تحریر: شجاع عباس

بیس پچیس کروڑ شیعہ اور سو کروڑ سے زائد اہل سنت

خبر کا کوڈ: 1257028 خدمت: مقالات
وحدت شیعه و سنی

پاکستانی کالم نگار نے خطے میں اتحاد بین المسلین پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ کسی گروہ کو ظلم و جور سے ختم کرنا نہ صرف غیر اسلامی اور غیر انسانی فعل ہے، بلکہ عملی طور پر ناممکن بھی ہے اسلئے دانا انسانوں اور اچھے مسلمانوں کی طرح کیوں نہ امن و محبت اور باہمی احترام سے جینے کی راہ مستقیم اختیار کی جائے۔

خبر رساں ادارے تسنیم کو ارسال کئے گئے مقالے میں کالم نگار شجاع عباس نے خطے میں اتحاد بین المسلمین پر زور دیا ہے جس کا متن من و عن قارئین کے پیش خدمت ہے۔

ایک سو پچاس کروڑ مسلمانوں میں سے شیعہ بیس سے پچیس کروڑ ہیں۔ اس حقیقت کا زیادہ قابل غور پہلو یہ ہے کہ تقریبا یہ شیعہ، سب کے سب وسیع تر مشرق وسطی میں آباد ہیں۔

وسیع تر مشرق وسطی سے مراد جزیرہ نمائے عرب سمیت ترکی، آذربائیجان، افغانستان،پاکستان،ایران،عراق،اردن،شام اورلبنان پر مبنی خطہ ارضی ہے۔

ان ممالک میں پانچ شیعہ اکثریتی،ایک آدھے شیعہ آدھے سنی،ایک اباضیہ اکثریتی اور نو سنی اکثریتی ہیں.جہاں شیعہ اکثریت میں ہیں وہاں اھل سنت کثیر تعداد میں آباد ہیں.جہاں سنی اکثریت میں ہیں وہاں اھل تشیع کثیر تعداد میں آباد ہیں۔

پچھلے چند سالوں سے جس طرح اس خطے میں سیاسی اختلافات اور اقتدار کے کھیل میں شیعہ سنی فرقہ وارایت کو ہوا دی گئی اور خون کے دریا بہائے گئے اس میں ہر صاحب دل اور عقلمند کے لئے عبرت کا بہت سامان موجود ہے۔

یہ صرف ایمان کا مسئلہ نہیں بلکہ پرامن بقائے باہمی کے تقاضے کا جبر ہے کہ اس خطے میں رہنے والا ہر اہل عقل و خرد سیاسی مقاصد کے لئے فرقہ واریت کے استعمال کا ہر راستہ مسدود کرنے کی سعی میں بھر پور حصہ لے۔

اس کے لئے بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے.اس کے لئے ضروری ہے کہ ہر ملک کا طرز حکمرانی ترجیحی طور پر جمہوری اور سیاسی نظام ہمہ گیریت اور ہمہ شامل کے اصول پر مبنی ہو.ہر طبقے کو حصہ بقدر جثہ دیا جائے۔
ہر طبقے کو بھر پور مذہبی آزادی میسر ہو۔

یہ بات ہر کسی کو باور کرائی جائے کہ اسلام کی کثیر تعبیریں موجود ہیں اور ہر کسی کو بحثیت انسان اور مسلمان من پسند تعبیردین کو اختیار کرنے کا حق حاصل ہے.کسی گروہ کو ظلم و جور سے ختم کرنا نہ صرف غیر اسلامی اور غیر انسانی فعل ہے، بلکہ عملی طور پر ناممکن بھی ہے. اسلئے دانا انسانوں اور اچھے مسلمانوں کی طرح کیوں نہ امن و محبت اور باہمی احترام سے جینے کی راہ مستقیم اختیار کی جائے۔

نوٹ: ادارے کا کالم نگار کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

    تازہ ترین خبریں