سانحہ حویلیاں؛ لاشوں کا ڈی این اے جلد کر لیا جائے گا، انتظامیہ

خبر کا کوڈ: 1261632 خدمت: پاکستان
dna

انتظامیہ کا کہنا ہے کہ میتوں کو شناخت اور ڈی این اے ٹیسٹنگ کے لیے بذریعہ ہیلی کاپٹر اسلام آباد روانہ کیا جائے گا۔

خبر رساں ادارے تسنیم کی رپورٹ کے مطابق، پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز (پی آئی اے) کے تباہ شدہ طیارے کے مسافروں کی 48 میتوں کی شناخت کا عمل ڈی این اے ٹیسٹ کے ذریعے مکمل کیا جائے گا۔

ڈان نیوز کی رپورٹ کے مطابق انتظامیہ کا کہنا ہے کہ میتوں کو شناخت اور ڈی این اے ٹیسٹنگ کے لیے بذریعہ ہیلی کاپٹر اسلام آباد روانہ کیا جائے گا۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق میتوں کی منتقلی کے لیے 3 ہیلی کاپٹر ایبٹ آباد سے اسلام آباد روانہ کردیئے گئے ہیں اور موسم بہتر ہوتے ہی منتقلی کا آغاز کردیا جائے گا۔

آئی ایس پی آر کا مزید کہنا ہے کہ فوجی دستے جائے حادثہ پر موجود ہیں۔

دوسری جانب وزارت ہوا بازی کے ترجمان شیر علی خان نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ ہیلی کاپٹر اسلام آباد میں موجود ہیلی پیڈ پر لینڈ کریں گے جہاں ایمبولنسز اور ریسکیو عملہ موجود ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد میں کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم قائم کردیا گیا ہے جہاں سیکریٹری ایوی ایشن، ڈی جی سی اے اور چیئرمین پی آئی اے موجود ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ ہیلی کاپٹرز کے ٹیک آف اور لینڈنگ کا عمل آدھے گھنٹے میں مکمل ہوجائے گا۔

ایبٹ آباد کے ایوب میڈیکل کمپلیکس کے افسر محمد عباس کے مطابق طیارے میں سوار کسی بھی فرد کا جسم مکمل طور پر سلامت نہیں۔

ریسکیو اہلکاروں اور گاؤں کے مقامی افراد کی بڑی تعداد نے رات بھر تباہ شدہ طیارے کے ملبے کو جمع کیا جس کے ٹکڑے حادثے کے مقام سے سیکڑوں میٹر فاصلے تک بکھرے ہوئے تھے۔

اے ایف پی کے مطابق گاؤں سدھا بتولنی کے نزدیک تباہ ہونے والے طیارے کے ایک حصے میں 5 گھنٹے تک آگ لگی رہی۔

ایک مقامی شخص کے مطابق میتیں اس قدر مسخ شدہ ہیں کہ یہ تک نہیں بتایا جاسکتا کہ لاش کسی خاتون کی ہے یا مرد کی۔

انہوں نے مزید بتایا کہ گاؤں کے افراد تمام باقیات کو اکھٹا کرکے پہاڑی علاقے سے ایمبولنس تک منتقل کرتے ہیں۔

ایوب میڈیکل کمپلیکس کے ایک اور افسر علی باز کے مطابق 6 میتوں کی شناخت انگلیوں کے نشانات کے ذریعے کی جا چکی ہے، اور ان کی تفصیلات کو مردہ خانے کے باہر چسپاں کردیا گیا ہے۔

    تازہ ترین خبریں