تحریر: عالمگیر حسین

چین پاکستان اقتصادی راہداری ماضی اور حال کے آئینے میں

خبر کا کوڈ: 1252642 خدمت: پاکستان
عالمگیر حسین

جہاں اپوزیشن جماعتیں اور ناقدین سی پیک میں گلگت بلتستان کو محروم رکھے جانے کا واویلا کررہے ہیں وہیں صوبائی وزراء اس میگا پراجیکٹ سے خاطر خواہ فائدے سمیٹنے اور خطے میں خوشحالی کی منادی کرتے نہیں تھکتے تاہم معتبر ذرائع سے آنے والی خبروں اور اطلاعات کو مخالفین کی ریشہ دوانیاں قرار دیکر عوام کو بیوقوف بنانا سی پیک کی قطعاً کوئی خدمت نہیں بلکہ افسوناک اور قابل مواخذہ عمل ہے۔

خبررساں ادارے تسنیم کو ارسال کئے گئے مقالے میں عالمگیر حسین نے وفاقی حکومت کی جانب سے صوبہ گلگت بلتستان کو سی پیک میں حصہ نہ دینے پر تنقید کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ؛

سی پیک ایک معمہ ہے جس پر حکومت کی پوزیشن روز بروز الجھتی جارہی ہے، اپوزیشن جماعتوں اور ناقدین سی پیک میں صوبے کو محروم رکھے جانے کا واویلا کررہے ہیں لیکن صوبائی وزراء اس میگا پراجیکٹ سے خاطر خواہ فائدے سمیٹنے اور خطے میں خوشحالی کی منادی کرتے نہیں تھکتے۔ صرف یہی نہیں بلکہ حکمران جماعت اور ان کے حامی اقتصادی راہداری منصوبے کے بارے میں حزب اختلاف اور ناقدین کے اعتراضات کو مخالفین کی مایوسی پھیلانے اور حتیٰ کہ اس منصوبے کے خلاف سازش کرنے کی انتہائی سنگین الزام عائد کرنے سے بھی نہیں چوکتے، لیکن کیا کہا جائے کہ اب یہ باتیں صرف مخالفین ہی نہیں بلکہ انتہائی ذمہ دار حلقے بھی ببانگ دھل اقتصادی راہداری منصوبے میں حصہ نہ ملنے پر صوبائی حکومت کی عدم دلچسپی کا اعتراف کرتے نظر آرہے ہیں۔

اس سلسلے میں چیئرمین اقتصادی راہداری کونسل سینیٹر طلحہ محمود نے گلگت بلتستان کے صحافیوں کے ایک گروپ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ "صوبائی حکومت سی پیک میں اپنا حصہ نہیں مانگ رہی ہے"۔

انہوں نے اس سیاق و سباق میں بہت کچھ کہا ہے جس کی تفصیلات اخبارات میں موجود ہیں (بحوالہ روزنامہ بادشمال مورخہ 26 نومبر 2016) ایک حقیقت جس سے انکار ممکن نہیں وہ یہ کہ موصوف کا تعلق گلگت بلتستان سے نہیں بلکہ دوسرے صوبے سے ہے البتہ یہ الگ بات ہے کہ انہوں نے گلگت بلتستان میں کاروباری اور سماجی شعبے میں ایک عرصے سے خدمات انجام دیتے چلے آرہے ہیں۔ اسی کو کہتے ہیں جادو وہ جو سرچڑھ کر بولے۔

گلگت بلتستان جو اقتصادی راہداری منصوبے کا گیٹ وے ہے لیکن بظاہر تمام حکومتی دعوؤں کے برعکس ابھی تک گلگت بلتستان میں کوئی بڑا منصوبہ سی پیک میں شامل ہونے کے مستند ثبوت سامنے نہ آسکے۔ یہ بات بھی ریکارڈ پر موجود ہے جو سینیٹر سید مشاہد حسین نے گلگت بلتستان سی پیک میں شامل نہ ہونے کا انکشاف کیا اور اس حوالے سے سینیٹ کی اسٹینڈنگ کمیٹی برائے اقتصادی راہداری منصوبے نے بھی خطہ گلگت بلتستان میں کوئی منصوبہ اس حوالے سے نہ رکھے جانے کا آن ریکارڈ آبزرویشن دی چنانچہ اتنے زیادہ معتبر ذرائع سے آنے والی خبروں اور اطلاعات کو مخالفین کی ریشہ دوانیاں قرار دیکر عوام کو بیوقوف بنانا سی پیک کی قطعاً کوئی خدمت نہیں بلکہ افسوناک اور قابل مواخذہ عمل ہے۔

یہ بات بھی قابل ملاحظہ رہے کہ صوبائی وزراء اکثر ایسی باتیں کرتے نظر آرہے ہیں۔کبھی گلگت اسکردو روڈ،کبھی گلگت میں میڈیکل کالج،کبھی دیامر باشہ ڈیم اور نہ جانے کون کونسے منصوبے سی پیک کا حصہ قرار دئیے جاتے ہیں۔

اقتصادی راہداری منصوبہ ایک عظیم ترقیاتی منصوبہ ہے جو دنیا بھر میں زیر بحث ہے، دوست اور دشمن سب اس میگا پراجیکٹ پر اپنے تاثرات اور رد عمل دے رہے ہیں۔ دوست اس منصوبے کو کامیاب بنانے کیلئے اپنی آمادگی کا اظہار کررہے ہیں، روس، ایران اور ترکمانستان اور دیگر کئی ممالک نے اس منصوبے میں اپنی شمولیت پر آمادگی ظاہر کردی ہے اور مستقبل قریب میں کئی اور ممالک بھی ان کے پیچھے پیچھے اس عظیم منصوبے کا حصہ بننے کی تیاری کررہے ہیں۔

ہندوستان اور دیگر کئی طاقتیں اس منصوبے سے ناخوش ہیں، ان حالات میں اس منصوبے کو بہترین حکمت عملی اور شفاف طریقے سے آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔ ظاہر ہے اربوں ڈالر کا یہ عالمی سطح کا منصوبہ زبانی کلامی خرچ سے تو نہیں چل سکتا بلکہ اس حوالے سے سالوں پہلے تخمینے، تجزئے اور پورا پورا حساب کتاب کے بعد ڈیزائن کیا گیا ہے اگر صوبائی حکومت اور وفاق نے گلگت بلتستان کو اس کے حصے کا کوئی منصوبہ دیا ہوتا تو لامحالہ اس پراجیکٹ کے کسی بھی مرحلے میں مرتب نقشوں اور بجٹ میں اس کا تذکرہ ضرور ہوتا لیکن ابھی تک اس کی تصدیق کسی بھی فورم پر سامنے نہیں آئی۔

چنانچہ ضرورت اس بات کی ہے کہ وفاقی حکومت گلگت بلتستان کو طفل تسلیوں اور اِدھر اُدھر کی باتیں کرنے کی بجائے اس اہم ترین خطے کو سب سے پہلے اس میگا پراجیکٹ کی اکائی تسلیم کرتے ہوئے قابل عمل منصوبے بنائے اور حقائق تسلیم کرے ورنہ صوبائی حکومت کے دعوؤں اور اعلانات کی حیثیت کو کوئی تسلیم نہیں کرے گا۔

گلگت بلتستان فطری اور جغرافیائی طور پر پاک چین دوستی اور تجارت کا گیٹ وے ہے۔ یہ رشتہ دونوں ملکوں کے مابین قیام پاکستان سے صدیوں قبل سے قائم ہے، اس دوستی اور تعلق میں کسی خاص پارٹی یا جماعت سے زیادہ ان تہذیبی، جغرافیائی قربت اور تاریخی قدروں کا عمل دخل رہا ہے۔ صدیوں قبل چینی سیاح اور بدھ مت کے پیروکار مذہبی دوروں اور سیاحت کیلئے اس علاقے سے گزرتے رہے ہیں جس کے شواہد آج بھی گلگت بلتستان کی مختلف وادیوں میں پتھروں اور چٹانوں پر کندہ ہیں، لہٰذا کوئی سازش یا طاقت ان خطوں کی آپس کے رشتوں اور تعلق کو خراب نہیں کرسکتی، چنانچہ اس حوالے سے حکومت کو چندان پریشان ہونے کی ضرورت نہیں بلکہ ان اسباب کی روک تھام پر بھرپور توجہ دینے کی ضرورت ہے جو عوام میں اس حوالے سے بد گمانیاں پیدا کرنے کا موجب بن سکتی ہیں۔

گلگت بلتستان کے عوام اور یہاں کا بچہ بچہ اپنی تاریخ اور روایات کا امین ہے آج ہمارے بھائی نہ صرف سیاچن اور کارگل میں مادر وطن کا دفاع کا مقدس فریضہ سرانجام دے رہے ہیں بلکہ پاکستان کے ایک ایک چپے کے دفاع کیلئے اپنے جانوں کے نذرانے پیش کررہے ہیں۔

انشاء اللہ گلگت بلتستان کے عوام بیرونی دشمنوں کی ہر سازش کے سامنے قراقرم اور ہمالیہ کی چٹانوں کی مانند سربلند اور سربکف دفاع کیلئے آمادہ و تیار ہیں تاہم گلگت بلتستان کے عوام کی خلوص اور سادگی کا جواب بھی ویسا ہی ملنا چاہئے۔

یہ بھی یاد رہے کہ گلگت بلتستان معاشی افلاس، بیروزگاری اور دیگر گوناگوں مسائل کے دلدل میں ہے۔ صوبے کو اس کیفیت سے نکالنے اور آنے والی نسلوں کے مستقبل کو محفوظ بنانے کیلئے صوبائی حکومت کو وفاق سے اپنا حصہ لینے کیلئے دو ٹوک موقف اختیار کرنا چاہئے اور اختلاف اور مثبت تنقید کو خندہ پیشانی سے قبول کرنے کی عادت ڈالنی ہوگی کیونکہ تاریخ میں وہی کردار امر ہوتے ہیں جو سچائی اور حقیقت کیلئے قیام کرتے ہیں، چل چلاؤ کے خوگر تاریخ کے صفحات میں کہیں نظر نہیں آتے۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری