تصویری رپورٹ/

مختلف دینی مسالک کے علماء اور دانشوروں کےمشترکہ فورم کی تشکیل، علامہ امین شہیدی سربراہ منتخب

خبر کا کوڈ: 1254106 خدمت: اسلامی بیداری
امت واحدہ

پاکستان میں دینی اقدار کی سر بلندی، مذہبی اور مسلکی ہم آہنگی، افہام و تفہیم، دینی مشترکات کے فروغ، معاشرے میں مذہبی رواداری کےلئےجدوجہد کرنے والوں کی حوصلہ افزائی اور اس مقدس مقصد کے حصول کی خاطر مشترکہ پلیٹ فارم تشکیل دینے کیلئے لاہور کے ایمبیسیڈر ہوٹل میں ’’امت واحدہ‘‘ پاکستان کا پہلا رسمی تاسیسی اجلاس منعقد ہوا جس میں 38 علماء ومشائخ اور تنظیمی تجربہ کار ساتھیوں نے شرکت کی۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق، مختلف دینی مسالک کے علماء اور دانشوروں نے مشترکہ فورم تشکیل دی ہے جس کے سربراہ مجلس وحدت مسلمین کے رہنما علامہ امین شہیدی منتخب کئے گئے ہیں۔

اس اجلاس میں’’امت واحدہ ‘‘کی تشکیل کےمقاصد اور اس کی حکمت عملی پر تفصیل سے  روشنی ڈالی گئی اور اہداف کے طور پر درج ذیل نکات پیش کیے گئے۔

(1)۔ قرآن اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی سنت سے مضبوط تمسک کے لئے عملی کوشش
(2)۔ جزئیات کی بجائے اسلام کے بنیادی اھداف و مقاصد پر زور
(3)۔ مسالک کے درمیان مشترک پہلوئوں پر زور اور ان کی تقویت
(4)۔ مشترک دشمن کے مقابلہ اور خطرات کے سد باب کرنے پر یکسوئی
(5)۔ تفرقہ انگیز مسائل سے اجتناب اور دوری اور جزئی مسائل سے چشم پوشی۔
(6)۔ امت مسلمہ کے مصالح  کی عالمی سطح پر تشخیص اور اس پر تمام فرقوں کا اتحاد۔
(7)۔ تفرقہ بازی کے لئے دشمن کی سازشوں اور ان کے مکرو حیلہ سے آشنائی اور سدباب
(8)۔ اسلامی فرقوں کے علماء کے درمیان باہمی روابط کی تقویت اور غلط فہمیوں کو ختم کرنے کے لئے دوستانہ ماحول میں گفتگو
(9)۔ علماء اور خواص کے ساتھ ساتھ عوام میں بھی تحمل و برداشت،کشادہ دلی اور مخالف نظریات کو برداشت کرنے کی تلقین
(10)۔ کسی بھی فرقےکے مقدسات کی توہین سے مکمل اجتناب وپرہیز
(11)۔ نا معقول تعصب، الزام تراشیوں افتراء اور تہمت سے مکمل پرہیز
(12)۔ شدت پسند علماء اہل قلم، خطیب افراد پر، جو ہمیشہ نفاق و تفرقہ کا سبب ہوتے ہیں، کنٹرول
(13)۔ شیعہ سنی مشترکہ اجتماعات کے انعقاد کی عملی کوشش
(14)۔ مشترکہ علمی اور فکری کاوشوں اور مواد کی اشا عت

ایجنڈا اور اہداف سے تمام شرکاء نے مکمل اتفاق کرتے ہوئے اپنی گفتگو میں مزید اچھی تجاویز بھی دیں۔

اجلاس میں طے پایا کہ ایک ماہ میں ’’امت واحدہ‘‘ کا مرکزی سیکریٹریٹ اسلام آباد میں قائم کیا جائے گا اور مرکزی سپریم کونسل کا اعلان کیا جائے گا، ساتھ ہی ورکنگ باڈی کے لئے بھی افراد کا تعین کیا جائے گا۔ درایں اثناء اجلاس کے شرکاء نے علامہ محمد امین شہیدی کو اتفاق رائے سے ’’امت واحدہ پاکستان‘‘ کا سربراہ منتخب کرلیا۔

’’امت واحدہ‘‘ پاکستان میں موجود دینی مکاتب اور مسالک کے مابین افہام و تفہیم اور مسالک کے درمیان موجود مشترکات کے فروغ کا  ایک موثر ’’فورم‘‘ ہوگا جس کو صوبوں میں بھی پھیلایا جائے گا۔

اجلاس میں سید ضیاء اللہ شاہ بخاری، متحدہ جمیعت اہلحدیث پاکستان
پیر سید محمد معصوم حسین نقوی، صدر جمیعت علماء پاکستان نیازی
علامہ محمد امین شہیدی، مجلس وحدت مسلمین پاکستان
حافظ اکبر علی نقش بندی، جمیعت علماء پاکستان نظریاتی
پیر سید کونین حید ربخاری، جمیعت علماء پاکستان نظریاتی
محمد ریحان طاہر قادری، جمیعت علمائےپاکستان
محمد عثمان علی جلالی، جمعیت علمائےپاکستان نورانی
محمد حذیفہ بخاری، متحدہ جمیعت اہلحدیث پاکستان
پیرسید محمد صفدر شاہ گیلانی، آستانِ حیدر کندیاں ضلع میانوالی
مفتی محمدآصف نعمانی، جمیعت علماءپاکستان نظریاتی
پیر اختر رسول قادری، آستان حق باہو
سید اسامہ بخاری، متحدہ جمیعت اہل حدیث پاکستان
محمد عاکف طاہر ایڈووکیٹ، صوفی کونسل
محمد احمدوینس ایڈووکیٹ، شہزادہ علی ذوالقرنین،
محمد جعفر ماجد اعوان، انجمن طلباء اسلام
سید محمدعلی جعفری
علامہ محمد حیدر علوی
سید خزیمہ ضیاء بخاری، متحدہ جمیعت اہلحدیث پاکستان
انجم رضا، المصطفیٰ فاؤنڈیشن
مسعود چوہدری، سید یوسف صدیقی، جامعہ اسلامیہ سیراج العلوم
صاحبزادہ نعیم عارف نوری، جامیہ غوثیہ سبزہ زار کے علاوہ متعدد علماء مشائخ اور دانشوروں نے شرکت کی۔

تصاویر ملاحظہ فرمائیں:

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری