سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے موسمیاتی تبدیلی کی عرب شہزادوں کے شکار پر کڑی تنقید

خبر کا کوڈ: 1259922 خدمت: پاکستان
شکار هوبره

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے موسمیاتی تبدیلی کے اراکین نے کمیٹی اجلاس میں عرب شہزادوں کے پاکستان میں شکار پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ عربی شہزادوں کی عیاشیاں پاکستان میں بند کی جائیں، نایاب جانوروں کے شکار پر پابندی ہونی چاہیے، عربی شہزادوں کو پاکستان کو شکار گاہ بنانے کی مخالفت کرتے ہیں۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے موسمیاتی تبدیلی کے اراکین نے کمیٹی اجلاس میں عرب شہزادوں کے پاکستان میں شکار پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ عربی شہزادوں کی عیاشیاں پاکستان میں بند کی جائیں، نایاب جانوروں کے شکار پر پابندی ہونی چاہیے، عربی شہزادوں کو پاکستان کو شکار گاہ بنانے کی مخالفت کرتے ہیں۔ امیر عربوں کو پاکستان میں نایاب جانوروں کے شکار کی کھلی چھٹی نہ دی جائے۔

چیئرمین کمیٹی سینیٹر محمد یوسف بدینی نے کہا کہ ہمیں اپنی زمینوں پر جانے کی اجازت نہیں دی جاتی، کیونکہ وہاں شیخ شکار کر رہے ہیں، جس کی سخت مذمت کرتے ہیں۔

کمیٹی کے اراکین نے سپریم کورٹ میں حکومت کی جانب سے کیے گئے ان دعوؤں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا کہ اگر عرب شاہی خاندانوں سے شکار کی اجازت واپس لے لی جاتی ہے، تو ہمارے عرب ممالک سے تعلقات متاثر ہوں گے۔ کمیٹی چیئرمین نے کہا کہ قطری شہزادہ، ممکنہ طور پر وہی ہے جس نے سپریم کورٹ کو خط لکھا، ان دنوں بھکر میں شکار کر رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اب آپ کہیں کہ ہم رعایا ہیں اور دوستانہ تعلقات کا انحصار ان کے لیے ہماری خدمات ہیں، لیکن ہمیں یہ بتایئے کہ حکومت نے عرب شاہی خاندانوں کی جانب سے بے فکری سے کیے جانے والے شکار کو کم کرنے کے لیے کیا اقدامات اٹھائے ہیں۔

اراکین کمیٹی نے کہا کہ حکومت کو مقامی اور غیر ملکی افراد کے لیے شکار کے یکساں قوانین بنانے چاہیے، جبکہ چند اراکین نے تو عرب شاہی خاندان کے افراد کی نگرانی کے لیے حکومت سے نگراں اداروں کے قیام کا بھی مطالبہ کیا۔

موسمیاتی تبدیلی کے ذمہ دار وزیر زاہد حامد اس بحث کے دوران خاموش رہے اور صرف یہ کہا کہ پاکستانی تلور اور ہجرت کرکے آنے والے پرندوں کے انڈومنٹ فنڈ کے لیے آنے والی رقم صوبوں کو فراہم کی جاتی ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ 25 کروڑ روپے کے یہ فنڈز مقامی آبادیوں کی فلاح کے لیے استعمال کیے جائیں گے۔

کمیٹی نے شکار کے حوالے سے ادارہ قائم کرنے اور واضح پالیسی بنانے کے لیے حکومت کو خط لکھنے کا فیصلہ کیا۔ کمیٹی کے اجلاس میں موسمی تبدیلی اور لاہور میں اسموگ کے معاملات بھی زیر غور آئے۔

زاہد حامد نے اعتراف کیا کہ ماحولیات کے تحفظ کے لیے قائم ایجنسی (انوائرنمنٹ پروٹیکشن ایجنسی) کی سرگرمیاں صرف اسلام آباد تک محدود ہوکر رہ گئی ہیں۔

    تازہ ترین خبریں