بھارت اور افغانستان میں ہوائی کارگو کا امکان

خبر کا کوڈ: 1256800 خدمت: دنیا
اشرف غنی و مودی

پاکستان کے ساتھ کشیدہ سیاسی تعلقات کے باعث تجارت کی راہ میں حائل رکاوٹ پر قابو پانے کے لیے بھارت اور افغانستان کی جانب سے ہوائی کارگو سروس شروع کیے جانے کا امکان ہے۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق، افغانستان کے استحکام کے لیے بھارت کے شمالی شہر امرتسر میں ہونے والی ہارٹ آف ایشیا کانفرنس میں افغان صدر اشرف غنی اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی ملاقات متوقع ہے۔

ڈان نیوز کی رپورٹ کے مطابق، دونوں ممالک کے سربراہان افغانستان کی اہم مارکیٹس سے رابطے بہتر بنانے کے لیے فضائی کارگو سروس کا آغاز کرنے پر غور کریں گے، تاکہ طالبان سے جنگ میں مصروف افغانستان کو اپنے پھلوں اور قالین کی صنعت کو بہتر بنانے کا موقع میسر آسکے۔

اس وقت افغانستان غیر ملکی ممالک سے تجارت کے لیے کراچی کی بندرگاہ کا استعمال کرتا ہے، جہاں سے وہ محدود تعداد میں برآمدات بھارت بھیج پاتا ہے جبکہ اس راستے سے بھارت کو برآمدات افغانستان بھیجنے کی اجازت نہیں۔

افغان مالیاتی پالیسی کے ڈائریکٹر جنرل خالد پائیندہ کہتے ہیں کہ خطے کی سب سے بڑی کاروباری مارکیٹ بھارت کے ساتھ اس وقت ہونے والی زمینی تجارت سے کہیں زیادہ تجارت ممکن ہے اور اسی لیے دونوں ممالک نے ہوائی راستہ استعمال کرنے کا سوچا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ افغانستان اور بھارت کے درمیان ایئر کارگو سروس کا آغاز کیا جائے گا، دونوں ممالک میں تجارت کے لیے بہترین مواقع موجود ہیں، افغانستان میں پھل، اور خشک میوہ جات موجود ہیں اور انڈیا کے ذریعے قالین اور دیگر چیزوں کو دوسرے ممالک تک پہنچایا جاسکے گا۔

خالد پائیندہ کا مزید بتانا تھا کہ اس سروس کی تشکیل کے لیے افغانستان اور بھارت کی مشترکہ کمپنیاں شامل ہوں گی اور دونوں ممالک کی حکومتیں کابل اور دہلی پر ائیر پورٹس کے انفرااسٹرکچر کے اغاز کے لیے کام کررہی ہیں۔

امرتسر میں میٹنگ میں شریک بھارتی حکومتی ذرائع کے مطابق اس کارگو سروس کی تفصیل پر اس وقت کام جاری ہے، اور ممکن ہے اس میں قندھار کو نقطہ آغاز کے طور پر شامل کرلیا جائے۔

افغانستان، پاکستان اور ایران کے معاملات پر نظر رکھنے والے بھارتی وزارتِ خارجہ کے افسر گوپال باگلے کہتے ہیں کہ افغانستان کے تجارتی اور مواصلاتی نظام کو بہتر بنانے کے لیے کئی تجاویز زیرِغور ہیں۔

ان کے مطابق، رابطے کو بہتر بنانے، موجودہ چیلنجز سے نمٹنے اور تجارت میں اضافے کے لیے کئی تجاویز موجود ہیں۔

دوسری جانب پاکستانی وزیراعظم کے مشیر برائے خارجہ امور سرتاج عزیز بھارت کے شہر امرتسر میں ہونے والی ہارٹ آف ایشیا کانفرنس میں شرکت کریں گے۔

پاکستان اور بھارت کے تعلقات اُڑی میں بھارتی فوجی بیس پر ہونے والے حملے کے بعد سے کشیدگی اختیار کیے ہوئے ہیں، اور گذشتہ چند ماہ کے دوران فائرنگ، شیلنگ اور حملوں کے واقعات کا سلسلہ جاری ہے۔

پاکستان کی جانب سے کشمیر میں تشدد کی فضا کو بڑھاوا دینے کے بھارتی الزامات کی تردید کی جاتی رہی ہے اور بھارت سے کشمیر کے مسلم اکثریتی علاقوں کے مستقبل کے حوالے سے مذاکرات کا آغاز کرنے کا کہا جاتا رہا ہے۔

واضح رہے کہ بھارت امرتسر میں ہونے والی کانفرنس کے دوران پاکستان سے مذاکرات کے امکان کو رد کرچکا ہے۔

دوسری جانب افغانستان اور پاکستان کے تعلقات میں بھی دارالحکومت کابل سمیت مختلف علاقوں میں ہونے والے حملوں کی وجہ سے کشیدگی سامنے آئی ہے، افغانستان کے مطابق یہ حملے اس لیے ہوئے کیونکہ پاکستان اپنی سرزمین پر موجود جہادی گروہوں کو روکنے میں کامیاب نہیں ہوسکا۔

انڈیا میں افغانستان کے سفیر شائدہ ابدالی کے مطابق، جب تک دہشتگردی کے خلاف مشترکہ کوششیں نہیں کی جائیں گی اور دہشتگردوں کی پناہ گاہوں کے خلاف کارروائیاں نہیں ہوں افغانستان سمیت خطے کے کسی بھی حصے میں امن کا قیام ممکن نہیں ہوسکتا۔

دوسری طرف پاکستان کا مؤقف ہے کہ ہم خود تشدد سے متاثر ہیں اور انڈیا افغانستان کی مدد سے بلوچستان میں بدامنی پھیلانے کی کوششوں میں مصروف ہے۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری