آل سعود کو ایران کے خلاف تمام محاذوں پر زبردست شکست، برطانوی جریدے کا دعویٰ

خبر کا کوڈ: 1263632 خدمت: ایران
ایران و عربستان

برطانوی جریدے نے لکھا ہے کہ سعودی عرب نے گزشتہ ایک سال سے ایران کے خلاف سخت موقف اختیار کیا ہوا ہے لیکن اسے ایران کے مقابلے میں شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

تسنیم خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق، اکانومسٹ جریدے نے ریاض کی خارجہ پالیسی کے متعلق ایک یادداشت میں لکھا ہے کہ سعودی عرب نے گزشتہ ایک سال سے ایران کے خلاف سخت جارحانہ موقف اختیار کیا ہوا ہے لیکن آل سعود کو عراق، شام، یمن اور لبنان میں زبردست شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

سعودی عرب کو تیل کے میدان میں بھی سنگین شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے اور سعودی عرب کے سوچ کے خلاف ایران کے بجائے خود سعودی کو زیادہ نقصان پہنچا ہے۔

برطانوی جریدے نےلکھا ہے کہ سعودی بادشاہ کے جانشین (ولیعہد) محمد بن سلمان (جس نے ملک کی باگ ڈور سنبھالی ہوئی ہے) نے خطے کے بعض ممالک کے خلاف نہایت سخت جارحانہ پالیسی اپنانےکا اعلان کیا تھا۔

جریدے نے شام اور لبنان کی سیاست کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ سعودی ولیعہد نے شام میں کھل کر اسد حکومت کے مخالفین کی حمایت کی اور لبنان میں حزب اللہ کے حمایت یافتہ صدر کو شکست دینے کی سرتوڑ کوششیں کیں لیکن دونوں محاذوں پر شرمندگی کے سوا کچھ نہ مل سکا۔

جریدے نے مزید لکھا ہے کہ، سعودی عرب نے یمن میں حوثیوں کے خلاف باقاعدہ جنگ کا آغاز یہ کہہ کر کیا تھا کہ چند دنوں کے اندر ہی یمن پر قبضہ کرکے معزول صدر کو واپس اقتدار پہ بٹھایا جائے گا لیکن اتنا عرصہ گزرنے کے بعد بھی سوائے مایوسی کے انہیں کچھ نہیں ملا ہے۔

سعودی عرب نے ایران کو نقصان پہنچانے کی خاطر بین الاقوامی منڈی میں تیل کی قیمتوں کو نہایت کم کرنے کی کوشش کی تاکہ ایران کو اقتصادی طور پر کمزور کرکے مجبور کروایا جاسکے، آل سعود کا خیال تھا کہ اس طریقے سے ایران دیوالیہ ہوجائے گا۔ لیکن اس حربے میں بھی سعودی عرب کو شکست کا سامنا ہوا۔

اکانومسٹ جریدے کے یادداشت کے مطابق، سعودی عرب کے جوان شہزادے نے عراق میں ایک خاص منصوبے کے تحت 25 سال کے بعد اپنا سفیر متعین کیا۔

واضح رہے کہ محمد بن سلمان بغداد میں سفیر متعین کرکے عراق پر اپنا اثر و رسوخ بڑھاکر ایران کو میدان سے باہر کرنا چاہتا تھا، تاہم اس میں بھی ان کو ناکامی کے سوا کچھ نہ مل سکا۔

اکانومسٹ نے یادداشت میں مزید لکھا ہے کہ، اب 2016 ختم نہیں ہوا ہے لیکن سعودی عرب ایران کے ساتھ تمام محاذوں پر شکست سے دوچار ہوتے ہوئے دکھائی دے رہا ہے۔

سعودی عرب کو عراق سے اپنا سفیر واپس بلانے پر مجبور کیا گیا کیونکہ عراق نے سعودی سفیر کو ناپسندیدہ قرار دیا تھا اور عراقی شیعوں کے خلاف زبان دارزی کرنے پر آل سعود سے کہا تھا کہ موجودہ سفیر کو تبدیل کردیا جائے جو کہ سعودی عرب کو آخر کار ایسا ہی کرنا پڑا تو یہ امر بھی سعودی کے لئے ایک زبردست شکست کے طور پر سامنے آیا۔

شام میں آل سعود کی تمام تر کوششیں ناکام ہوئی ہیں اور شام حکومت نے ایران اور روس کی مدد سے مخالفین کے قبضے سے تمام علاقے واپس لئے ہیں اور شام کا دوسرا بڑا شہر حلب بھی مخالفین کے ہاتھوں سے نکل چکا ہے۔

سعودی عرب، لبنان میں ایک ایسے صدر کی حمایت کرنے پر مجبور ہوا ہے جو کہ ایران کے ساتھ نہایت قریبی تعلقات رکھتے ہیں اور حزب اللہ کی حمایت سے ہی صدارتی محل تک جا پہنچا ہے۔

یمن میں بھی انصاراللہ نے سعودی عرب کے اتحادی فوج کے سامنے ہتھیار نہ ڈالنے کا عہد کر لیا ہے اور سعودی فوج کو کسی بھی صورت میں ناکام بنانے کا عزم کیا ہوا ہے اور اب وہ اپنے اس عزم میں کامیاب نظر آرہے ہیں۔

انصاراللہ نے سعودی عرب کی سرحدوں کے اندر حملے کرکے سعودی فوج کو پریشانی میں ڈال دیا ہے اور سعودی عرب کے خوابوں پر پانی پھیر دیا ہے۔

برطانوی جریدے نے ایران کے ایک اعلیٰ اہلکار کے بیان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھا ہے: ایرانی اہلکار کے بقول یمن اب سعودی عرب کے لئے ویتنام میں تبدیل ہوچکا ہے، سعودی عرب کو یمن میں سیاسی اعتبار سے شکست سے دوچار ہونا پڑا ہے۔

العالم نے اکانومسٹ جریدے کے حوالے سے نقل کرتے ہوئے لکھا ہے کہ سعودی عرب کو ایران کے ساتھ  نہ صرف سیاسی اور فوجی میدان میں شکست کا سامنا ہے بلکہ ہر اس میدان میں شدید ناکامی ہوئی ہے جو سعودی حکام خطے کے لئے سرد جنگ کے طور پر استعمال کررہے تھے۔

اکانومسٹ نے تاکید کرتے ہوئے لکھا ہے کہ سعودی عرب خطے میں ایک سنی، شیعہ مخالف اتحاد بنانے کی کوشش کررہا تھا جس میں وہ بری طرح ناکام رہا ہے یہاں تک کہ سعودی عرب سے اس کے مصر جیسے بعض پرانے دوستوں نے بھی منہ موڑ لیا ہے۔

انگریزی جریدے نے ریاض اور قاہرہ کے درمیان تعلقات میں بھی کشیدگی کی خبر دیتے ہوئے لکھا ہے کہ قاہرہ کے تعلقات شام کےساتھ بڑھ رہے ہیں جو کہ سعودی عرب کے لئے ایک سخت دھچکا ہے۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری