نیشنل بک فاؤنڈیشن کے چیئرمین کا تسنیم نیوز کے ساتھ خصوصی انٹرویو؛

نیشنل بک فاؤنڈیشن کی ترجیح لوگوں میں مطالعے کی عادت کو پروان چڑھانا ہے + مزاحیہ قطعات

خبر کا کوڈ: 1258564 خدمت: انٹرویو
انعام الحق جاوید

نیشنل بک فاؤنڈیشن کے چیئرمین نے لوگوں میں مطالعے کی عادت کو پروان چڑھانے کو اپنی اولین ترجیح قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ادب، سائنس، واقعات، فلسفہ یا کسی بھی مضمون یا موضوع کی کتاب ہو، جس میں بچوں کا لٹریچر بھی شامل ہے، وہ ہم شائع کر رہے ہیں تاکہ معاشرے میں مطالعے کے فروغ کا سبب بنے۔

چیئرمین نیشنل بک فاؤنڈیشن جناب انعام الحق جاوید کا خبر رساں ادارے تسنیم کے نامہ نگار کے ساتھ انٹر ویو، جسے بڑی مسرت کے ساتھ قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے۔

تسنیم:شاعری کا آغاز کب کیا، کیا گھر کا ماحول ایسا تھا یا "حادثاتی" طور پر ادب و شاعری کی جانب مائل ہوئے؟

انعام الحق جاوید: حادثاتی طورپر تو نہیں ہوتا، ہر آدمی کے اندر ایک خاصیت ہوتی ہے۔ مثلاً ایسے لوگ جو بصارت سے یکسر محروم ہوتے ہیں، ان کا حافظہ بڑا تیز ہوتا ہے، یا کوئی اور کمی ہوتی ہے تو اس کے لیے کوئی دوسری حس پیدا ہو کر اپنا کام انجام دینے لگتی ہے اسی طرح ہر آدمی کے اندر ایک خاص ٹیلنٹ موجود ہوتا ہے۔ اب اس چھپے ہوئے ٹیلنٹ کو دریافت کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایک ایسا شخص، خواہ وہ اَن پڑھ ہی کیوں نہ ہو، وہ بھی بڑا ٹیلنٹڈ ثابت ہو سکتا ہے۔

ڈاکٹر برنارڈ جو ہارٹ سرجری کا نامور اسپشلسٹ تھا، اس کا ایک اسسٹنٹ پڑھا لکھا آدمی نہیں تھا۔ جب ڈاکٹر برنارڈ کی وفات ہوئی تو یہ کام وہی اَن پڑھ اسسٹنٹ انجام دینے لگا، اس کو ڈاکٹر کی ڈگری ملی۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ نے جو صلاحیت دی ہوتی ہے یا تو وہ از خود سامنے آ جائے گی یا پھر اسے کوئی اور ٹریس کر لے گا۔ آپ کے اندر کوئی چیز موجود ہوتی ہے، یہ کب دریافت ہوتی ہے اور کس طرح سے دریافت ہوتی ہے یہ اہم ہے۔ ہمارے ہاں تو بہت بعد کی بات ہے، ورنہ ترقی یافتہ قوموں میں یہ خاصیت ہے کہ وہ کلیئر کر دیتے ہیں کہ اس بندے کیلئے باربر شاپ موزوں ہے یا کون سا کام اس کی اس خاص صلاحیت سے مطابقت رکھتا ہے۔ نصاب وغیرہ سے تو میرا تعلق نہیں تھا، جس سے پڑھنے کی طرف زیادہ رُجحان ہو لیکن یہ ضرور تھا کہ چوتھی پانچویں جماعت میں کچھ اشعار مجھے حفظ ہو گئے اور میں حیران بھی ہوتا ہوں کہ ایسے اشعار جن میں سعدی شیرازی کی فارسی شاعری کے دو ایک اشعار بھی شامل تھے، مجھے ازبر تھے، جو اچھے بھلے آدمی کو بھی مشکل سے یاد ہو پاتے ہیں، لیکن میرے حافظے سے وہ چپک گئے، اب آکے مجھے پتہ چلا۔ ایک دن ٹیچر کچھ پڑھا رہا تھا، اُس نے یہ جو دو شعر پڑھے کہ؛

کسی کی عمر کا لبریز جام ہوتا ہے
کسی کا کندہ نگینے پہ نام ہوتا ہے
عجب سرا ہے یہ دُنیا کہ اس میں شام و سحر
کسی کا کُوچ ، کسی کا مقام ہوتا ہے

یہ اشعار میں تیسری چوتھی جماعت میں پڑھتا تھا، اب آکر پتہ چلا کہ میر تقی میر کے اشعار ہیں۔ دو تین سال پہلے میر کا دیوان زیر مطالعہ تھا تو اس میں یہ اشعار نکل آئے۔ کہنے سے مراد یہ کہ یہ چیزیں معمول میں ہوتی ہیں۔ میں نے ایک چھوٹی سی کاپی بنائی تھی جس میں میں ایسے اشعار لکھتا رہتا تھا۔ جب ڈرائنگ کی طرف دھیان ہوتا تو اُس طرف لگ جاتا۔ یہ بات تخلیقی ذہن کا پتہ دیتی ہے۔ تو ٹیلنٹ اندر موجود ہوتا ہے۔ گانے والا ابرار الحق لیکچرر تھا۔ ٹیلنٹ اور تھا اس کا، گاتا تو اُس وقت بھی تھا وہ لیکن آگے آنے کے مواقع نہیں تھے، ٹی وی پر انور مقصود یا کسی اور کے کہنے پر اسے بلایا گیا۔ اب تو مواقع موجود ہیں پہلے زمانے میں اگر کوئی دلیپ کمار تھا تو وہ ہیرو تھا۔ اگر سدھیر ہے تو مرتے دَم تک وہ ہیرو آئے گا۔ اب یہ چیزیں بدل گئی ہیں، اشعار کا سلسلہ کالج یونیورسٹی تک چلتا رہا۔ یہ ہمارے پاس سرفراز شاہد صاحب بیٹھے ہیں۔ یہ اسلام آباد میں تھے، میں لاہور میں تھا۔ میں وہاں اُردو ڈائجسٹ میں کام کرتا تھا، وہاں میں نے ان کی کتاب دیکھی "بلا تکلف"۔ چھوٹی نقطیع میں تھی۔ وہ میں نے پڑھی۔ مجھے نہیں پتہ تھا سرفراز شاہد صاحب کون ہیں، کون نہیں؟ وہ کتاب پڑھنے سے بہت سی چیزیں مجھے یاد ہو گئیں۔ تب مجھ پتہ چلا کہ میں کیوں مزاح نگار بنا، تو گویا میرے اندر ایک حس موجود تھی ایسی۔ مجھے ڈائری لکھنے کا بہت شوق تھا، میرے پاس گزشتہ 35 سال کی ڈائریاں پڑی ہیں۔ اب وقت نہیں ہے تو ڈائری لکھنا چھوڑ دی ہے۔ مشتاق یوسفی صاحب، ضمیر جعفری صاحب، شفیق الرحمان صاحب ان کے اقتباس لکھا کرتا تھا۔

مزاحیہ شاعری ضمیر جعفری صاحب کی بھی میری نظر سے گزری۔ سرفراز شاہد صاحب کی کتاب جو اُردو ڈائجسٹ والوں نے شائع کی تھی، وہ پڑھی۔ ریڈیو کے ایک پروگرام "سات رنگ" کا سکرپٹ میں لکھا کرتا تھا۔ وہ صبح کی نشریات میں ایک گھنٹے کا پروگرام تھا، جسے انڈیا کے ایک پروگرام کے مقابلے میں تیار کیا جاتا تھا۔ یہ سکرپٹ مختلف لوگ لکھا کرتے تھے، میں بھی اُن میں شامل تھا۔ ایک دن شام کو ٹی ہاؤس میں بیٹھے تھے تو ایک آدمی نے کہا کہ یار آج تمہارا سکرپٹ بہت اچھا تھا۔ میں نے کہا کہ آپ کو کیسے پتہ چلا کہ وہ میرا ہے، کہنے لگا کہ جس سکرپٹ کے اندر شفیق الرحمان کا کوئی ٹکڑا ہو، ضمیر جعفری کی کوئی غزل دی ہو، یا کوئی مزاح کا عنصر ہو، وہ آپ کا ہوتا ہے۔ بعد میں میری دوستی عطاء الحق قاسمی صاحب سے ہوئی، باقی بھی کچھ لوگ تھے لیکن جو گہری رفاقت پیدا ہوئی اور یہ اب تک ہے، وہ ان کے ساتھ تھی۔ بعد میں میں اکیڈمی آف لیئرز میں آ گیا تو حال یہ تھا کہ سرفراز شاہد محلے دار ہو گئے۔ وہ جہاں رہتے تھے، تین چار گلیاں چھوڑ کر میں رہتا تھا، آٹھ گلیاں چھوڑ کر ضمیر جعفری صاحب رہتے تھے۔ آئی ایٹ میں انور مسعود صاحب رہتے تھے۔ ان کی رفاقت میسر آئی۔ تب تک مزاح میں نے نہیں لکھاتھا۔ یہ تو سوچا تک نہ تھا کہ مجھے مزاح لکھنا ہے کبھی۔ نثر میں تو چلو کبھی چلتا تھا تھوڑا بہت لیکن مزاحیہ شاعری کے بجائے سنجیدہ شاعری ہی معمول کا حصہ تھی۔ اب جن رفقاء کے ساتھ اُٹھتے بیٹھتے تھے، مشاعروں میں ان کے ساتھ جانے کا موقع ملتا تھا۔ یہ مزاحیہ پڑھتے تھے، مَیں سنجیدہ کلام پیش کرتا تھا۔ میں چونکہ ریڈیو میں کمپیئر بھی تھا۔ پروگرام ریڈیو، ٹی وی کے کرتا تھا، تو ایک پروگرام میں نے رکھوایا، یہ ایک مشاعرہ تھا۔ میرا خیال تھا کہ مزاحیہ شاعری اکبر الہ آبادی وغیرہ ڈال کے کمپیئرنگ کروں گا۔ پھر میں نے سوچا کہ ایک دو شعر مجھے بھی لکھنے چاہئے، تو میں نے اینٹری کے لئے لکھے۔ مجھے یاد ہے، وہ کچھ قابل ذکر نہیں تھے۔ وہ ریڈیو کی تاریخ کا پہلا مزاحیہ مشاعرہ تھا جو میں نے کروایا۔ اس کے پروڈیوسر منور ہاشمی تھے۔ پھر اسی ٹیلی وژن پر میں پروگرام "سانجھاں" کرتا تھا۔ تو اُس وقت تک بھی میں مزاح کی گیم میں شامل نہیں تھا۔ اس دوران یہ ہوا کہ جیسے کہ اُستاد دامن کا رنگ ہے یا حبیب جالب کا رنگ ہے۔ اُس میں ایک ہلکی سی شگفتگی ہوتی تھی۔ اُس میں طنز ہوتی ہے، وہ لکھی تھی "خوش کلامیاں" کے نام سے۔ تب یہاں ایک بہت بڑا مشاعرہ ہوا۔ اُس وقت بہت کم، بس سال میں ایک دو مشاعرے ہوا کرتے تھے جن میں منسٹر وغیرہ بھی آتے تھے۔ سارے نمایاں شاعر، حفیظ جالندھری، احمد ندیم قاسمی اور کراچی سے آنے والے شعرا ملا کر ساٹھ ستر شاعر ہو گئے۔ ایسے مشاعروں میں ہر دفعہ مجھے بھی مدعو کیا جاتا تھا۔ تو اُس مشاعرے میں میں نے پنجابی کا ایک قطعہ پیش کیا، تو لوگوں نے اسے از حد سراہا، بہت تعریفیں ہوئیں، اتنی داد ملی کہ جتنی زندگی میں کبھی نہیں ملی۔ میں مشاعرہ چھوڑ کر باہر نکل آیا کیونکہ وہ داد مجھ سے برداشت نہیں ہو رہی تھی۔ وہاں وزراء بھی بیٹھے ہوئے تھے۔ باہر نکل کر میں نے غور کیا کہ لوگ تو ہنس رہے تھے اس پر۔ تو بات یہ ہے کہ آدمی کو پتہ بہت بعد میں چلتا ہے، پھر تو بھائی ہم شروع ہو گئے اُن کے ساتھ ساتھ مزاحیہ شاعری لکھنے میں۔

تسنیم:اس وقت نیشنل بک فاؤنڈیشن کن کن شعبوں میں زیادہ سرگرم عمل ہے؟

انعام الحق جاوید: ہماری ترجیح یہ ہے کہ لوگوں میں مطالعے کی عادت کو پروان چڑھایا جائے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ادب کی کتاب ہو، سائنس کی کتاب ہو، واقعات کی کتاب ہو، فلسفے کی کتاب ہو، کسی بھی مضمون یا موضوع کی کتاب ہو، جس میں بچوں کا لٹریچر بھی شامل ہے، وہ ہم شائع کر رہے ہیں۔ مطالعے کے فروغ کے لیے یہ سب کیا جا رہاہے۔ کتابوں کا سالانہ میلہ بڑے پیمانے پر لگایا جاتا ہے۔ یہ میلہ میں نے شروع نہیں کیا، مجھ سے پہلے چار میلے (بک فیئرز) ہو چکے تھے۔ تو جو بھی منیجنگ ڈائریکٹر آتا ہے، اس کے پیش نظر یہ ترجیحات رہتی ہیں۔ پہلے جو کمیاں تھی، وہ میں نے دُور کیں، مزید اس کو آگے بڑھایا اب میرے بعد جو آئے گا وہ اس میں مزید بہتری لانا چاہے تو لا سکتا ہے۔ اب ہم نے اس ادارے میں جو نئی چیزیں شامل کی ہیں، یہ ایٹریکٹ کرتی ہیں، عام لوگوں کو۔ دیکھنے والے کہتے ہیں کہ یہ ایک میوزیم لگتا ہے، کتابوں کی ترتیب، سٹال وغیرہ بڑے ڈھنگ سے لگائے گئے ہیں ایف سیون میں شہر کتاب بنایا ہے، بتیس دکانیں اپنی مدد آپ کے تحت بنائی ہیں۔ اسی طرح کراچی سمیت چوبیس ہمارے اسٹیشن ہیں، تو ہم نے کوشش کی کہ آنے والے کو پورا علمی ماحول ملے۔ اُدھر گوشہ حافظ شیرازی میں جا کے کوئی بیٹھے تو وہاں اُسے اپنی مرضی کی کتابیں ملیں۔ وہاں پر ریڈرز کلب کے لوگ ممبر بننے آتے ہیں۔ پندرہ لوگ آ گئے ہیں تو آٹھ لوگ وہاں بیٹھ جاتے ہیں۔

گوشۂ حافظ اس لیے بنایا کہ آنے والے انتظار نہ کریں، وہاں بیٹھ کر کتابیں پڑھیں۔ جو لوگ یہاں آتے ہیں وہ تو کتاب ہی کے حوالے سے آتے ہیں۔ فائبر کی بکس بن رہی ہیں، لکڑی کی کتابیں بن رہی ہیں تو یہ سب تمام لوگوں کی کتاب میں دلچسپی بڑھانے کے لیے کیا جا رہا ہے۔ باہر پتھر کی کتاب آپ نے دیکھی، یہ سب سے پہلے میں نے آکے بنوائی کہ کوئی ایسی چیز بن جائے جسے بعد میں آکے کوئی ہلا نہ سکے۔ یہ ایک ہی پتھر سے تیار کی گئی ہے، کوئی دوسرا جوڑ نہیں ہے اس میں۔ یہ ایشیاء کی سب سے بڑی ایک ہی پتھر سے تیار کی جانے والی کتاب ہے۔ ہم ابھی دیکھ رہے ہیں کہ شاید یہ دنیا کی سب سے بڑی وَن سٹون کتاب ہے لیکن ایشیاء کی حد تک تو بہر حال یہ ہے ۔ اس میں کوئی کاروِنگ بھی نہیں کی گئی، کاروِنگ تو آسان ہے کہ پتھر کے اندر کھدائی کر کے لکھ دیا جاتا ہے لیکن اس کتاب پہ پتھر ہی کو گھسا کر بسم اللہ لکھی گئی ہے۔ جب یہ بنائی گئی تو کئی لوگ باتیں بھی کرتے تھے کہ یہ کیسے ہوا لیکن بعد میں اُنہی لوگوں نے تعریف کی۔ اس پر کتنی محنت ہوئی ہے، کتنا وقت لگا ہے، میری کتنی توجہ صرف ہوئی ہے، یہ قابلِ توجہ ہے۔ جہاں اس کتاب کو رکھا گیا، وہاں ایک تھڑا تھا۔ اُس کے اوپر رکھ دی گئی حال یہ ہے کہ لوگ اس کے پاس کھڑے ہو کر سیلفیاں بنا رہے ہیں۔ بچے آ رہے ہیں تو والدین ان کو کتاب کے پاس بیٹھا کر تصویریں بنا رہے ہیں۔ میں نے ایک روز کتاب پارک سے دیکھا کہ ایک بچی کتاب پر سے پڑھ رہی ہے، جہاں وہ رُکتی ہے تو اُس کا والد تصحیح کر دیتا ہے۔ تو بات یہ ہے کہ ہم نے تو کتاب لوگوں کو پڑھوانی ہے، اس میں دلچسپی پیدا کرنی ہے۔

تسنیم: نیشنل بک فاؤنڈیشن جو کتابیں شائع کرتی ہے اس میں جو نئے لکھاری ہیں انہیں رائلٹی کس شرح سے دی جاتی ہے؟

انعام الحق جاوید: دیکھیں جی نئے لکھنے والے کا تصور میرے نزدیک وہ نہیں ہے جو نئے لکھنے والے اپنے بارے میں رکھتے ہیں۔ نئے لکھنے والے کے اندر پوٹینشل ہونا چاہیے۔ اگر آپ کے اندر پوٹینشل ہے تو آپ نئے لکھنے والے ہوں یا پرانے لکھنے والے ہوں، یہ ادارہ انھیں کام دیتا ہے۔ میں نے خود کئی مسودوں پر محنت کی ہے۔ تیس فیصد محنت میں نے کی ہے، دیکھا کہ اس نے لکھا ہے محنت کر کے اور اس کے اندر پوٹینشل ہے، تیس فیصد قلم میرا اس پر لگا ہے۔ اسے کہا کہ ا س میں یہ کر لو، اسے نکال دو، تا کہ یہ سیکھ بھی جائے، وہ اپنی جگہ پہ ہے لیکن ایک آدمی اگر غزلیں لکھتا اور شاعری شروع کرتا ہے تو ایسی کتاب نہ نکلے گی نہ بکے گی۔ لہٰذا ایسا کوئی فنڈ نہیں ہیں ہمارے پاس جو اس کے لیے مخصوص کیا جائے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ لوگ کیا پڑھنا چاہتے ہیں یا لوگ اس کو پڑھیں گے۔ یہاں کمیٹیاں بنی ہیں، منسٹری کے لوگ ہیں۔ سروے رپورٹ بنتی ہے۔ ہمارے چار بک لیٹس ہیں۔ میری چونکہ ساری عمر اسی شعبے میں گزری ہے مجھے خود پتہ ہوتا ہے کہ یہ کتاب چھپنی چاہیے یا نہیں؟ اس میں میں اصولوں یا دوستی یاری کی قربانی نہیں دیکھتا۔ میں صاف کہہ دیتا ہوں کہ برادر یہ کتاب نہیں چھپ سکتی۔ ہم دس کتابیں بھی آپ کی شائع کریں گے لیکن وہ کریں گے جو ہمارے دائرہ کار میں آتا ہے۔

تسنیم:بچوں کے غیر ملکی تراجم کی جو کتابیں آتی ہیں، ان کی اشاعت کے لیے کیا شرائط و ضوابط ہیں؟

انعام الحق جاوید: کوئی شرائط و ضوابط نہیں۔ شرائط و ضوابط تو یہی ہیں کہ کسی کتاب کو پاکستان کے خلاف نہیں ہونا چاہیے، اسلام کے خلاف نہیں ہونا چاہیے، ہماری اقدار کے خلاف نہیں ہونا چاہیے، کوئی تفرقہ بازی اس میں نہیں ہونی چاہیے، سنسنی خیزی نہیں ہونی چاہیے، خالص علمی کام ہو، لوک کہانیاں کسی بھی ملک کی ہوں، اُن کے اندر دانش اور دانائی ہوتی ہے، وہ ہم چھاپتے ہیں، بہت بنوائی بھی ہیں مزید بنوا رہے ہیں۔ کوئی اچھی کتاب ہے جس کا ترجمہ ہونا چاہیے تو اس ترجمے کے حقوق ہونے چاہیں ہمارے پاس۔ فحاشی ہم نہیں چھاپ سکتے۔ کافکا کی ایسی کئی کہانیاں ہیں جنہیں نکال کر مجھے چھاپنا پڑا۔ باہر کی ایسی کتابوں میں تو اُن کے لئے یہ فحاشی ہے ہی نہیں، ان کے لیے وہ باتیں عام ہیں۔ بچوں کا ادب ہم بہت چھاپتے ہیں تخلیقی کہانیاں بھی بہت چھاپی ہیں۔ یہ سارا سسٹم کے تحت ہوتا ہے۔ ایک بندہ دو تین کہانیاں پڑھ کر ہی بتا دیتا ہے کہ یہ کتاب چھپنے کے قابل ہے یا نہیں، اسے کوئی پڑھے گا یا نہیں پڑھے گا۔ وہ بتا دیتا ہے کہ کہانیوں میں جان ہے لکھی بھی ٹھیک ہیں تو پھر اس کے بعد ہم آگے سٹارٹ لیتے ہیں۔ اس سارے پروسیس کو ہم اتنی تیزی سے آگے گزارتے ہیں کہ کتاب چھپنے کے لیے چلی جاتی ہے۔

تسنیم:آپ نے ایک اچھا آئیڈیا، "گوشہ شیرازی" کا پیش کیا۔ ایران کے علاوہ اور کون کون سے اسلامی ممالک کا ادب آپ نے پیش نظر رکھا ہے؟

انعام الحق جاوید:نظامی گنجوی کا گوشہ آذر بائیجان نے بنا کر دیا، اسی طرح ترکمانستان کا بن رہا ہے اور ممالک کے ساتھ سلسلہ جنبانی چل رہا ہے۔

تسنیم: گوشہ شیرازی پاک ایران دوستی کا جیتا جاگتا ثبوت ہے تو اس حوالے سے ریسرچر اور محقق حضرات کو آپ کیا پیغام دینا چاہیں گے؟

انعام الحق جاوید: ہم تو انہیں کہیں گے کہ آئیں، بیٹھیں یہاں ریسرچ کریں، اگر کوئی ریسرچ نہیں بھی کرنی تو آکر بیٹھیں، ہم کچھ سلسلہ شروع کریں گے یہاں حافظ شیرازی کا۔ یہ بیٹھنے کی جگہ ہے، اسے ہم جس قدر ہو سکا آنے والوں کے لئے مفید تر بنائیں گے۔

انٹرویو کے آخر میں انعام الحق جاوید کے کچھ منتخب قطعات قارئین کے پیش خدمت ہیں:

حسِ مزاح
سکندر باندھ رکھا ہے قلندر باندھ رکھا ہے
اور ان دونوں کو اِک مصرعے کے اندر باندھ رکھا ہے
ہمارے فن کو مت پرکھو ہمارا حوصلہ دیکھو
کہ ہم نے قافیے تک میں بھی بندر باندھ رکھا ہے

گولیوں کا فرق
ڈاکٹر اور ڈاکوؤں کی گولیوں کے فرق کی
ایک لمبی داستان ہے، کیا بتاؤں کیا ہوا
ڈاکوؤں کی گولیاں کھا کر تو بچ نکلا تھا وہ
ڈاکٹر کی گولیاں کھا کر بچارہ چل بسا

قطعہ
ہر پر و بال بیچ ڈالا ہے
ٹال کا ٹال بیچ ڈالا ہے
تم خودی کو تلاش کرتے ہو
ہم نے اقبال بیچ ڈالا ہے

دانا او ر دانے
جتنے دانا ہیں وہ دانے کی طرف دیکھتے ہیں
صرف نادان مکھانے کی طرف دیکھتے ہیں
دیس میں اپنے یہ معیار ہے لیڈر شپ کا
جتنے اندھے ہیں وہ کانے کی طرف دیکھتے ہیں

جرم ضیافت
ڈونگے کی طرف جمپ لگاتے نہیں دیکھا
او ر مرغ پلاؤ کو اُڑاتے نہیں دیکھا
جس شوق سے کل لنچ کی دے ڈالی ہے دعوت
لگتا ہے کہ تم نے اُسے کھاتے نہیں دیکھا

کلاس فیلو
مری ہم درس مری بات ذرا غور سے سن
قبل اس کے کہ تری ماں مری ماں تک پہنچے
میں کسی طور بھی شادی کا نہیں ہوں قائل
میرا پیغام محبت ہے جہاں تک پہنچے

میرا گھر میری جنت
جو کہتی ہے دنیا وہ سچ ہے اے بیگم
کہ میں تیرے زیر اثر آگیا ہوں
کہا باس نے جب جہنم میں جاؤ
تو دفتر سے سیدھا ہی گھر آ گیا ہوں

بے زُلف ہم زُلف
ایک گنجا دوسرے گنجے سے فرمانے لگا
بھائی! اپنے ساتھ قدرت نے کری اچھی نہیں
ہیں تو ہم بے زُلف، رشتے میں مگر ہم زُلف ہیں
اتنی بھی اک دوسرے کی ہمسری اچھی نہیں

سر+ چشمہ
عرصے کے بعد دیکھ کر بولا وہ ہائے ہائے
عینک پہن کے لگتے ہو اللہ میاں کی گائے
میں نے کہا درست نہیں آپ کی یہ رائے
عینک اُتار دوں تو گدھا تک نظر نہ آئے

کٹ پیس
کل اک چاند سی لڑکی دیکھ کے ہو گیا دل بے قابو
کہہ دیا سامنے جا کر میں نے پیار سے اس کو چندا
فوراً دس کا نوٹ تھما کر آگے سے وہ بولی
یہ بتلا دو کس مسجد کا مانگ رہے ہو چندہ

پتھر دل محبوبہ کی فرمائش
مرا حسن ہے فسادی میں ہوں پتھروں کی عادی
مرے دل پہ پتھروں کا بڑا سخت ہے دباؤ
پکھراج اور نیلم، یا قوت اور زمرد
انہی پتھروں کو لے کر اگر آسکو تو آؤ

نوکر کی شکایت
ملازم نے صاحب سے رو کر کہا
کہ میڈم نے مارا ہے سوتے ہوئے
کہا ہنس کے صاحب نے تو کیا ہوا
کبھی مجھ کو دیکھا ہے روتے ہوئے

بے بس
ہوتا اگرچہ ٹس سے کبھی مس نہیں ہے وہ
پر یہ بجا نہیں ہے کہ چوکس نہیں ہے وہ
بیٹھا ہوا ہے بس میں جو وہ کار بیچ کر
بے کار ہو چکا ہے پر بے بس نہیں ہے وہ
*****

    تازہ ترین خبریں