یورپی یونین اور جرمنی کے سفیروں کی تاکید؛

پاکستان مذہب کی آزادی، خواتین، بچوں اور اقلیت کے حقوق پر توجہ دے

خبر کا کوڈ: 1262311 خدمت: پاکستان
یورپی یونین

پاکستان میں تعینات جرمنی کی خاتون سفیر اور یورپی یونین کے سفیر نے حکومت پاکستان پر زور دیا ہے کہ یورپی یونین میں جی ایس پی پلس حیثیت کے لئے قواعد و ضوابط کے تحت حقوق انسانی کی صورتحال بہتر بنائے اور خاص طور پر بچوں، خواتین اور اقلیت سے تعلق رکھنے والے شہریوں کے انسانی حقوق اور مذہب و عقیدے کی آزادی پر خاص طور سے دھیان دے۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق، پاکستا ن کے دارالحکومت میں ڈیموکریسی رپورٹنگ انٹرنیشنل کی قومی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جرمنی کی خاتون سفیر اینا لیپل نے کہا ہے کہ انسانی حقوق کے شعبے میں پاکستان میں کچھ بہتری ضرور ہوئی ہے تاہم ابھی بہت سے چیلنجز درپیش ہیں، مثال کے طور پر خواتین، بچوں اور اقلیت کے ں حقوق۔

انہوں نے کہا کہ جی ایس پی پلس حیثیت کے لئے پاکستان پابند ہے کہ وہ انسانی حقوق سے متعلق فرائض انجام دے اور اس کے علاوہ بھی پاکستان انسانی حقوق کے عالمی قوانین کو باضابطہ تسلیم کرنے والا ملک ہے، ان کنوینشنز پر بھی پاکستان کو عمل کرنا چاہیے اور اس سلسلے میں جرمنی کی حکومت ان کی مدد کرے گی۔

اس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے یورپی یونین کے سفیر ژاں فرانسواں کاؤٹین نے کہا کہ جی ایس پی پلس حیثیت در اصل پاکستان کے لئے ایک موقع ہے کہ وہ عوام کی زندگی کو بہتر بنانے کے لئے اقتصادی و سماجی ترقی کو فروغ دے۔

انہوں نے حکومت کی جانب سے اصلاحات متعارف کروانے اور ٹریٹی امپلی مینٹیشن سیل قائم کرنے کے عمل کو سراہتے ہوئے کہا کہ اگلے سال پاکستان کی صورتحال کا میعادی جائزہ لیا جائے گا جبکہ سال 2018ء میں جی ایس پی پلس کا باقاعدہ جائزہ لیا جائے گا لہٰذا پاکستان کی حکومت انصاف تک رسائی کو ممکن بنائے، موت کی سزا کو ختم کرے، اور مذہب و عقیدے کی آزادی کو یقینی بناتے ہوئے خواتین اور بچوں کے حقوق کے حوالے سے مزید اقدامات کرے۔

اس کانفرنس میں پاکستان کے اٹارنی جنرل اشتر اوصاف علی کا بیان بھی پڑھ کر سنایا گیا۔

ان کے بیان کے مطابق، حکومت نے انسانی حقوق پر منصوبہ عمل بنایا ہے۔ اس ضمن میں غیرت کے نام پر قتل اور زنا بالجبر کے خلاف قانونسازی بھی کی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت حقوق انسانی سے متعلق تمام قوانین پر عمل کرے گی۔

سینیٹ کی مجلس عمل برائے حقوق انسانی کی سربراہ سینیٹر نسرین جلیل نے کانفرنس سے خطاب کے دوران یقین دلایا کہ اس کانفرنس کی سفارشات کی حمایت میں سینیٹ میں بھی اپنا کردار ادا کریں گی۔

اس موقع پر میزبان تنظیم کے ملکی مسؤل برائے پاکستان حسن ناصر میر بحر نے بھی خطاب کیا اور حکومت کے منصوبہ عمل کی تعریف کی۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری