بھارت اپنے اوچھے ہتھکنڈوں سے باز نہیں آئے گا/ پاکستانی وفد کو بھارت بھیجنا ہی نہیں چاہیے تھا

خبر کا کوڈ: 1259268 خدمت: پاکستان
پرویز مشرف

سابق پاکستانی صدر اور آل پاکستان مسلم لیگ کے سربراہ جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف نے اس بیان کے ساتھ کہ پاکستانی وفد کو بھارت بھیجنا ہی نہیں چاہئے تھا، کہا ہے کہ بھارت اپنے اوچھے ہتھکنڈوں سے باز نہیں آئے گا، پاکستان کو منہ توڑ جواب دینا ہوگا۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق، دبئی میں مقیم سابق پاکستانی صدر اور آل پاکستان مسلم لیگ کے سربراہ جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف نے کہا ہے کہ بھارت اپنے اوچھے ہتھکنڈوں سے باز نہیں آئے گا، پاکستان کو منہ توڑ جواب دینا ہوگا۔ جنگ مسلط کی گئی تو پاکستان بھی سبق سکھائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی وفد کو بھارت بھیجنا ہی نہیں چاہیے تھا، پہلے تو ایئرپورٹ پر روکا گیا پھر کانفرنس بھی نہیں کرنے دی۔

پرویز مشرف نے ہارٹ آف ایشیا کانفرنس میںشرکت پر بھارت کے ناروا رویے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی سیکورٹی حکام کی جانب سے پاکستانی صحافیوں کے وفد کو پاکستانی ہائی کمشنر عبد الباسط سے ملاقات کرنے سے بھی روکنے کی کوشش کی گئی۔ پاکستان کا امیج خراب کیا گیا ہے۔

انہوںنے کہا کہ ملک میں با اختیار وزیر خارجہ ہونا چاہیے جو ایسا شخص ہو کہ بھارت جا کر ان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنا جانتا ہو۔

ایک سوال کے جواب میں انہوںنے کہا کہ پاکستان کے پانی کو بند کرنا آسان نہیں، بھارت صرف پانی کو روک کر سیلاب کی صورت میں چھوڑ سکتا ہے بند نہیں کر سکتا، مگر ہماری سوئی کالا باغ ڈیم پر اٹکی ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ میں نے بھاشا ڈیم شروع کروایا تھا، منصوبوں کو مکمل کرنا اگلی حکومتوں کی ذمہ داری ہوتی ہے, اگر جنگ کی بات کی جائے تو جنگ سے دونوں ممالک کو بہت نقصان ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ 2002 میں انڈیا پوری فوج لے آیا تھا اور ایسا ظاہر کر رہا تھا کہ جیسے جنگ کرنے لگا ہے، میں نے بھی حالت کا جائزہ لیتے ہوئے تینوں مسلح افواج کو جنگ کے لئے تیار رہنے کی ہدایت کردی تھی۔ بھارتی فوج 10ماہ تک آسام سیکٹر پر بیٹھی رہی اور میں نے للکار دیا کہ آجاؤ جنگ کرلیتے ہیں پر ان کی ہمت نہ پڑی، انہیں بھارتی میڈیا کی جانب سے گالیاں پڑیں اور خوب تنقید کانشانہ بننے کے بعد واپس چلے گئے۔

انہوں نے کہا کہ اگر کچھ شہادتیں ہوں تو گھبرانا نہیں چاہیے، ہم پر جنگ مسلط کی گئی تو ہم بھی سبق سکھائیں گے، ہم اپنے ملک کی بقا کے لئے ہر قدم اٹھا سکتے ہیں۔

انہوںنے کہا کہ سپریم کورٹ قطری شہزادے یا خط سے اثر انداز ہو تو افسوس کی بات ہے کیونکہ عدالت عظمیٰ ہی انصاف کی آخری امید ہے۔ ن لیگ بچوں والی باتیں کرتی ہے  سب جانتے ہیں ان کی جائیدادیں کہاں کہاں ہیں، اگر دبئی میں ٹیکسی ڈارئیور سے بھی ان کی جائیدادوں سے متعلق پوچھا جائے تو وہ بھی ان کی تمام جائیدادیں دکھا دےگا۔

چیئر مین پی ٹی آئی عمران خان کے بارے ان کا کہنا تھا کہ وہ ایک ایماندار آدمی ہیں اگر کچھ چیزیں ان میں بری بھی ہیں, اگر ن لیگ، پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کو مد نظر رکھ کر دیکھا جائے تو عمران خان دوسروں کی نسبت قدرے بہتر شخصیت کے مالک ہیں۔ ن لیگ اور پی پی پی نے پاکستان کا بیڑا غرق کیا ہواہے، پاکستان کے عوام کو اس سیاستدان سے امید ہونی چاہیے کہ جو کچھ کرسکے۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری