امریکی کانگریس کی پاکستان کو فنڈز کی مشروط اجازت

خبر کا کوڈ: 1263203 خدمت: پاکستان
اوباما و نواز شریف

امریکی کانگریس کے تمام چیمبرز نے بالآخر افغانستان میں امریکی افواج کے آپریشنز کے لیے ایک ارب 10 کروڑ امریکی ڈالر کے فنڈز کی امداد سمیت نیشنل ڈیفینس آتھرائزیشن ایکٹ (این ڈی اے اے) 2017 کی منطوری دے دی۔

خبر رساں ادارے تسنیم نے ڈان نیوز سے نقل کیا ہے کہ امریکی کانگریس کے تمام چیمبرز نے بالآخر افغانستان میں امریکی افواج کے آپریشنز کے لیے ایک ارب 10 کروڑ امریکی ڈالر کے فنڈز کی امداد سمیت نیشنل ڈیفینس آتھرائزیشن ایکٹ (این ڈی اے اے) 2017 کی منطوری دے دی۔

بل کی منظوری کے تحت پاکستان کو کولیشن سپورٹ فنڈ کی مد میں امریکا کی جانب سے ملنے والے 900 ملین ڈالرز میں سے نصف یعنی 400 ملین ڈالرز کی فراہمی امریکی وزیر دفاع کی جانب سے 'بہترین طرزعمل کا سرٹیفکیٹ' حاصل کرنے سے مشروط کردی گئی ہے۔

یعنی اسکول کے بچوں کو استاد کی جانب سے سزا دیئے جانے کی طرح پہلے امریکی وزیر دفاع اس بات کی تصدیق کریں گے کہ آیا پاکستان نے حقانی گروپ کے خلاف کارروائی کی ہے یا نہیں؟

بل میں یہ بھی شامل کیا گیا ہے کہ 'امریکی کانگریس ڈاکٹر شکیل آفریدی کوعالمی ہیرو کے طور پر دیکھتی ہے، اس لیے حکومت پاکستان انہیں جلد آزاد کرے'۔

خیال رہے کہ اسامہ بن لادن کی تلاش میں امریکی فوج کی مدد کرنے کے بعد مغربی دنیا میں ڈاکٹر شکیل آفریدی کو اچھا انسان تسلیم کیا جاتا ہے، خصوصاً امریکا انھیں ایک ہیرو کا درجہ دیتا ہے۔

بل کو امریکی سینیٹ کے 92 ووٹوں میں سے 7 جب کہ ایوان نمائندگان کے 375 میں سے صرف 34 ووٹ ملے، بل کی منظوری کے بعد اسے صدر کے دستخط کے لیے وائٹ ہاؤس بھیجا جائے گا، براک اوباما کے دستخط کے بعد بل قانون بن جائے گا۔

بل کے تحت پاکستان پر فنڈز حاصل کرنے کے لیے 4 شرائط لگائی گئی ہیں۔

امریکی وزیر دفاع امریکی کانگریس کو اس بات کی یقین دہانی کروائیں گے کہ پاکستان حقانی نیٹ ورک کی محفوظ پناہ گاہوں اور اس کی آزادی کو ختم کرنے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔

وزیر دفاع امریکی کانگریس کو اس بات کی تصدیق کریں گے کہ پاکستان نے اپنی سر زمین کو دہشت گرد گروپوں کے استعمال سے پاک کرنے کے لیے اقدامات کیے ہیں۔

ساتھ ہی وہ اس بات کی بھی تصدیق کریں گے کہ پاکستان اپنی سرحد پر حقانی نیٹ ورک سمیت دیگر دہشت گرد گروپوں کی نقل و حرکت روکنے کے لیے افغانستان کے ساتھ تعاون کر رہا ہے۔

پاکستان کو امداد ی رقم کے حصول کی غرض سے 'سرٹیفکیٹ' حاصل کرنے کے لیے حقانی نیٹ ورک گروپ کے سینئر اور دیگر رہنماؤں کو گرفتار اور ان کو سزائیں دینے سمیت ان کے خلاف آپریشن کرنے پڑیں گے۔

یاد رہے کہ رواں مالی 2016 میں، جس کا اختتام اکتوبر میں ہوا، امریکی وزیر دفاع ایشٹن کارٹرنے پاکستان کے لیے اس طرح کے سرٹیفکیٹ بنانے سے انکار کردیا تھا، جس وجہ سے پاکستان کو 300 ملین امریکی ڈالر کی رقم حاصل نہیں ہوئی تھی۔

امریکی سینیٹ کی کمیٹی برائے آرمڈ سروسز کے چیئرمین سینیٹر جان مکین کے مطابق امریکا این ڈی اے اے ایکٹ 2017 کے تحت قومی سلامتی کے لیے دوبارہ پاکستان پر توجہ دینا چاہتا ہے اور امریکی وزیر دفاع اس بات کی تصدیق کریں گے پاکستان حقانی نیٹ ورک کو اپنی زمین استعمال نہیں کرنے دے رہا اور ان کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔

    تازہ ترین خبریں