بھارت کا امریکی اور صہیونی ایجنڈا؛ دو مسلم اور ہمسایہ ممالک کے تعلقات خراب کرنے کی انتھک کوششیں

خبر کا کوڈ: 1259341 خدمت: پاکستان
پاکستان و افغانستان

ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارتی حکام امریکی اور صہیونی ایجنڈے پر عملدرآمد کرتے ہوئے عرصے سے دو مسلم ریاستوں پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات میں خلش پیدا کرنے کی کوششیں کرتا آرہا ہے تاہم افغان صدر کے حالیہ بیان سے واضح ہو چکا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل بھارت کے ذریعے خطے میں اپنے مفادات حاصل کرنے میں مسلسل کامیاب ہو رہے ہیں۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق، وزیراعظم کے مشیر برائے امورِ خارجہ سرتاج عزیز نے کہا ہے کہ ہندوستان پاک-افغان تعلقات کو خراب کرنے کی کوشش کررہا ہے۔

ڈان نیوز کے پروگرام 'نیوز وائز' میں گفتگو کرتے ہوئے سرتاج عزیز کا کہنا تھا: افغانستان کے ساتھ پاکستان کے بہت ہی دیرینہ تعلقات ہیں اور بھارت چاہے کچھ بھی کر لے ہم اس کوشش کو کسی صورت بھی کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔

انھوں نے کہا کہ بھارت نے ہارٹ آف ایشیاء کانفرنس کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کی، جس سے دنیا میں ایک منفی تاثر گیا جسے کانفرنس کے اراکین نے بھی محسوس کیا۔

ہارٹ آف ایشیاء کانفرنس میں افغان صدر اشرف غنی کے بیان پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے سرتاج عزیز کا کہنا تھا کہ ایک طرف افغانستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی کوششوں کی حمایت کرتا ہے اور دوسری جانب ہمیں ان ہی دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرنے پر زور دیتا ہے، لہٰذا یہاں بیانات میں کافی تضاد پایا جاتا ہے۔

سرتاج عزیز نے کہا کہ افغانستان کی جانب سے اس طرح کے بیانات کی بہت سی وجوہات ہیں جن میں پہلی وجہ تو افغان حکومت کے اندرونی معاملات ہیں اور دوسرا داعش سمیت کئی دوسرے گروپس افغانستان میں منظم ہو رہے ہیں، لہٰذا وہاں پر 9/11 کے بعد روایتی طور پر کچھ بھی ہوتا ہے تو نام پاکستان کا ہی استعمال کیا جاتا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ایک اور وجہ امریکا کی مداخلت بھی ہے جو افغانستان میں اپنی ناکامی کی ذمہ داری پاکستان پر ڈالنا چاہتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ لائن آف کنٹرول (ایل او سی پر) پر فائرنگ کے واقعات کے بعد جہاں بھارت کے ساتھ تعلقات کشیدہ ہوئے تو یہ بھی افغانستان کے رویے میں تبدیلی کی ایک وجہ ہوسکتی ہے۔

تاہم سرتاج عزیز کا کہنا تھا کہ ان تمام وجوہات کے باوجود پاکستان چاہتا ہے کہ وہ ہر مسئلے میں افغانستان کی ہر ممکن مدد کرے جس سے اُسے خود ہی یہ احساس ہوگا کہ پاکستان خلوصِ نیت سے کام کرکے تعلقات کو بہتر کرنا چاہتا ہے۔

اس سوال پر کہ ہارٹ آف ایشیاء کانفرنس میں کیا آپ پاکستان کا پیغام دینے میں کامیاب ہوئے؟ مشیر خارجہ کا کہنا تھا اگرچہ اس کانفرنس میں پاکستان پر دہشت گردوں کی معاونت جیسے الزامات عائد کیے گئے، لیکن پاکستان نے پھر بھی ایک مثبت موقف کو اپنایا جس کی تمام ارکان نے تائید بھی کی۔

انھوں نے کہا کہ اگر پاکستان اس کانفرنس میں شرکت نہ کرتا تو بھارت اپنی کوشش میں کامیاب ہوسکتا تھا جو کہ وہ چاہتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ پاک افغان تعلقات میں کشیدگی لانے کے لئے ایجنڈا صہیونی حکومت کی جانب سے بھارتی حکام کے حوالے کیا گیا ہے جس پر دہلی حکومت عرصہ دراز سے عمل پیرا ہے۔

خطے میں امریکی اور اسرائیلی مفادات کی نہ ختم ہونے والی جنگ تو دہائیوں سے شروع ہے تاہم یہ جنگ روز بروز آشکار ہوتی جا رہی ہے اور سب سے اہم امر یہ ہے کہ پاکستان کو اپنے ہمسایہ اور دوست ممالک سے دور کئے جانے کی مذموم کوشش کی جارہی ہے۔

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ بھارت پاکستان کو اپنے دو ہمسایہ اور مسلم ممالک ایران اور افغانستان سے جدا کرنے میں کامیاب ہورہا ہے جس میں اہم عنصر پاکستان کی ناکام خارجہ پالیسی بھی ہے۔

پاکستان جہاں افغانستان سے دور ہوتا جارہا ہے وہیں پاکستان کی ایران کے بارے میں پالیسی بھی قابل توجہ امر ہے جس کے بارے میں پاکستان کو اپنے مخالف امریکی اور صہیونی ایجنڈے کے پیش نظر نظرثانی کی ضرورت ہے۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری