میاں محمود الر شید کا اشرف غنی کی ہرزہ سرائی پر ردعمل؛

20 کروڑ پاکستانیوں کی توہین، افغان صدر کا پاکستان کو لاکھوں مہاجرین کی میزبانی کا بدلہ

خبر کا کوڈ: 1258149 خدمت: پاکستان
محمود الرشید

پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف نے افغان صدر کی ہرزہ سرائی کو پاکستان کی ناکام خارجہ پالیسی کی وجہ قرار دیا اور کہا کہ اشرف غنی احسان فراموش ہیں، پاکستان نے لاکھوں افغان مہاجرین کی میزبانی، افغان امن عمل سمیت پڑوسی ملک کیلئے کئی قربانیاں دیں لیکن اشرف غنی نے مودی کی زبان کا استعمال کر کے 20کروڑ پاکستانیوں کی توہین کی ہے۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق، پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف میاں محمود الر شید نے کہا کہ مودی کے بعد اب اشرف غنی کا رویہ افسوسناک اور قابل مذمت ہے، ناکام ملکی خارجہ پالیسی رسوائی کا باعث بنی۔

انہوں نے امرتسر میں افغان صدرر کی ہرزہ سرائی پر اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ اشرف غنی احسان فراموش ہیں، پاکستان نے لاکھوں افغان مہاجرین کی میزبانی، افغان امن عمل سمیت پڑوسی ملک کیلئے کئی قربانیاں دیں لیکن اشرف غنی نے مودی کی زبان کا استعمال کر کے 20کروڑ پاکستانیوں کی توہین کی۔

پنجاب پبلک سیکرٹریٹ میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے میاں محمود الر شید نے کہا کہ شریف حکومت اپنی کرپشن کے باعث اتنی کمزرو ہے کہ اب افغان صدر اشرف غنی بھی زہر اگلنے لگے ہیں، بھارت کی پاکستانی سرحدوں پر فائرنگ ہو یا مودی کا سخت بیان ہوں لیکن نواز شریف کی خاموشی اور ٹھوس موقف نہ اپنانے پر اب بنگلہ دیش اور افغانستان جیسے دوست ملکوں نے بھی افسوسناک بیانات دینے شروع کر دیئے ہیں۔

انہوں نے ملکی خارجہ پالیسی کو ناکام قرار دیتے ہوئے کہا کہ جو حکومت اپنے دور اقتدار میں وزیر خارجہ نہ بنا سکے اس کی خارجہ پالیسی کیا ہو گی؟

ایک سوال کے جواب میں میاں محمود الر شید نے کہا کہ یہ جمہوریت نہیں جمہوریت کی فوٹو کاپی ہے۔ حکمران عوامی مسائل سے غافل ہیں، لا اینڈ آرڈر کی صورتحال انتہائی بدتر ہے، ڈگریاں لئے نوجوان بے روزگار ہیں، غریب محنت کش کے پاس دو وقت کی روٹی نہیں اور حکمرانوں کے نکمے بچے آف شور کمپنیوں کے مالک بن بیٹھے ہیں۔

ایک اور سوال کے جواب میں اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ پنجاب حکومت نے اپنے آخری سال میں وزراء کی فوج تیار کر لی ہے پہلے شہباز شریف یہ بتائیں انکی ضرورت کیا تھی؟ اور اگر یہ ناگزیر تھے تو پانامہ سے پہلے کیوں یاد نہیں آیا؟

انہوں نے کہا کہ پنجاب میں گڈ گورننس کے دعویدار حکمرانوں نے صوبے کو کرپشن اور بدامنی کا گڑھ بنا لیا، لاہور جیسے شہر میں شہری دن دیہاڑے لٹ رہے ہیں، نندی پور پاور پراجیکٹ اور میٹرو بس منصوبے میں کروڑوں کی مالی بے ضابطگیاں ہوئیں، آڈٹ اور پکڑے جانے کے ڈر سے دونوں کے ریکارڈ کو ضائع کر دیا گیا اور کوئی پوچھنے والا ہی نہیں۔

انہوں نے کہا کہ پانامہ اپنے منطقی انجام کو ہے حکمران جلد اپنے درست ٹھکانوں اور مقام پر ہوں گے۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری