پاک اور ایران کے درمیان آزاد تجارتی معاہدہ پر مذاکرات، ڈیوٹیز میں رعایت پر اتفاق

خبر کا کوڈ: 1258774 خدمت: ایران
پرچم ایران و پاکستان

ذرائع کے مطابق، پاک ایران تجارتی تعلقات میں بڑا بریک تھرو ہوگیا، دونوں ممالک کے درمیان آزاد تجارتی معاہدے پر مذاکرات شروع ہوگئے، مذاکراتی عمل ایک سال میں مکمل کیا جائیگا۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق، دونوں ملکوں کے درمیان آزاد تجارتی معاہدے پر دو روزہ مذاکرات ہوئے۔

حکومتی ذرائع کے مطابق، مذاکرات میں آزاد تجارتی معاہدے کیلئے ٹیکسوں سے متعلق امورپر بات چیت ہوئی، ورکنگ گروپ کے اجلاس میں پاکستان کی جانب سے وزارت تجارت اور ایف بی آر کے حکام شرکت کررہے ہیں۔

ذرائع نے مزید بتایا ہے کہ آزاد تجارتی معاہدے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تجارت میں اضافہ ہوگا جس کا فائدہ دونوں ممالک کو ہوگا، دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تجارت کاحجم صرف 27کروڑ ڈالر ہے جس کو آزاد تجارتی معاہدے کے تحت پانچ سال میں پانچ ارب ڈالر تک بڑھایا جائے گا۔

رواں سال مارچ میں ایرانی صدر کے دورہ پاکستان کے دوران دونوں ممالک نے پانچ سالہ اسٹرٹیجک پلان پر دستخط کئے تھے جس کے تحت دونوں ممالک کے مابین آزاد تجارتی معاہدے پر مذاکرات جون میں شروع کئے جانے پراتفاق ہوا تھا، تاہم دونوں ممالک آزاد تجارتی فریم ورک معاہدے کا مسودہ ایک دوسرے کو مقررہ شیڈول کے مطابق نہیں بھجواسکے جس سے مذاکرات شروع کرنے میں تاخیر ہوئی۔

ذرائع نے کہا ہے کہ ترجیحی تجارتی معاہدہ کے تحت پاکستان نے ایران کو 338 اور ایران نے پاکستان کو 309 اشیاء پر ڈیوٹیز میں رعایت دے رکھی ہے تاہم آزاد تجارتی معاہدہ کے تحت دونوں ممالک نے اسی فیصد مصنوعات پر ڈیوٹیز میں رعایت پر اتفاق کیا ہے۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری