سپاہ پاسداران فورس:

اردگان شام میں مداخلت کے بجائے اپنے عوام کو اندرونی معاملات کا جواب دے/ ترک صدر کا بیان دہشتگردوں کی دلداری ہے

خبر کا کوڈ: 1254723 خدمت: ایران
سردار سنایی‌راد

سپاہ پاسداران فورس کے سیاسی مشیر نے اردگان کے حالیہ بیان پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ترک صدر کو چاہئے کہ شام میں مداخلت کے بجائے اپنے عوام کو اندرونی مسائل کا جواب دے جن کا کہنا ہےکہ شام میں خطیر رقم خرچ کرتے ہوئے سالوں سے مداخلت کا نتیجہ کیا ہے؟

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق، سپاہ پاسداران فورس کے سیاسی مشیر جنرل رسول سنایی راد نے اس بیان کے ساتھ کہ ترک صدر بشار اسد حکومت کے خاتمے کی طاقت نہیں رکھتا، کہا: اردگان کو اپنے عوام کی رائے کے بارے میں فکر کرنی چاہئے جن کا کہنا ہے کہ " شام میں خطیر رقم خرچ کرتے ہوئے سالوں سے ترک افواج کی مداخلت کا نتیجہ کیا ہے؟"

سپاہ پاسداران کے سیاسی مشیر کا شام کے بعض علاقوں میں شامی فوج کی کامیابیوں اور دہشتگردوں کی کا ذکر کرتے ہوئے کہنا تھا: ہم نے شامی فوج اور ان کے حامیوں کی حلب میں حالیہ پیش قدمی کا مشاہدہ کیا، اس پیش قدمی سے تکفیری دہشتگردوں کے درمیان اختلاف پیدا ہوا ہے جن میں سے بعض علاقے کو جلد از جلد ترک کرنے کے خواہاں ہیں جبکہ بعض بیرونی حامیوں کی وجہ سے مزاحمت کرنے پر مجبور ہیں۔

انہوں نے کہا: دہشتگردوں کا ادلب سے فرار ہونا بھی ان کی شکست کی اہم ترین نشانی ہے حتیٰ حالیہ کاروائیوں میں بھی مشاہدہ ہوا ہے کہ اقوام متحدہ جو آج جنگ بندی کے درپے ہے، دہشتگردوں کی حمایت کرنے والے بیرونی آقاؤں کی جانب سے دباؤ کی وجہ سے ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ پر دہشتگردوں کے حامی ممالک کا دباؤ تکفیریوں کو کچھ نہ کچھ تقویت بخشنے کے لئے ڈالا جا رہا ہے۔

سپاہ پاسداران کے سیاسی مشیر نے اس بیان کے ساتھ کہ دہشتگردوں کا قلع قمع کرنے کی آوازیں دنیا میں گونج رہی ہیں، کہا: شام کی آج کی صورت حال دہشتگردوں کی حتمی شکست کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

سردار سنایی راد نے ترک صدر کے حالیہ بیان جس میں انہوں نے کہا تھا کہ "ہم نے بشار اسد کی حکومت کے خاتمے کے لئے شام میں مداخلت کی ہے"، پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا: شام سے متعلق بیرونی افواہیں اس ملک کی اندرونی صورتحال سے مکمل طور پر مختلف ہے، جیسا کہ ہم نے ابتدا سے مشاہدہ کیا ہے کہ شام بحران کے آغاز سے صدر مقام دمشق میں کوئی خاص تبدیلی یا حوادث رونما نہیں ہوئے ہیں بلکہ عام طور پر ان علاقوں میں جھڑپیں دیکھنے میں آئی ہیں جو سرحدوں پر واقع ہیں اور ان جھڑپوں میں مسلسل بیرونی مداخلت دیکھنے میں آئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم نے دیکھا کہ بعض یورپی ممالک بشمول فرانس نے دہشتگردوں کی حمایت کی، ان کا مالی تعاون سعودی عرب، قطر اور امارات جیسے ممالک نے کیا جبکہ ان کی لاجسٹک سپورٹ بھی ترکی اور اردن کی توسط سے بحیرہ روم کے سواحل کے ذریعے لیبیا سے سازوسامان منتقل کرنے کی صورت میں انجام پائی، لہٰذا یہ ممالک ابتدا سے دہشتگردوں کی حمایت کرتے آرہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا: آج اگر اردگان اس طرح کا بیان جاری کرتا ہے تو یہ تازہ خبر نہیں ہے اور شاید یہ دہشتگردوں کی دلداری کرنے کے لئے ہے جو حلب میں سخت محاصرے کی حالت میں ہیں اور جن کے خلاف عوام نے بھی اعتراضات شروع کئے ہیں۔ اس طرح سے معلوم ہوتا ہے کہ ترک صدر کے بیانات دہشتگردوں کی دلجوئی اور دلداری کرنے کے لئے سامنے آرہے ہیں۔

جنرل سنایی راد کا کہان تھا کہ اگر ترکی بشار اسد کی طاقت کے خاتمے کی صلاحیت رکھتا تو اس سلسلے میں ابتدا میں ہی کامیاب ہوجاتا، آج اردگان کو اپنی عوام کے سوالوں کا جواب دینا چاہئے کہ شام میں خطیر رقم خرچ کرنے سے ترکی کو کیا فائدہ پہنچا ہے؟

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری