ایرانی فلمیں نہ صرف ہمارے عوام کو پسند آئیں گی بلکہ پاکستان فلم انڈسٹری پر بھی اثرانداز ہوں گی


ایگزیکٹو ڈائریکٹر لوک ورثہ اسلام آباد نے پاک ایران کے ثقافتی رشتوں کو مزید تقویت دینے پر تاکید کرتے ہوئے ایرانی سینما کو پاکستان میں خوش آمدید کہا اور اعتراف کیا کہ ایران کی حقیقت پسندانہ انداز میں دکھائی جانے والی فلمیں نہ صرف ہمارے عوام کو پسند آئیں گی بلکہ پاکستان فلم انڈسٹری پر بھی ان کا اثر بہت اچھا پڑے گا۔

ایگزیکٹو ڈائریکٹر لوک ورثہ اسلام آباد ڈاکٹر فوزیہ سعید کی خبر رساں ادارے تسنیم کے نمائندے کے ساتھ خصوصی بات چیت قارئیں کی خدمت میں پیش کی جاتی ہے:

تسنیم نیوز: ہم دیکھتے ہیں کہ ایران اور پاکستان کے مابین مختلف طرح کے ثقافتی تبادلوں کے پروگرام کے معاہدوں پر دستخط ہوئے، جن کے ثمرات سامنے آنا شروع ہوئے ہیں، جن میں ایرانی فلموں کا پاکستان سینماؤں میں دکھائے جانے کا پروگرام بھی شامل ہے، اس حوالے سے ہمارے قارئین کو آگاہ فرمائیں؟

ڈاکٹر فوزیہ سعید: میں سمجھتی ہوں کہ بہت اچھا آئیڈیا ہے، میرا تو بہت دل چاہتا ہے کہ پاکستانی پبلک خاص طور پر ہمارا جوان طبقہ، انہیں انٹرنیشنل سینما سے روشناس کرایا جائے، اسی خیال کو ذہن میں رکھتے ہوئے ہم نے لوک ورثہ کے پلیٹ فارم پر ایک اقدام اٹھایا، منڈوا کے نام سے ایک فلم کلب شروع کیا گیا، جس میں ایک ہفتے دیسی کلاسیکل دکھاتے ہیں اور دوسرے ہفتے انٹرنیشنل فلمیں دکھاتے ہیں جن میں اٹالین، پرتگالی، اسپینش، فرنچ اور دوسری بہت سے فلمیں دکھاتے ہیں، لیکن ان سب میں، جو سب سے زیادہ اثر کرنے والی فلمیں رہیں وہ ایرانی فلمیں ہیں، اس فلم بینی کلب میں بہت بڑی تعداد میں شائقین آتے ہیں، جب کبھی ہم نے ایرانی فلم دکھائی لوگ بہت ذوق و شوق سے دیکھتے ہیں، وہاں سے ہلتے نہیں ہیں، فلم دیکھنے کے بعد اس پر تبادلہ خیال کرتے ہیں، باتیں کرتے ہیں، اور میں سمجھتی ہوں کہ ایک تو ایرانیوں نے فلم آرٹ میں بہت ترقی کی ہے اور اسے ایک عالمی معیار پر لائے ہیں، دوسری بات یہ ہے کہ ایرانی فلموں کی ہماری ثقافت سے اتنی جڑت ہے کہ لوگ انہیں بہت پسند کریں گے، تو ایرانی فلمز کا پاکستان سینماؤں میں شروع ہونا بہت خوش آئند بات ہے۔

تسنیم نیوز:ایران اور پاکستان دو پڑوسی ممالک ہونے کے ساتھ ساتھ ہم مذہب اور ثقافتی اعتبار سے بھی کئی رشتوں میں جڑے ہوئے ہیں، بہت سی قدریں مشترک ہیں، تو کیا ایرانی فلموں کو پاکستان میں خوش آمدید کہا جائے گا؟

ڈاکٹر فوزیہ سعید: دیکھیں جتنی ایرانی فلمیں میں نے دیکھی ہیں، خاص طور پر مجید مجیدی کی جو بہت ہی نامور فلم ڈائریکٹر ہیں، ان کی جتنی فلمیں ہیں ان پر اگر آپ غور کریں تو رشتوں کے گرد گھومتی ہیں، باپ ہے، بیٹا ہے، باپ بیٹے کو آگے بڑھانا چاہتا ہے، اس کو آگے لیکے جانا چاہ رہا ہے، یا کوئی نابینا انسان ہے، اس کی زندگی پر ہوگی، یا ابھی ہم نے فلم کلب میں کلرز آف پیراڈائز دکھائی ہے، سانگز آف سپیرو دکھائی ہے، جس میں ایک چھوٹا بچہ ہے، جس کو اتنا دکھتا نہیں ہے، اس کو چڑیا کی آواز آتی ہے، اب اس کا مشن یہ ہے کہ چڑیا کا بچہ جو گھونسلے سے گر گیا ہے، اس کو واپس اس نے اس کے گھونسلے میں ڈالنا ہے، طرح طرح کے اس کو چیلنجز ہیں، آپ دیکھتے ہیں کہ کوئی اس میں شوخی نہیں ہے، بناوٹ نہیں ہے، نہ ہی چھ چھ گاڑیاں اور چار چار ہیلی کاپٹر برباد نہیں ہوتے، بلکہ ایک سکول ہے، بچے کو اس کا باپ لینے نہیں آتا، سارے بچے چلے گئے ہیں، وہ اکیلا رہ گیا ہے، اب اس کی کوشش ہے کہ وہ چڑیا کے بچے کو گھونسلے میں ڈال دے، وہ دو دن وہاں رہتا ہے اس کا باپ اسے لینے نہیں آتا، یہ تمام ایسی چیزیں ہیں جو ہمارے شائقین کو ایک دم مائل کر لیں گی، ہمارے لوگ ایکشن اور تھریلر موویز بنانے کی کوشش کر رہے ہیں، ہمیں بھی رشتوں کی کہانیاں اچھی لگتی ہیں، وہ بھی اگر مثبت رنگ سے ہوں جیسے ایرانی فلموں میں ہوتی ہیں، بڑے حقیقت پسندانہ انداز میں دکھائی جاتی ہیں، ایک زمانے میں بنگلہ دیش کی جو موویز آیا کرتی تھیں، جب ڈھاکہ میں فلم انڈسٹری شروع ہوئی تھی، اس میں جو ایک سادگی خوبصورتی اور رشتے دکھائے جاتے تھے، ایرانی فلمیں اسی انداز میں اور ان سے زیادہ ایڈوانس ہیں، ان میں سادگی ہے اور کم خرچ پر بن جاتی ہیں، اور کم خرچ کی وجہ سے انسان اس میں زیادہ محنت کرتا ہے، انہیں تخلیقی بناتا ہے، انہیں خوبصورت بناتا ہے، یہ فلموں کی کہانیاں بہت واضح، ٹھیک ٹھیک اور گہرائی والی ہیں۔ میں سمجھتی ہوں ایرانی فلمز نہ صرف ہمارے لوگوں کو پسند آئیں گے بلکہ ہماری فلم انڈسٹری پر بھی ان کا اثر بہت اچھا پڑے گا۔

تسنیم نیوز: بیشتر ایرانی فلمیں چونکہ فارسی میں ہوتی ہیں، تو ناظرین کے لئے آپ کیا تجویز کریں گے، کہ انہیں سب ٹائٹلنگ کے ساتھ بنایا جائے یا ڈبنگ کی جائے، کونسا طریقہ زیادہ مناسب رہے گا؟

ڈاکٹر فوزیہ سعید: میں سمجھتی ہوں کہ ڈبنگ ہو تو سب سے اچھی بات ہے، میں نے جو ابھی تک دیکھی ہیں وہ انگلش سب ٹائٹل کے ساتھ دیکھی ہیں، پہلی بات یہ ہے کہ ہمارے لوگ اتنے پڑھنے میں دلچسپی نہیں لیتے، پھر فلم ویسے میڈیم ہی ایسا جو آنکھوں سے دیکھنے والا ہے، اور کانوں سے سننے کا ہے، تو بعض اوقات جب آپ پڑھنے میں مگن ہوتے ہیں تو فلم میں دکھائے جانے والے سین آپ سے رہ جاتے ہیں، ڈبنگ مشکل کام نہیں ہے، ایرانی فلمیں میرے خیال میں کافی زبانوں میںن ڈب ہو چکی ہیں، اردو میں انہیں ڈب کرنا مشکل کام نہیں ہے، تو ڈبنگ زیادہ بہتر رہے گا۔

تسنیم نیوز:فلم پروڈکشن کے شعبے میں ایران نے دنیا میں نام کمایا ہے، کیا آپ اس حوالے سے رائے دینا چاہیں گی کہ پاک ایران فلم پروڈکشن کے شعبہ جات ایک دوسرے کے تجربات سے سیکھیں، فلم پروڈکشن سے تعلق رکھنے والے طلباء کے تبادلے ہوں؟

ڈاکٹر فوزیہ سعید: میں سمجھتی ہوں کہ بہت اچھا آئیڈیا ہے، کچھ عرصہ قبل میں خود ایران گئی تھی، وہاں ایک انٹرنیشنل میوزیکل فیسٹیول تھا، پوری دنیا سے میوزیکل گروپس آئے ہوئے تھے، تہران شہر میں ایک طرح سے میلہ لگا ہوا تھا، بڑے بڑے ہالز میں بیک وقت پروگرام چل رہے تھے، قوالی کے پروگرام تھے، انڈیا سے بھی لوگ آئے ہوئے تھے، ہمارے ملک سے بھی گروپ گیا تھا، اس طرح سے پروفیشنلز اور یوتھ کے درمیان ایکسچینج بہت اچھا ہوتا ہے، کئی ایسی چیزیں ہیں جو ایرانی سینما ہم سے سیکھے گا، ہم میوزک میں بہت ایڈوانس ہیں، سٹوری کے پیس میں ہم ایڈوانس ہیں، ایرانی فلموں میں فلسفہ کو گہرائی میں بیان کیا جاتا ہے، یہ انہی کا کمال ہے، بہت خوبصورتی اور نفاست سے یہ کام کیا جاتا ہے، تو یہ بہت اچھی بات ہے ہم ایک دوسرے سے سیکھیں گے۔ میرے خیال میں پاکستان کو اردگرد کے ممالک کے کلچرز کو بخوبی دیکھنا چاہیے اور انٹرنیشنل سین میں جم کے رہنا چاہیے۔

تسنیم نیوز: لوک ورثہ میں بھی کلچرل ایکسچینج کے حوالہ سے پروگرام ہو رہا ہے، ایران شناسی کارنر قائم کیا جارہا ہے، اس حوالے سے ہمارے قارئین کو آگاہ کیجئے؟

ڈاکٹر فوزیہ سعید:پاکستان میں موجود ایرانی کلچرل قونصلرز اور حکام کے ساتھ لوک ورثہ رابطے میں رہتا ہے، وہ آتے رہتے ہیں، ایرانی فلم فیسٹول پر بات چل رہی ہے، ہم نے اپنے میوزیم میں کئی ان تہذیبوں کو جگہ دی ہے جن کا ہماری زبان، لباس، دستکاریوں پر گہرا اثر ہے، لوک ورثہ میں ان ممالک کی نمائش بھی موجود ہے جن کی ثقافت ہم سے جڑی ہوئی ہے۔ اس نمائش میں بڑا حصہ ایران کا ہے، جس کا جلد افتتاح ہوگا۔

تسنیم نیوز:آخر میں ایران کی ثقافت بارے اور ایرانی آرٹسٹوں کو کیا پیغام دینا چاہیں گی؟

ڈاکٹر فوزیہ سعید: میں یہ کہنا چاہوں گی کہ ایران کی تہذیب کی جڑیں بہت گہری ہیں، ہم سے بھی زیادہ، ہماری تہذیب بھی ہزاروں سال پرانی ہے، بہت سی چیزیں ایسی ہیں جو وہاں سے یہاں سفر کرتی آئی ہیں، ساؤتھ ایشیا میں آئیں، ہم ان کے ساتھ ربط قائم کرکے بہت خوشی اور مسرت محسوس کرتے ہیں۔ ثقافتی تبادلوں کے پروگرام دونوں ممالک کے لئے سود مند ہیں، دونوں طرف کے لوگ سیکھتے ہیں، دونوں طرف کی خاص چیزیں لی جاتی ہیں، تو میں ان کے آرٹسٹ کو کہتی ہوں کہ یہاں آئیں، اور ہمارے لوگ بھی وہاں جائیں، کچھ سیکھیں گے کچھ سکھائیں گے، اسی طرح یہ رشتے آگے بڑھنے چاہیے۔