اوپیک میں ایرانیوں اور سعودیوں کی موافقت کا امکان

خبر کا کوڈ: 1253474 خدمت: ایران
اوپک

ایران کی وزارت پٹرولیم کے سابق عہدیدار منوچہر تکین کا کہنا ہے کہ ممکن ہے ایران اور سعودی عرب اپنے اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اوپیک اجلاس میں کسی نتیجے پر پہنچ جائیں کیونکہ اس مرتبہ صورت حال پہلے سے کہیں زیادہ حساس ہے۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق، ایران اپنی تیل کی پیداوار کم کرنے میں کوئی خاص دلچسپی نہیں رکھتا تاہم اس کی کوشش ہے کہ بین الاقوامی تیل منڈی سے مغربی پابندیوں کے دوران کھوئے ہوئے حصے کو واپس لے لے چاہے وہ کم قیمت پر کیوں نہ ہو، یورپین ریفائنری اور خریدار ایشیائی ممالک کے ساتھ روابط کی بہتری ایران کے فائدے میں ہے۔

امریکی روزنامے وال اسٹریٹ جرنل نے اس حوالے سے لکھا ہے کہ ایران کی اقتصاد دوسرے اوپیک رکن ممالک کی نسبت مختلف ہے۔ ایران صرف 25 فیصد بجٹ تیل کی پیداوار سے حاصل کرتا ہے جبکہ سعودی بجٹ کا 70 فیصد انحصار تیل کی پیداوار پر ہے۔

ایرانی وزارت پٹرولیم کے ایک عہدیدار کا کہنا ہے کہ ایران کا تیل پر انحصار بہت کم ہے۔

ایرانی حکام ہمیشہ سے یہ کہہ رہے ہیں کہ بین الاقوامی منڈی سے اپنا حصہ پابندیوں سے قبل 2012 کی سطح پر لانے کے خواہاں ہیں تاہم پابندیوں سے قبل کا درست اعداد و شمار کا جائزہ لینا ایک مشکل کام ہے۔

بین الاقوامی منڈی میں ایران کے حصے کا اندازہ اس ملک کے تیل کی پیداوار کو اس کے رقیبوں کے تیل کی پیداوار سے لگایا جاسکتا ہے۔ مثلا، 2005ء میں جب اوپیک اپنے رکن ممالک کے حصوں کا تعین کر رہا تھا، ایران کا حصہ 4.1 ملین بیرل تھا جبکہ سعودی عرب کا روازنہ کی بنیاد پر حصہ 9.1 ملین بیرل تھا جو کہ آج 10.6 بیرل تک پہنچ چکا ہے۔

ایران کی وزارت پٹرولیم کے سابق عہدیدار منوچہر تکین کا کہنا ہے کہ ممکن ہے ایران اور سعودی عرب اس مرتبہ اپنے اختلافات کو بالائے طاق رکھیں کیونکہ صورت حال پہلے سے کہیں زیادہ حساس ہے۔                                                                    

بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اوپیک رواں ہفتے کسی نتیجے پر پہنچ جائے تو تیل کی قیمت 35 ڈالر سے کم ہوسکتی ہے۔

تکین نے مزید کہا ہے کہ فی الحال صورت حال نہایت حساس ہے۔۔۔ جب صورت حال بحران کی صورت اختیار کر لیتی تو اوپیک رکن ممالک بیدار ہوجاتے ہیں اور کوئی فیصلہ کرنے کے لئے ایک جگہ جمع ہوجاتے ہیں۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری