بھارت نے سارک سمٹ کو سبوتاژ کیا لیکن پاکستان ایسا نہیں کرے گا/ ہارٹ آف ایشیا کانفرنس میں مشیر خارجہ کی شرکت متوقع

خبر کا کوڈ: 1254657 خدمت: پاکستان
سرتاج عزیز

باہمی تعلقات میں کشیدگی کے باوجود حکومت پاکستان نے بھارت میں ہونے والی ہارٹ آف ایشیا کانفرنس میں شرکت کرنے کا دلیرانہ فیصلہ کیا ہے حالانکہ بھارت نے نومبر میں پاکستان میں ہونے والی سارک سمٹ کا بائیکاٹ کردیا تھا جس کے باعث یہ سمٹ ملتوی کرنی پڑی تھی۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق، رواں ہفتے 3 سے 4 دسمبر تک بھارت کے شہر امرتسر میں ہونے والی ہارٹ آف ایشیا کانفرنس کے موقع پر پاکستان اور بھارت کے حکام کے درمیان دو طرفہ ملاقات ہونے کی توقع نہیں۔

ڈان نیوز کی رپورٹ کے مطابق، حکام کا کہنا ہے کہ وزراء کی سطح پر ہونے والی ہارٹ آف ایشیا کانفرنس میں پاکستانی وفد کی قیادت وزیر اعظم کے مشیر برائے خارجہ امور سرتاج عزیز کریں گے۔

اس کانفرنس کا مقصد افغانستان اور اس کے پڑوسی ممالک کے درمیان علاقائی تعاون کو فروغ دینا اور سیکیورٹی خطرات سے نمٹنے کی حکمت عملی طے کرنا ہے۔

مشیر خارجہ سرتاج عزیز کانفرنس میں شرکت کے لیے اتوار کے روز امرتسر پہنچیں گے۔

ایک عہدے دار نے ڈان کو بتایا کہ ابھی تک ہمیں بھارت کی طرف خواہش نظر نہیں آئی، گیند بھارت کے کورٹ میں ہے، وہ جانتے ہیں کہ ہم بات چیت کرنا چاہتے ہیں لیکن وہ کیا چاہتے ہیں ہمیں نہیں معلوم۔

پاکستان اور بھارت کے حکام کے درمیان ہارٹ آف ایشیا اجلاس کے دوران آخری ملاقات اسلام آباد میں ہونے والی کانفرنس میں ہوئی تھی جس میں دونوں ملکوں نے تمام باہمی اختلافات کے حل کے لیے جامع دو طرفہ مذاکرات شروع کرنے پر اتفاق کیا تھا۔

تاہم رواں برس جنوری میں پٹھان کوٹ پر ہونے والے حملے کی وجہ سے دونوں ملکوں کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ شروع نہ ہوسکا۔

اس کے بعد بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں آزادی کی نئی تحریک شروع ہونے سے پاکستان اور بھارت کے تعلقات میں مزید کشیدگی آگئی۔

بھارت میں 18 ستمبر کو کشمیر کے اُڑی فوجی کیمپ پر ہونے والے حملے اور دراندازی کی کوششوں کا الزام پاکستان پر عائد کردیا۔

لائن آف کنٹرول پر مسلسل ہونے والی فائرنگ نے صورتحال کو مزید خراب کردیا جس میں گزشتہ دو ماہ کے دوران پاکستان کی طرف 53 کے قریب افراد جاں بحق ہوچکے ہیں۔

باہمی تعلقات میں کشیدگی کے باوجود حکومت پاکستان نے بھارت میں ہونے والی ہارٹ آف ایشیا کانفرنس میں شرکت کرنے کا دلیرانہ فیصلہ کیا ہے حالانکہ بھارت نے نومبر میں پاکستان میں ہونے والی سارک سمٹ کا بائیکاٹ کردیا تھا جس کے باعث یہ سمٹ ملتوی کرنی پڑی تھی۔

سرتاج عزیز نے قبل ازیں اسلام آباد میں صحافیوں سے کہا تھا کہ بھارت نے سارک سمٹ کو سبوتاژ کیا لیکن پاکستان ایسا نہیں کرے گا۔

ایک عہدے دار نے اس بات کی تردید کی کہ پاکستان نے امرتسر میں دو طرفہ ملاقات کے لیے بھارت سے باضابطہ طور پر درخواست کی تھی۔

بھارت میں تعینات پاکستانی ہائی کمشنر عبدالباسط نے بھی چند روز قبل بھارتی چینل کو دیے جانے والے انٹرویو میں اس بات کا اشارہ دیا تھا کہ پاکستان مذاکرات کے لیے تیار ہے۔

ہارٹ آف ایشیا کانفرنس میں بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج بھی شرکت نہیں کریں گی، ان کی جگہ وزیر مملکت برائے خارجہ امور ایم جے اکبر بھارتی وفد کی نمائندگی کریں گے۔

ایک پاکستانی سفارتکار نے بتایا کہ سشما سوراج اجلاس میں شرکت نہیں کررہیں اور مشکل ہے کہ کسی اور بھارتی عہدے دار کے ساتھ علیحدہ ملاقات ہوسکے۔

پاکستان یہ سمجھتا ہے کہ بھارت کے ساتھ تعلقات میں حالیہ تعطل کی بڑی وجہ اس کی سیاسی انتہا پسندی ہے۔

پاکستانی سفارتکار نے کہا کہ بھارت کو اپنا ذہن بنانا ہوگا، وہ کشمیر کے معاملے پر بات نہیں کرنا چاہتے۔

انہوں نے کہا کہ فی الحال مذاکرات کی بحالی کی کوئی امید نظر نہیں آرہی کیوں کہ مودی حکومت انتخابی مجبوریوں اور آر ایس ایس کے ایجنڈے زیر اثر چل رہی ہے۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری