ایران کی پاک بھارت کے درمیان ثالثی کی پیش کش

خبر کا کوڈ: 1257034 خدمت: پاکستان
ظریف در هند

ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے پاکستان اور ہندوستان کے درمیان مسئلہ کشمیر سمیت دیگر مسائل کے حل کے لیے ثالثی کا کردار ادا کرنے کی پیش کش کردی۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق، ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف نے پاکستان اور ہندوستان کے درمیان مسئلہ کشمیر سمیت دیگر مسائل کے حل کے لیے ثالثی کا کردار ادا کرنے کی پیش کش کردی۔

ڈان نیوز نے رپورٹ دی ہے کہ ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے کہا کہ یہ دونوں ممالک ہمارے لیے بہت اہم ہیں اور اگر ایران ان کے درمیان کوئی ثالثی کا کردار ادا کرسکتا ہے تو ہم اس کے لیے تیار ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم یہ نہیں کہتے کہ ہم رضاکار نہیں ہیں لیکن ہم جو کچھ کرسکتے ہیں اس کے لیے ثالثی کے کردار کو ادا کرنے کو تیار ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ دو ہمسایہ ممالک ہمارے لیے بہت اہم ہیں کیونکہ ہمارے کئی اہداف یکساں ہیں۔

ایرانی نے دونوں ممالک کے درمیان جاری کشیدگی کو کم کرنے کے لیے معاونت کی پیش کش بھی کی۔

جواد ظریف نے کہا کہ ایران اپنے پیارے دوست ممالک پاکستان اور ہندوستان کے درمیان اچھے تعلقات کے لیے پرامید ہے۔

خیال رہے کہ ایران کی جانب سے پاکستان اور ہندوستان کے درمیان مصالحت کے لیے کردار ادا کرنے کی پیش کش ایک ایسے وقت میں آئی ہے جب پاکستان کی جانب سے وزیراعظم کے خارجہ امور کے مشیر سرتاج عزیز ہارٹ آف ایشیا کانفرنس میں شرکت کے لیے ہندوستان میں موجود ہیں۔

سرتاج عزیز کانفرنس میں پاکستانی وفد کی قیادت کررہے ہیں جہاں افغانستان کے ساتھ علاقائی تعاون اور اس کے ہمسائیوں کےساتھ تعلقات کو بہتر کرنے اور سیکیورٹی خطرات سے نمٹنے کے لیے اقدامات کئے جائیں گے۔

سرتاج عزیز کی مودی کے اعشایے میں شرکت

ہندوستانی وزیراعظم نریندر مودی کی جانب سے شرکا کے لیے ایک عشایہ دیا گیا جس میں سرتاج عزیز نے بھی ملاقات کی۔

مودی نے سرتاج عزیز سے وزیراعظم نواز شریف کی خیریت دریافت کی جس پر سرتاج عزیز نے کہا کہ انھوں نے آپ کے نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے۔

افغانستان اور اس کے پڑوسی ممالک کے درمیان معاشی اور سیکیورٹی تعاون بڑھانے اور دہشتگردی، انتہاپسندی اور غربت جیسے مشترکہ مسائل سے نمٹنے کے 2011 میں شروع ہونے والے ہارٹ آف ایشیا کے اس سلسلے میں پاکستان، بھارت، افغانستان، آذربائیجان، چین، قازقستان، کرغزستان، روس، سعودی عرب، تاجکستان، ترکی، ترکمانستان اور متحدہ عرب امارات شامل ہیں۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری