سندھ میں 62 کالعدم گروپ سرگرم ہیں، سرکاری رپورٹ

خبر کا کوڈ: 1261796 خدمت: پاکستان
ممنوع

محکمہ داخلہ سندھ کی جانب سے جاری کی گئی سرکاری رپورٹ میں صوبے میں 62 سرگرم کالعدم مذہبی و فرقہ وارانہ تنظیموں کی نشاندہی کردی گئی۔

تسنیم خبر رساں ادارے تسنیم نے ڈان نیوز سے نقل کیا ہے کہ محکمہ داخلہ سندھ کی جانب سے جاری کی گئی سرکاری رپورٹ میں صوبے میں 62 سرگرم کالعدم مذہبی و فرقہ وارانہ تنظیموں کی نشاندہی کردی گئی۔

رپورٹ کے مطابق ان کالعدم تنظیموں میں سے 35 دوبارہ ابھر کر سامنے آئی ہیں۔

صوبائی اپیکس کمیٹی کے حالیہ اجلاس میں پیش کی جانے والی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہم نے صوبے میں 62 کالعدم مذہبی و فرقہ وارانہ تنظیموں کی نشاندہی کی ہے اور ان سے متعلق وفاقی وزارت داخلہ سے مزید تفصیلات کی درخواست کی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے کالعدم قرار دیئے جانے کے بعد غیر فعال ہونے والے 35 گروپ دوبارہ فعال ہوگئے ہیں۔

ان گروپس میں سے 12 بےنظیر آباد میں دوبارہ ابھر کر سامنے آئے، جو صوبائی حکمراں جماعت پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کا آبائی ضلع ہے۔

اس کے علاوہ 6 گروپس سکھر، 5 میرپور خاص، 3 حیدر آباد، 3 کورنگی اور 2،2 کراچی غربی، سجال اور ٹنڈو محمد خان میں دوبارہ ابھرے۔

حکام کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت نے سندھ میں کام کرنے والی کالعدم تنظیموں کے 602 افراد کو فورتھ شیڈول میں شامل کیا۔

انسداد دہشت گردی کے قانون کے مطابق وفاقی حکومت کالعدم گروپ یا تنظیم کا حصہ ہونے کے باعث کسی شخص کو کالعدم قرار دے کر اس کا نام فورتھ شیڈول میں شامل کرسکتی ہے۔

ایسے افراد کو دہشت گردی کے شبے میں (کٹیگری اے)، کسی کالعدم یا زیر مشاہدہ تنظیم سے تعلق ہونے (کٹیگری بی) اور ایسی کسی تنظیم سے جس پر دہشت گردی یا فرقہ واریت کا شبہ ہو، کسی طرح کے تعلق یا منسلک ہونے کے شبے میں (کٹیگری سی) فورتھ شیڈول میں شامل کیا جاسکتا ہے۔

فورتھ شیڈول میں شامل ایسے افراد میں سے 221 کا تعلق کالعدم سپاہ صحابہ پاکستان (ایس ایس پی) سے ہے، جن میں سے 154 کا نام کٹیگری ’اے‘ کے تحت فورتھ شیڈول میں شامل کیا گیا ہے۔

فورتھ شیڈول میں شامل دیگر افراد میں سے 4 کا تعلق خُدام الاسلام، 19 کا حرکت المجاہدین، 3 کا مہاجر قومی موومنٹ حقیقی، 10 کا پاکستان سنی تحریک، 39 کا سپاہ محمد پاکستان، 41 کا لشکر جھنگوی اور 12 کا لشکر طیبہ سے تعلق پایا گیا۔

اسی طرح 32 کو جیش محمد، 5 کو جنداللہ، 10 کو جماعت الدعوۃ، 27 کو تحریک طالبان پاکستان، 3 کو جئے سندھ متحدہ محاذ، 20 کو تحریک جعفریہ پاکستان، ایک کو لیاری گینگ، ایک کو حزب التحریر، 8 کو اہل سنت والجماعت، 3 کو القاعدہ، جہادیوں کی کٹیگری میں شامل 18 افراد اور تمام فرقوں سے تعلق رکھنے والے 120 مشتبہ افراد کو فورتھ شیڈول میں شامل کیا گیا۔

ان 602 افراد میں سے 444 کو کٹیگری اے، 115 کو کٹیگری بی اور 43 کو کٹیگری سی کے تحت اس فہرست میں شامل کیا گیا۔

ان افراد میں سے 395 کراچی، 65 سکھر، 55 حیدر آباد، 32 بےنظیر آباد، 46 لاڑکانہ اور 9 میرپور خاص ڈویژن میں رہائش پذیر ہیں۔

فورتھ شیڈول میں شامل ان افراد کے خلاف کارروائی کے حوالے سے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان 602 افراد میں سے 28 ملزمان کو 48 مختلف مقدمات میں گرفتار کیا جاچکا ہے۔

ان مقدمات میں سے 29 کراچی، 8 حیدر آباد، 6 سکھر، 4 بےنظیر آباد اور ایک میرپور خاص میں درج کیا گیا، جبکہ لاڑکانہ میں کوئی مقدمہ درج نہیں ہوا۔

حالیہ دنوں میں وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے سندھ میں کالعدم گروپوں کے نام بدل کر دوبارہ ابھرنے کے حوالے سے رپورٹس پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو ان گروپوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹنے کا حکم دیا تھا۔

حکام کے مطابق وزیر اعلیٰ نے محکمہ داخلہ سے کہا تھا کہ ایسے گروپوں کو ان کی سرگرمیاں جاری رکھنے کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے۔

    تازہ ترین خبریں