے لئے چترال سے تاجکستان اور پھر اس سے دیگر ریاستوں ترکمانستان، ازبکستان، کرغستان، قازقستان اور بالآخر روس تک زمینی راستے سے ان ممالک کو باہم مربوط کرنا مشکل نہیں۔ چترال سے قدیم اور تاریخی راستے اور گزر گاہوں کا اس ضمن میں جائزہ لینا مفید ہوگا۔

چترال سے مختصر راستے کی تعمیر سے تاجکستان سے رابطہ ہونے کے بعد دیگر ریاستوں کے پہلے سے موجود منسلک راستوں سے تجارتی طور پر یہ پورا خطہ اس طرح باہم منسلک ہوسکتا ہے جس کے بعد یہ دنیا کی تجارت کا ایسا محور بن جائے گا جس کی مثال نہ ہوگی۔

سی پیک کے منصوبے کا واقعی اور عملی طور پر گیم چینجر بننے میں رکاوٹیں اور رخنہ ڈالنے کی مساعی کسی سے پوشیدہ نہیں۔ توقع ہے کہ ان پر قابو پایا جائے گا اور یہ اہم ترین نوعیت کاعالمی منصوبہ اہل وطن اور دنیا کے ایک بڑے خطے کے لئے نافع بن کر سامنے آئے گا۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری