سیکرٹری خارجہ پاکستان کا سرکاری ٹی وی کو انٹرویو؛

پاکستان کا افغان طالبان اور حقانی نیٹ ورک کو افغانستان میں بدامنی سے گریز کرنے کا پیغام

خبر کا کوڈ: 1257494 خدمت: پاکستان
اعزاز احمد چوهدری

سیکرٹری خارجہ اعزاز چوہدری نے کہا ہے کہ کسی قسم کے دہشت گرد پاکستان میں نہیں رہیں گے، اچھے برے طالبان کی تمیز ختم ہوچکی ہے، پاکستان افغانستان میں قیام امن کیلئے کردار ادا کرتا رہے گا، پاک بھارت مذاکرات کا آغاز ہندوستان ہی کرے گا۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق، سرکاری ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے سیکرٹری خارجہ اعزاز چوہدری کا کہنا ہے کہ افغانستان کی سرزمین بھارت سمیت کسی بھی ملک کو پاکستان کے خلاف استعمال نہیں کرنے دی جائے گی اور نہ پاکستان کی سرزمین کسی بھی ملک کے خلاف استعمال کی جائے گی۔ افغانستان میں قیام امن کیلئے کردار ادا کرتے رہیں گے، پاکستان نے کئی دہائیوں سے افغانستان کو تجارت کیلئے بندرگاہ تک رسائی کی اجازت دی ہوئی ہے، جس کے تحت اربوں ڈالر کی تجارت ہو رہی ہے، یہ پاکستان اپنا فرض سمجھتا ہے، پاکستان کی جانب سے اس اقدام میں مزید بہتری لائی گئی۔

انہوں نے کہاکہ بین الاقوامی برادری کے بہت سے ممالک کو اس بات کی سمجھ  آئی ہے کہ پاکستان افغانستان کے حوالے سے بہت کام کررہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ افغانستان کی خواہش ہے کہ افغانستان کے مفاہمتی عمل میں پاکستان اپنا کردار ادا کرے، پاکستان نے افغان طالبان اور حقانی نیٹ ورک کو واضح پیغام دیا ہے کہ افغانستان میں کسی قسم کی بدامنی سے گریز کریں اور ساتھ ساتھ ہم نے ان پر بتدریج دباؤ بھی بڑھا دیا ہے، افغانستان کے مسائل بے تحاشا ہیں تاہم افغانستان کی جانب سے یہ کہنا نامناسب ہے کہ افغانستان کے مسائل پیدا کرنے میں پاکستان کا ہاتھ ہے، افغانستان کے ساتھ تمام سطح پر تعلقات بہتر چل رہے ہیں، انہیں مزید بہتری کی جانب لے جایا جارہا ہے، اس کے برعکس ٹی ٹی پی پاکستان میں دہشت گردی کررہا ہے تاہم پاکستان نے برداشت اور صبر کا مظاہرہ کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کسی قسم کے دہشت گرد پاکستان میں نہیں رہیں گے، اچھے برے طالبان کی تمیز کا وقت ختم ہوگیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ امرتسر میں جاری ہارٹ آف ایشیاء کانفرنس میں پاکستان کی شرکت سے دنیا کو یہ پیغام ضرور جائے گا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف سنجیدگی سے اقدامات اٹھا رہا ہے۔

انہوں نے کہاکہ پاک بھارت کے درمیان مذاکرات کا آغاز بھارت ہی کرے گا، کیونکہ مذاکرات بھارت کی جانب سے تعطل کا شکار ہوئے ہیں پاکستان مذاکرات کیلئے تیار ہے، تمام تصفیہ طلب معاملات پر مذاکرات جاری کرنے سے دونوں ممالک دہشت گردی کے خلاف مشترکہ جنگ لڑنے پر متفق ہوسکتے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ کشمیریوں پر ظلم ڈھانے سے توجہ ہٹانے کیلئے پاکستان پر الزامات لگائے جارہے ہیں، اس وقت سی پیک منصوبے کے نتیجے میں نئی صف بندی ہورہی ہے، یورپ کی منڈیوں تک پاکستان کی رسائی کا معاملہ بھارت کو ہضم نہیں ہورہا، بھارت کو حسد کی بجائے اس منصوبے میں شرکت کرنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ روس اس خطے کا اہم ملک ہے اور سیکیورٹی کونسل کا مستقل رکن بھی ہے، پورے ایشیاء میں صف بندی کرنے میں روس بھی اس کا حصہ ہے، روس کی جانب سے جتنے بھی پیغامات آرہے ہیں وہ مثبت ہیں، اس سے خطے میں روس کے بڑھتے ہوئے رجحان کے باعث ملکوں کے درمیان تنازعات حل کرنے میں مدد گار ثابت ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت سی پیک منصوبہ پاکستان اور چین کے درمیان ہے،کوئی ملک فی الوقت شامل نہیں ہے، سی پیک منصوبے کے تحت صنعتی زونز بنے کے بعد منصوبے میں دیگر ممالک کو شامل کرنے کیلئے لائحہ عمل دونوں ممالک کے باہمی مشاورت سے طے کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ بھی ہمارے لئے اہم ملک ہے، نامزد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو وزیراعظم نے فون کیا، دوسری جانب ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اچھے الفاظ میں پاکستان کو یاد کیا، یہ بات کچھ لوگوں کو ناپسند گزری، جنہوں نے پریس ریلیز پر تبصرے کرنے شروع کردیئے، حالانکہ ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ اور دفتر خارجہ کی پریس ریلیز میں مماثلت موجود ہے، امریکہ ہمارے لئے بہتر ملک ہے، وزیراعظم نے انہیں بروقت فون کردیا۔

    تازہ ترین خبریں