بے دخل پاک ترک اسکولز اساتذہ کے لءے الوداعی تقریب کا انعقاد

خبر کا کوڈ: 1253206 خدمت: پاکستان
پاک ترک اسکولز

اسلام آباد کے پاک ترک اسکولز میں کام کرنے والے ترک ٹیچرز اور عملے کے ارکان میں سے زیادہ تر وطن واپس جاچکے ہیں جبکہ کچھ جانے کی تیاریاں کررہے ہیں جن کے لئے طلبا اور ان کے والدین نے الوداعی تقریب کا انعقاد کیا ہے۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق، اسلام آباد کے پاک ترک اسکولز میں کام کرنے والے ترک ٹیچرز اور عملے کے ارکان میں سے زیادہ تر وطن واپس جاچکے ہیں جبکہ کچھ جانے کی تیاریاں کررہے ہیں۔

اس سلسلے میں طالب علموں اور ان کے والدین نے پاک ترک اسکول کے ایچ 8 کیمپس میں ترک اساتذہ اور عملے کے لیے الوداعی تقریب کا انعقاد کیا۔

ترجمان پاک ترک اسکولز حسنین نازش نے بتایا کہ ترک ٹیچرز اور عملے کی اکثریت پیر کے روز اسکول نہیں آئی۔

ایچ 8 کیمپس کی ایک طالبہ بنت علی نے ڈان کو بتایا کہ اسکول انتظامیہ نے بچوں کو بتایا کہ ان کے ترک ٹیچرز اپنے ملک واپس جاچکے ہیں۔

رواں برس اگست میں پاکستان نے دورے پر آنے والے ترک وزیر خارجہ میلود چاووش اوغلو سے وعدہ کیا تھا کہ وہ پاک ترک اسکولز کے معاملے پر غور کرے گا جسے ترکی نے امریکا میں مقیم مبلغ فتح اللہ گولن سے روابط کا الزام عائد کرکے بند کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

تقریب میں شریک ٹیچرز کے مطابق، اب صرف 10 سے 15 ترک عملے کے ارکان رہ گئے ہیں جو حکومتی ہدایات کے بعد ملک چھوڑنے کی تیاری کررہے ہیں۔

حکومت نے پاک ترک اسکولز کے ترک عملے کو پہلے 20 نومبر اور پھر 30 نومبر تک پاکستان سے نکل جانے کی ہدایت کی تھی۔

ترک ٹیچرز کے حق میں مہم چلانے والے ایڈووکیٹ حافظ عرفات نے بتایا کہ ٹیچرز کے پاس پاکستان میں قیام کا کوئی آپشن باقی نہیں رہا کیوں کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے بھی بے دخلی کے خلاف ان کی اپیل مسترد کردی تھی۔

انہوں نے بتایا کہ جہاں تک میری معلومات ہیں، ترک ٹیچرز ترکی کے بجائے تھائی لینڈ جارہے ہیں کیوں کہ انہیں خدشہ ہے کہ ترکی واپس پہنچنے پر انہیں گرفتاری کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کراچی، کوئٹہ اور پشاور کے پاک ترک اسکولوں سے بھی زیادہ تر ترک ٹیچرز اور عملے کے ارکان ملک چھوڑ کر جاچکے ہیں۔

چند روز قبل ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر مملکت برائے فیڈرل ایجوکیشن اینڈ پروفیشنل ٹریننگ بلیغ الرحمٰن نے کہا تھا کہ کوئی بھی حکومت یہ حق محفوظ رکھتی ہے کہ وہ کسی بھی غیر ملکی کو ملک چھوڑنے کا حکم دے دے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ یہ بات ان کے علم میں نہیں کہ جو ٹیچرز جارہے ہیں ان کی جگہ ترک ٹیچرز ہی آئیں گے یا نہیں تاہم انہوں نے کہا کہ پاک ترک اسکولز کو بند نہیں کیا جائے گا۔

طالب علموں اور ان کے والدین نے پاک ترک اسکولز سے ترک عملے کو بے دخل کرنے کے حکومتی فیصلے کی شدید مخالفت کی تھی۔

پاکستان میں پاک ترک اسکولز اینڈ کالجز کا نیٹ ورک 1995 میں ایک بین الاقوامی این جی او کے تحت شروع کیا گیا تھا جو ترک حکومت کے ساتھ رجسٹرڈ تھی۔

اس نیٹ ورک کے تحت راولپنڈی، اسلام آباد، ملتان، کراچی، حیدرآباد، خیرپور، جامشورو اور کوئٹہ میں 28 اسکولز چلائے جارہے ہیں۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری