وحدت مسلمین کا افغانستان کی جانب سے پاکستان کیخلاف الزامات پر ردعمل؛

پاکستان کو دہشت گردی کی آگ میں جھونکنے والی طالبانی قوتیں افغانستان میں ہی پروان چڑھی ہیں

خبر کا کوڈ: 1260437 خدمت: پاکستان
سید احمد اقبال رضوی

مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل نے ہارٹ آف ایشیاء کانفرنس میں بھارت اور افغانستان کی طرف سے پاکستان پر لگائے جانے والے الزامات کو بے بنیاد اور مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان پر دہشت گردی کے الزامات لگانے سے پہلے افغانستان صدر کو یہ بات ذہن نشین رکھنی چاہیے تھی کہ پاکستان کو دہشت گردی کی آگ میں جھونکنے والی طالبانی قوتیں افغانستان میں ہی پروان چڑھی ہیں۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق، مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل علامہ سید احمد اقبال رضوی نے ہارٹ آف ایشیاء  کانفرنس میں بھارت اور افغانستان کی طرف سے پاکستان پر لگائے جانے والے الزامات کو بے بنیاد اور مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔

مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل نے کہا کہ پاکستان میں دہشت گردی کے جتنے بھی بڑے واقعات ہوئے ہیں ان میں بھارت اور افغانستان براہ راست ملوث رہے ہیں، پاکستان میں کلاشنکوف اور منشیات کو متعارف کرنے والے عناصر بھی پناہ کی غرض سے افغانستان سے پاکستان میں داخل میں ہوئے تھے، پاکستان کی سالمیت و استحکام کے خلاف پڑوسی ممالک کی کارستانیاں کوئی ڈھکی چھپی نہیں، پاکستان کے داخلی معاملات میں مداخلت اور پھر واویلا چور مچائے شور کے مترادف ہے۔

انہوں نے کہا کہ کانفرنس میں پاکستانی مدعوئین کے ساتھ بھارت کا تضحیک آمیز رویہ قابل مذمت ہے، بھارت نے میزبانی کا حق ادا کرنے کی بجائے کم ظرفی کا ثبوت دیا ہے، سفارتی آداب کے منافی اس نامناسب رویہ پر بھارت کو حکومتی سطح پر معذرت کرنی چاہیے۔

علامہ سید احمد اقبال رضوی نے کہا کہ وطن عزیز کا وقار ہمیں سب سے زیادہ عزیز ہے،کسی بھی ملک کا پاکستان کے ساتھ جارحانہ رویہ قابل قبول نہیں،کانفرنس میں شریک دیگر ممالک کو بھی بھارت کے اس ناروا رویہ پر تنقید کرنا چاہیے تھی، ہمیں اپنی خارجہ پالیسی پر مزید توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ خطے کے دیگر ممالک سے ہم آہنگی اور دوستانہ روابط کو بڑھانے کے لیے مربوط لائحہ عمل طے کرنا ہو گا، افغانستان سمیت خطے کے دیگر مسلم ممالک سے بھارت کے مضبوط تعلقات ہمارے کمزور خارجہ پالیسی کا نتیجہ ہے، بھارت کی طرف سے افغانستان میں ایک ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی خواہش کا اظہار ہمیں خواب غفلت سے بیدار کرنے کے لیے کافی ہے۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری