اسلام آباد ہائی کورٹ نے ترک اساتذہ کو ریلیف نہ دینے کی وجہ بتادی

خبر کا کوڈ: 1257792 خدمت: پاکستان
دادگاه عالی اسلام آباد

دیگر صوبوں کی ہائی کورٹس نے پاک ترک اسکولز کے غیر ملکی ٹیچرز کی ملک بدری کے حکومتی احکامات کو معطل کیا تاہم اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے ایسا نہیں کیا گیا اور اب عدالت نے ایسا نہ کرنے کی 8 وجوہات بتائی ہیں۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق، دیگر صوبوں کی ہائی کورٹس نے پاک ترک اسکولز کے غیر ملکی ٹیچرز کی ملک بدری کے حکومتی احکامات کو معطل کیا تاہم اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے ایسا نہیں کیا گیا اور اب عدالت نے ایسا نہ کرنے کی 8 وجوہات بتائی ہیں۔

ڈان نیوز کے مطابق، اپنے تفصیلی فیصلے میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس عامر فاروق نے وضاحت کی کہ کیوں دو ترک ٹیچرز اور چیئرمین پاک ترک ایجوکیشنل فاؤنڈیشن کی جانب سے 400 سے زائد اساتذہ اور ان کے اہل خانہ کی ملک بدری کے خلاف دائر درخواست برقرار رکھنے کے قابل نہیں تھی۔

لاہور ہائی کورٹ اور سندھ ہائی کورٹ نے پاک ترک اسکولز کے عملے کو عارضی ریلیف فراہم کیا ہے۔

درخواست گزاروں کا کہنا ہے کہ انہوں نے جون میں وزارت داخلہ کو ویزا کی مدت میں اضافے کی درخواست دی تھی لیکن 11 نومبر کو عملے اور فیکلٹی ممبرز کو ہدایات موصول ہوئیں کہ وہ 20 نومبر تک پاکستان چھوڑ دیں۔

جسٹس فاروق نے اپنے تفصیلی حکم میں لکھا کہ درخواستیں اگست میں آگے گئی تھیں جبکہ ترک ٹیچرز کے ویزے ستمبر میں ختم ہوگئے تھے تاہم 14 نومبر کو انہیں 20 نومبر تک رہنے کی اجازت دے دی گئی۔

فیصلے میں یہ بھی کہا گیا کہ ملک میں داخلے اور قیام کی اجازت دینا خالصتاً خودمختار ریاست کی صوابدید ہے، قیام کی اجازت دیے جانے کے بعد ختم بھی کی جاسکتی ہے۔

    تازہ ترین خبریں