ٹرمپ نواز گفتگو؛ کیا ٹرمپ کے تضاد بیانات پر اعتماد کیا جاسکتا ہے؟

خبر کا کوڈ: 1254672 خدمت: پاکستان
ٹرمپ اور نواز

نو منتخب امریکی صدر کے وزیراعظم پاکستان کے ساتھ ٹیلیفونک گفتگو کے دوران غیر رسمی اور عجیب لہجے نے جہاں سوشل میڈیا پر دھوم مچا دی ہے وہیں سیاسی حلقوں سمیت عوام بھی حیران ہیں کہ انتخابات سے پہلے اپنے بیانات کے ذریعے مسلمانوں کا خون پینے والا ٹرمپ ایک اسلامی ریاست کے سربراہ کے ساتھ نہایت دوستانہ لہجہ اختیار کئے ہوئے ہیں۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق، اگرچہ دو ممالک کے حکام کے درمیان ٹیلیفونک گفتگو کا متن معمول کے مطابق جاری نہیں کیا جاتا تاہم نو منتخب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور وزیراعظم پاکستان نواز شریف کے درمیان ہونے والی گفتگو نے سوشل میڈیا پر دھوم مچا دی ہے۔

امریکی صدر ٹرمپ نے عجیب لہجہ اختیار کرتے ہوئے وزیراعظم نواز شریف کے ساتھ غیر رسمی گفتگو کی ہے اور ایسا ظاہر کیا ہے کہ ان کے آپس میں بہت پرانے تعلقات ہیں۔

امریکی صدر نے وزیراعظم پاکستان سے کہا ہے کہ "مجھے آپ پر بہت زیادہ اعتماد ہے، آپ نہایت اچھے انسان ہیں، آپ کا کام بھی زبردست ہے اور یہ باتیں روز روشن کی طرح عیاں ہیں۔ امید ہے کہ آپ سے جلدی ملاقات ہو جائے۔"

انہوں نے مزید کہا: "ابھی جو میں آپ سے بات کر رہا ہوں، لگتا ہے کہ ایک ایسے شخص سے بات کر رہا ہوں جسے میں مدتوں سے جانتا ہوں، آپ کا ملک بہت اچھا ہے اور اس میں بہت زیادہ مواقع پائے جاتے ہیں، پاکستانی عوام نہایت ہوشیار اور چاک و چوبند ہیں۔"

ٹرمپ نے اپنی گفتگو جاری رکھتے ہوئے مزید کہا: "میں پاکستان کے مشکلات کو دور کرنے کے لئے ہمہ وقت تیار اور حاضر ہوں اور یہ امر میرے لئے باعث فخر ہے اور ذاتی طور پر یہ کام انجام دونگا۔ جب بھی چاہو مجھے فون کرو حتی 20 جنوری سے قبل کہ میں اپنے کام کا آغاز کروں۔

ٹرمپ کے عجیب و غریب اور غیر رسمی لہجے نے پاکستانی میڈیا اور عوام میں تہلکہ مچا دیا ہے اور سب حیران ہیں کہ انتخابات سے پہلے اپنے بیانات کے ذریعے مسلمانوں کا خون پینے والا ٹرمپ ایک اسلامی ریاست کے سربراہ کے ساتھ نہایت دوستانہ لہجہ اختیار کئے ہوئے ہیں۔

واشنگٹن پوسٹ نے اس سلسلے میں کہا ہے کہ یہ متن صرف اور صرف امریکی صدر کی گفتگو پر مرکوز ہے جس کا لہجہ خود ٹرمپ سے مختص ہے۔

ٹرمپ کی جانب سے پاکستان کی عجیب و غریب اور منفرد تعریف ایسی حالت میں کہ انہوں نے 2012ء کو اپنے ایک ٹویٹ میں کہا تھا: "اگر دو ٹوک الفاظ میں کہوں تو پاکستان ہمارا دوست نہیں، ان (پاکستان) کو بلین ڈالرز دئے جبکہ نتیجے میں خیانت کے سوا کچھ نہیں پایا۔"

ٹرمپ اپنے انتخاباتی کمپین میں بھی بارہا بھارت (یعنی پاکستان کا اصل دشمن) کی تعریف کر چکا ہے۔

واضح رہے کہ ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکہ اور بھارت مستقبل قریب میں بہترین دوست ہوں گے۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری