بانی کالعدم سپاہ صحابہ نوازجھنگوی کا بیٹامسرورفضل الرحمٰن گروپ میں شامل

خبر کا کوڈ: 1260071 خدمت: پاکستان
جمعیت علمائے اسلام فضلو

جھنگ کے حلقے سے منتخب ہونے والے مسرور جھنگوی کو الیکشن لڑنے کی اجازت دینے پر الیکشن کمیشن آف پاکستان اور پنجاب حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے فضل الرحمن گروپ میں مسرور جھنگوی کی شمولیت کے بعد اُن کے انتخاب کو عدلیہ اور الیکشن کمیشن میں چیلنج کرنا کافی مشکل ہوجائے گا۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق، پاکستان کے صوبہ پنجاب کے وسطی شہر جھنگ سے صوبائی اسمبلی کی نشست پر منتخب ہونے والے مسرور نواز جھنگوی نے جمیعت علمائے اسلام فضل الرحمان گروپ میں شمولیت اور اسی گروپ کی جانب سے حلف اُٹھانے کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔

یاد رہے کہ سوشل میڈیا پر مسرور جھنگوی کا وہ بیان چل رہا ہے جس میں اُنھوں نے ایک مسلک کو کافر قرار دینے کے نعرے کو اپنی پہنچان قرار دیا تھا۔

مسرور جھنگوی کو الیکشن لڑنے کی اجازت دینے پر الیکشن کمیشن آف پاکستان اور پنجاب حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔

فضل الرحمن گروپ میں مسرور جھنگوی کی شمولیت کے بعد اُن کے انتخاب کو چیلنج کرنا کافی مشکل ہوجائے گا جنکا پنجاب حکومت کو بھی فیس سیونگ مل گئی ہے۔

کالعدم تنظیم سپاہ صحابہ کے بانی نواز جھنگوی کے صاحبزادے مسرور نواز جھنگوی کا کہنا ہے کہ وہ اپنے شہر میں بجلی، پانی، گیس اور نکاسی آب جیسی بنیادی ضروریات کی فراہمی کیلئے کام کرنا چاہتے ہیں کیونکہ اُن کا شہر گذشتہ دہائی کے دوران پسماندہ رہا ہے اور اِس کی بحالی کیلئے کوئی کام نہیں کیا گیا۔

اُنھوں نے کہا کہ میرے والد کی وجہ سے مجھ پر کبھی فرقہ ورانہ تشدد کا الزام نہیں لگا بلکہ الیکشن میں جو ووٹ مجھے ملے ہیں وہ میرے والد کی وجہ سے ہی ملے ہیں اور لوگوں نے میرے والد کی وجہ سے ہی مجھ پر اعتماد کیا ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ مذہبی جماعتوں کو اکھٹا کرنا ان کا کام نہیں ہے، میرا کام ہے کہ جس نشست پر میں منتخب ہوا ہوں اُس علاقے میں کرپشن کا خاتمہ اور ترقیاتی کام کروں۔

ایک سوال کہ جو کام کرانے کا وعدہ اُنھوں نے اپنے علاقے کے مکینوں سے کیے ہیں اُن کی تکمیل تو حکومتی جماعت کی جانب سے حلف اٹھانے میں زیادہ جلدی اور بہتر انداز میں ہو جاتی پھر جے یو آئی ف کا انتخاب کیوں کیا، اِس پر اُن کا کہنا تھا کہ اتحادی زیادہ بااثر ہوتے ہیں، مسرور نواز جھنگوی نے 2018ء تک جھنگ کا نکاسی آب کا نظام اور ہسپتال کا نظام بحال کرنے کا عزم کیا ہے۔

مسرور نواز جھنگوی سنہ 1988ء میں پیدا ہوئے اور جب وہ دو برس کے تھے ان کے والد کو 1990ء میں قتل کر دیا گیا تھا۔

اُنھوں نے میٹرک تک تعلیم حاصل کی اور اُس کے بعد درسِ نظامی اختیار کیا۔ تین بھائیوں میں سب سے بڑے اظہار الحق جھنگوی کو کراچی میں قتل کر دیا گیا تھا۔

مسرور نواز جھنگوی کو حالیہ ضمنی انتخابات میں جے یو آئی(ف)، جماعت اسلامی اور کالعدم سپاہ صحابہ کے بانی مولانا محمد احمد لدھیانوی نے باہمی مشاورت کرکے انتخاب لڑنے کا مشورہ دیا، اِس سے قبل مسرور نواز کے والد حق نواز جھنگوی نے بھی جمیعت علمائے اسلام کی رکنیت حاصل کر کے ٹوبہ ٹیک سنگھ کے ایک مدرسے میں تدریس کا آغاز کیا تھا۔

    تازہ ترین خبریں