ایرانی صدر:

کانگریس کی حالیہ منظوری، ہماری نظر میں ایٹمی معاہدے کی کھلی خلاف ورزی ہے

خبر کا کوڈ: 1257722 خدمت: ایران
حسن روحانی

اسلامی جمہوری ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی نے امریکہ کی طرف سے ایران پر دس سالہ پابندیوں کو ایران ایٹیمی معاہدے کی کھلی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران اس بارے میں قومی اسمبلی کے اجلاس میں اہم فیصلہ کرے گا۔

تسنیم خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق، ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی نے اتوار کے دن ایرانی پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ نے ایران کے خلاف پابندیوں میں توسیع کر کے ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان ہونے والے ایٹمی معاہدے کی دھجیاں اڑا دی ہیں لہٰذا اس بارے میں ایران قومی اسمبلی کے اجلاس میں اہم فیصلہ کرے گا۔

ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ ایٹمی معاہدہ امام خامنہ ای اور ایران کے غیور عوام اور اسلامی جمہوریہ ایران کے مقدس نظام کے تعاون سے کسی نتیجے تک پہنچا ہے۔

ڈاکٹر حسن روحانی نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی جانب سے ایٹمی معاہدے پر عملدرآمد کے سلسلے میں کی جانے والی خلاف ورزیوں کا مناسب انداز میں جواب دیا جائے گا۔

ڈاکٹر حسن روحانی نے اتوار کے دن ایرانی پارلیمنٹ میں آئندہ سال کا بجٹ پیش کرتے وقت اس بیان کے ساتھ کہ اسلامی جمہوریہ ایران ہرگز ایٹمی معاہدے کی خلاف ورزی نہیں کرے گا، تاکید کے ساتھ کہا کہ ایران مقابل فریق کی جانب سے مشترکہ جامع ایکشن پلان کی خلاف ورزی کا مناسب جواب دے گا۔

صدر روحانی نے ایٹمی معاہدے کے بارے میں کہا کہ ایران نے جوہری معاہدے کی پاسداری کی ہے اور اپنے کئے ہوئے وعدوں پر قائم ہے۔ اگرجوہری معاہدے کی خلاف ورزی کی گئی یا اس کے اجراء میں پس و پیش سے کام لیا گیا تو اسلامی جمہوریہ ایران بھی نہایت سخت جواب دے گا۔

ایرانی صدر کا امریکی سینٹ میں ایران مخالف بل کی منظوری کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی کی متعدد رپورٹوں کے مطابق، ایران نے مشترکہ جامع ایکشن پلان پر عملدرآمد کے آغاز سے اب تک اس کی خلاف ورزی نہیں کی ہے اور اس سلسلے میں اپنے تمام وعدوں پر عمل پیرا رہا ہے۔

صدر حسن روحانی نے کہا کہ امریکہ کو بین الاقوامی قوانین اور معاہدوں پر عمل کرنا چاہیے۔ ایران اور 1+5 کے درمیان مشترکہ ایٹمی معاہدہ  کوئی دوطرفہ معاہدہ نہیں بلکہ چند جانبہ معاہدہ ہے۔

روحانی نے کہا کہ ایٹمی معاہدہ ایک بین الاقوامی معاہدہ ہے اور امریکہ کو تنہا خلاف ورزی کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔

اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر نے اس بات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ امریکی صدر باراک اوباما ایران مخالف پابندیوں کی توسیع کو روکنے کے لیے اپنے اختیارات کا استعمال کرنے کا پابند ہے، کہا کہ جوہری معاہدے پر عملدرآمد کی نگرانی کی ذمے دار ایرانی کمیٹی رواں ہفتے کے دوران، اسلامی جمہوریہ ایران کی اعلیٰ قومی سلامتی کونسل اور ایرانی پارلیمنٹ کے قوانین کے مطابق اس سلسلے میں مناسب فیصلے کرکے عوام کو مطلع کرے گی۔

واضح رہے کہ امریکی سینٹ نے گزشتہ جمعرات کو ایران کے خلاف پابندیوں میں مزید دس سال کی توسیع کر دی ہے۔

یاد رہے کہ اس سے قبل رہبر معظم انقلاب اسلامی نے تاکید کرتے ہوئے کہا تھا: موجودہ امریکی حکومت نے اب تک جوہری معاہدے کی متعدد بار خلاف ورزی کی ہے اور ان میں سے ایک حال ہی میں ایران کے خلاف 10 سالہ پابندیوں کی توسیع ہے، یہ یقینی طور پر جوہری معاہدے کی کھلی خلاف ورزی ہے، اسلامی جمہوریہ ایران اس کے خلاف ضرور رد عمل ظاہر کرے گا۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری