نواز۔ ٹرمپ گفتگو کا ریڈ آؤٹ منظور شدہ تھا، طارق فاطمی

خبر کا کوڈ: 1260493 خدمت: دنیا
ٹرمپ اور نواز

وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے خارجہ امور طارق فاطمی کا کہنا ہے کہ نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آفس نے ان کی نواز شریف سے گفتگو کے ریڈ آؤٹ کی منظوری دی تھی، جسے اسلام آباد نے گزشتہ ہفتے جاری کیا۔

خبر رساں ادارے تسنیم نے ڈان نیوز سے نقل کیا ہے کہ امریکا میں پاکستانی سفارتخانے میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے خارجہ امور طارق فاطمی نے کہا کہ ریڈ آؤٹ میں وہی زبان استعمال کی گئی ہے جس کا ڈونلڈ ٹرمپ استعمال کرتے ہیں اور یہ انتہائی ایماندارانہ اور سچائی پر مبنی طرز بیان ہے، جسے ہم نے ان کے دفتر کی منظوری کے بعد جاری کیا اور اگر اس سے کسی میں دلچسپی اور کھلبلی پیدا ہوتی ہے تو ہم اس سے بالکل مایوس نہیں ہیں۔

اس سوال کے جواب میں کہ جب نواز شریف کی ڈونلڈ ٹرمپ سے گفتگو ہوئی آپ اس وقت وزیر اعظم کے ساتھ تھے، طارق فاطمی کا کہنا تھا کہ میں وزیر اعظم کا معاون خصوصی ہوں اس لیے یہ میرا کام ہے کہ میں صحیح وقت پر صحیح جگہ موجود رہوں۔

وزیر اعظم اور ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ٹیلی فونک گفتگو کے حیران کن طور پر سامنے آنے والے ریڈ آؤٹ کے باعث واشنگٹن میں اہم تنازع پیدا ہوا تھا اور وائٹ ہاؤس نے بھی نومنتخب امریکی صدر سے کہا تھا کہ وہ غیر ملکی رہنماؤں سے گفتگو کے دوران انتہائی محتاط رہیں۔

امریکی میڈیا نے ذاتی تعریفوں کی تفصیلات جاری کرنے پر پاکستان کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

یہ معاملہ پیر کو وائٹ ہاؤس میں نیوز بریفنگ کے دوران بھی اٹھایا گیا، جہاں وائٹ ہاؤس کے پریس سیکریٹری جوش ارنسٹ کا کہنا تھا کہ نومنتخب امریکی صدر کا غیر ملکی رہنماؤں سے رابطہ انتہائی اہم ہے، ان رابطوں سے ہمارے ملک اور دنیا بھر میں ہمارے قومی مفادات پر گہرے نتائج مرتب ہوں گے۔

اس تنقید کی پرواہ کیے بغیر وزیر اعظم کے معاون خصوصی نے زور دیا کہ آنے والی ٹرمپ انتظامیہ پاکستان کو امریکا کے ساتھ تعلقات اسطوار کرنے کے لیے تازہ موقع فراہم کرے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے نامزد کردہ قومی سلامتی کے مشیر مائیک فلین کے "بنیاد پرست اسلامی دہشت گردی" سامنا کرنے کی ضرورت کے حوالے سے دیئے گئے بیانات، امریکا اور پاکستان کے مشترکہ مفادات و مقاصد کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنیں گے۔

انہوں نے کہا کہ تاہم پاکستان کی مدد اور تعاون کے لیے امریکا ان کئی مقاصد کو حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوگا، جو اس نے 1950 اور 1960 کی دہائی میں خود طے کیے تھے۔

سوویت یونین اور افغان مہاجرین کے حوالے سے بات کرتے ہوئے طارق فاطمی کا کہنا تھا کہ پاکستان نے سوویت یونین کے خلاف اپنے موقف کی بھاری قیمت چکائی ہے اور اسے مجبوراً 35 لاکھ افغان مہاجرین کی میزبانی کرنی پڑی اور وہ اب بھی 25 لاکھ مہاجرین کی عالمی برادری کی مدد کے بغیر میزبانی کر رہا ہے۔

امریکا کے دو ہفتے کے دورے کے دوران طارق فاطمی ڈونلڈ ٹرمپ کی ٹیم کے اراکین سے ملاقات کے لئے نیویارک بھی جائیں گے۔

واشنگٹن میں وہ امریکی قانون سازوں اور اوباما انتظامیہ کے عہدیداروں کے علاوہ تھنک ٹینک ماہرین اور میڈیا نمائندوں سے بھی ملاقات کریں گے۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری