امام رضا علیہ السلام کی شہادت کی مناسبت سے؛

شمس الشموس امام رؤف حضرت علی بن موسیٰ الرضا علیہ السلام کی حیات طیبہ پر ایک نظر

خبر کا کوڈ: 1254081 خدمت: مقالات
28 صفر المظفر؛ حرم امام رضا علیہ السلام میں عزاداروں کے دستے

حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ عنقریب میرا ایک ٹکڑا خراسان میں دفن کیا جائے گا کوئی غم زدہ اس کی زیارت نہیں کرے گا مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ اس کے غم کو دور فرما دے گا اور نہ کوئی گناہ گار زیارت کرے گا مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ اس کی بخشش فرما دے گا۔

خبر رساں ادارہ تسنیم: حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ عنقریب میرا ایک ٹکڑا خراسان میں دفن کیا جائے گا کوئی غم زدہ اس کی زیارت نہیں کرے گا مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ اس کے غم کو دور فرما دے گا اور نہ کوئی گناہ گار زیارت کرے گا مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ اس کی بخشش فرما دے گا۔

امامت کے آٹھویں تاجدار اور خاندان رسالت کے دسویں معصوم حضرت امام علی رضا علیہ السلام کی ولادت با سعادت گیارہ ذی القعد 148 ہجری مدینہ منورہ میں ہوئی۔آپ کی ولادت کے متعلق آپ کی والدہ جناب ام البنین کا کہنا ہے کہ جب تک امام علی رضا علیہ السلام میرے بطن میں رہے مجھے گل کی گرانباری مطلقا محسوس نہیں ہوئی، میں اکثرخواب میں تسبیح وتہلیل اورتمہید کی آوازیں سنا کرتی تھی جب امام رضا علیہ السلام پیدا ہوئے توآپ نے زمین پرتشریف لاتے ہی اپنے دونوں ہاتھ زمین پرٹیک دئیے اوراپنا فرق مبارک آسمان کی طرف بلند کردیا آپ کے لبہائے مبارک جنبش کرنے لگے ایسا معلوم ہوتا تھا کہ جیسے آپ خدا سے کچھ باتیں کر رہے ہیں اسی اثناء میں امام موسی کاظم علیہ السلام تشریف لائے اورمجھ سے ارشاد فرمایا کہ تمہیں خداوندعالم کی یہ عنایت و کرامت مبارک ہو، پھر میں نے مولود مسعود کوآپ کی آغوش میں دیدیا آپ نے اس کے داہنے کان میں اذان اور بائیں کان میں اقامت کہی اس کے بعد آپ نے ارشادفرمایا: اسے لے لو یہ زمین پرخدا کی نشانی ہے اور میرے بعد حجت اللہ کے فرائض کا ذمہ دار ہے.

آپ کے والد ماجد حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام نے لوح محفوظ کے مطابق اورتعیین رسول(ص) کے موافق آپ کو”اسم علی“ سے موسوم فرمایا. آپ بارہ اماموں میں سے تیسرے ”علی“ ہیں.آپ کی کنیت ابوالحسن تھی اورآپ کے القاب صابر،زکی،ولی،رضی،وصی تھے اورمشہورترین لقب رضا تھا. علامہ طبرسی تحریرفرماتے ہیں کہ آپ کو رضا اس لیے کہتے ہیں کہ آسمان وزمین میں خداوعالم، رسول اکرم(ص) اورآئمہ طاہرین علیھم السلام، نیزتمام مخالفین وموافقین آپ سے راضی تھے.

علامہ مجلسی تحریرفرماتے ہیں کہ بزنطی نے حضرت امام محمد تقی علیہ السلام سے لوگوں کی افواہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آپ کے والد ماجد کو لقب رضا سے مامون رشید نے ملقب کیا تھا آپ نے فرمایا ہرگز نہیں یہ لقب خدا و رسول(ص) کی خوشنودی کاجلوہ بردارہے اورخاص بات یہ ہے کہ آپ سے موافق ومخالف دونوں راضی اورخوشنودتھے.

آپ کی نشوونما اور تربیت اپنے والد بزرگوارحضرت امام موسی کاظم علیہ السلام کے زیرسایہ ہوئی اوراسی مقدس ماحول میں بچپنا اور جوانی کی متعدد منزلیں طے ہوئیں اور 30 برس کی عمرپوری ہوئی اگرچہ آخری چند سال اس مدت کے وہ تھے جب امام موسی کاظم علیہ السلام ہارون رشید (لعن اللہ علیہ) کو قید کر دیا تھا مگراس سے پہلے 24 یا 25 برس آپ کوبرابراپنے پدر بزرگوار کے ساتھ رہنے کا موقع ملا.

آپ کے پدربزرگوارحضرت امام موسی کاظم علیہ السلام کو معلوم تھا کہ حکومت وقت جس کی باگ ڈوراس وقت ہارون رشیدعباسی کے ہاتھوں میں تھی آپ کوآزادی کی سانس نہ لینے دے گا اورایسے حالات پیش آجائیں گے کہ آپ کی عمر کے آخری حصہ میں اوردنیا کوچھوڑنے کے موقع پرمحبانِ اہلبیت علیھم السلام کا آپ سے ملنا یابعد کے لیے راہنما کا دریافت کرناغیرممکن ہوجائے گا اس لیے آپ نے انہیں آزادی کے دنوں اورسکون کے اوقات میں جب کہ آپ مدینہ میں تھے محبانِ اہلبیت علیھم السلام کو اپنے بعد ہونے والے امام سے روشناس کرانے کی ضرورت محسوس فرمائی چنانچہ اولادعلی وفاطمہ میں سے سترہ آدمی جوممتاز حیثیت رکھتے تھے انہیں جمع فرما کراپنے فرزند حضرت علی رضاعلیہ السلام کی وصایت اورجانشینی کا اعلان فرما دیا اورایک وصیت نامہ تحریراً بھی مکمل فرمایا جس پرمدینہ کے معززین میں سے ساٹھ آدمیوں کی گواہی لکھی گئی یہ اہتمام دوسرے آئمہ کے یہاں نظرنہیں آیا صرف ان خصوصی حالات کی بناء پرجن سے دوسرے آئمہ اپنی وفات کے موقعہ پردوچارنہیں ہونے والے تھے۔

183ھ میں حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام نے قیدخانہ ہارون رشید میں اپنی عمرکاایک بہت بڑاحصہ گزار کر درجہ شہادت حاصل فرمایا، آپ کی وفات کے وقت امام رضاعلیہ السلام کی عمر تیس سال کی تھی والد بزرگوار کی شہادت کے بعد امامت کی ذمہ داریاں آپ کی طرف منتقل ہوگئیں یہ وہ وقت تھا جب کہ بغداد میں ہارون رشید تخت خلافت پر متمکن تھا اوربنی فاطمہ کے لیے حالات بہت ہی ناسازگارتھے۔

حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام کے بعد دس برس تک ہارون رشید کا دور رہا یقیناً وہ امام رضاعلیہ السلام کے وجود کو بھی دنیا میں اسی طرح برداشت نہیں کرسکتا تھا جس طرح اس کے پہلے آپ کے والد ماجد کا رہنا اس نے گوارانہیں کیا مگر یا توامام موسی کاظم علیہ السلام کے ساتھ جو طویل مدت تک تشدداور ظلم ہوتارہا اورجس کے نتیجہ میں قیدخانہ ہی کے اندرآپ دنیا سے رخصت ہو گئے اس سے حکومت وقت کی عام بدنامی ہوگئی تھی اور یا واقعی ظالم کو بدسلوکیوں کااحساس اورضمیر کی طرف سے ملامت کی کیفیت تھی جس کی وجہ سے کھلم کھلا امام رضا علیہ السلام کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کی تھی لیکن وقت سے پہلے اس نے امام رضاعلیہ السلام کو ستانے میں کوئی لمحہ ہاتھ سے جانے نہیں دیا حضرت کے عہدہ امامت کوسنبھالتے ہی ہارون رشید نے آپ کا گھر لٹوا دیا، اور عورتوں کے زیوارت اورکپڑے تک اتروا لیے تھے.

زمانہ ہارون رشید میں حضرت امام علی رضاعلیہ السلام حج کے لیے مکہ معظمہ تشریف لے گئے اسی سال ہارون رشید بھی حج کے لیے آیا ہوا تھا خانہ کعبہ میں داخلہ کے بعد امام علی رضاعلیہ السلام ایک دروازہ سے اور ہارون رشید دوسرے دروازہ سے نکلے امام علیہ السلام نے فرمایا کہ یہ دوسرے دروازہ سے نکلنے والا جو ہم سے دور جارہا ہے عنقریب طوس میں دونوں ایک جگہ ہوں گے ایک روایت میں ہے کہ یحی ابن خالد برمکی کوامام علیہ السلام نے مکہ میں دیکھا کہ وہ رومال سے گرد کی وجہ سے منہ بند کئے ہوئے جا رہا ہے آپ نے فرمایاکہ اسے پتہ بھی نہیں کہ اس کے ساتھ امسال کیا ہونے والا ہے یہ عنقریب تباہی کی منزل میں پہنچا دیا جائے گاچنانچہ ایساہی ہوا.

آپ کے اخلاق وعادات اورشمائل وخصائل کا لکھنا اس لیے دشوارہے کہ وہ بے شمارہیں آپ کثرت سے خیرات کیا کرتے تھے اور اکثر رات کے تاریک پردہ میں اس استحباب کو ادا فرمایا کرتے تھے موسم گرما میں آپ کا فرش جس پرآپ بیٹھ کرفتوی دیتے یا مسائل بیان کیا کرتے بوریا ہوتا تھا اور سرما میں کمبل آپ کا یہی طرزاس وقت بھی رہا جب آپ ولی عہد حکومت تھے آپ کا لباس گھرمیں موٹا اور خشن ہوتا تھا اوررفع طعن کے لیے باہرآپ اچھا لباس پہنتے تھے ایک مرتبہ کسی نے آپ سے کہاکہ حضوراتنا عمدہ لباس کیوں استعمال فرماتے ہیں آپ نے اندر کا پیراہن دکھلا کر فرمایا اچھا لباس دنیا والوں کے لیے اورکمبل کا پیراہن خدا کے لیے ہے.

آپ کے خادم یاسر کا بیان ہے کہ ہم ایک دن میوہ کھا رہے تھے اور کھانے میں ایسا کرتے تھے کہ ایک پھل سے کچھ کھاتے اور کچھ پھینک دیتے ہمارے اس عمل کو آپ نے دیکھ لیا اور فرمایا نعمت خدا کوضائع نہ کرو ٹھیک سے کھاؤ اورجو بچ جائے اسے کسی محتاج کودے دو، آپ فرمایا کرتے تھے کہ مزدورکی مزدوری پہلے طے کرنا چاہئے کیونکہ چکائی ہوئی اجرت سے زیادہ جو کچھ دیا جائے گا پانے والا اس کو انعام سمجھے گا.

آل محمد(ص) کے تمام افراد بلندترین علم کے درجے پرقراردئیے جاتے تھے جسے دوست اوردشمن کو ماننا پڑتا تھا یہ اوربات ہے کہ کسی کو علمی فیوض پھیلانے کا زمانے نے کم موقع دیا اور کسی کو زیادہ، چنانچہ ان حضرات میں سے امام جعفرصادق علیہ السلام کے بعد اگر کسی کو سب سے زیادہ موقع حاصل ہوا ہے تو وہ حضرت امام رضاعلیہ السلام ہیں، جب آپ امامت کے منصب پرنہیں پہنچے تھے اس وقت حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام اپنے تمام فرزندوں اورخاندان کے لوگوں کو نصیحت فرماتے تھے کہ تمہارے بھائی علی رضا عالم آل محمد علیھم السلام ہیں، اپنے دین مسائل کوان سے دریافت کر لیا کرو، اورجو کچھ اسے کہیں یاد رکھو، اور پھر حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام کی وفات کے بعد جب آپ مدینہ میں تھے اورروضہ رسول پرتشریف فرمارہے تھے توعلمائے اسلام مشکل مسائل میں آب کی طرف رجوع کرتے تھے۔

محمدبن عیسی یقطینی کابیان ہے کہ میں نے ان تحریری مسائل کو جوحضرت امام رضاعلیہ السلام سے پوچھے گئے تھے اورآپ نے ان کا جواب تحریر فرمایا تھا، اکھٹا کیا تواٹھارہ ہزار کی تعداد میں تھے.

واقعہ شہادت کے متعلق مورخین نے لکھتے ہیں کہ حضرت امام رضاعلیہ السلام نے فرمایاتھا کہ ”فمایقتلنی واللہ غیرہ“ خداکی قسم مجھے مامون کے سواء کوئی اورقتل نہیں کرے گا اورمیں صبرکرنے پرمجبورہوں ۔علامہ شبلنجی لکھتے ہیں کہ ہرثمہ بن اعین سے آپ نے اپنی وفات کی تفصیل بتلائی تھی اوریہ بھی بتایاتھا کہ انگوراورانارمیں مجھے زہردیاجائے گا۔

علامہ معاصرلکھتے ہیں کہ ایک روزمامون نے حضرت امام رضاعلیہ السلام کواپنے گلے سے لگایااورپاس بٹھاکران کی خدمت میں بہترین انگوروں کاایک طبق رکھا اوراس میں سے ایک خوشااٹھاکرآپ کی خدمت میں پیش کرتے ہوئے کہاابن رسول اللہ یہ انگورنہایت ہی عمدہ ہیں تناول فرمائیے آپ نے یہ کہتے ہوئے انکارفرمایاکہ جنت کے انگوراس سے بہترہیں اس نے شدید اصرارکیااورآپ نے اس میں سے تین دانے کھالیے یہ انگورکے دانے زہرآلودتھے انگورکھانے کے بعد آپ اٹھ کھڑے ہوئے ،مامون نے پوچھاآپ کہاں جارہے ہیں آپ نے ارشاد فرمایا جہاں تونے بھیجاہے وہاں جارہاہوں قیام گاہ پرپہنچنے کے بعد آپ تین دن تک تڑپتے رہے بالآخرانتقال فرماگئے ۔

انتقال کے بعدحضرت امام محمدتقی علیہ السلام باعجازتشریف لائے اورنمازجنازہ پڑھائی اورآپ واپس چلے گئے بادشاہ نے بڑی کوشش کی کہ آپ سے ملے مگرنہ مل سکا اس کے بعدآپ کوبمقام طوس محلہ سنابادمیں دفن کردیاگیا جوآج کل مشہدمقدس کے نام سے مشہورہے اوراطراف عالم کے عقیدت مندوں کے حوائج کامرکزہے۔

    تازہ ترین خبریں